تھائی لینڈ: متنازع انتخابات میں ووٹنگ مکمل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الیکشن کے لیے امیدواروں کو صحیح طریقے سے انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں مل سکا

تھائی لینڈ میں اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ اور حکومت مخالف مظاہروں کے درمیان اتوار کو پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔

پولنگ اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق آٹھ بجےشروع ہوئی اور شام تین بجے تک جاری رہی۔

حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ الیکشن کے دن بھی جاری تھا اور الیکشن کے لیے ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

مظاہروں کی وجہ سے ملک کے بڑے حصے میں پہلے ہی ہنگامی حالت نافذ ہے اور حکام کے مطابق ملک بھر میں ایک لاکھ 30 ہزار اہلکار تعینات کیے گئے جن میں سے 12 ہزار بینکاک میں تعینات تھے۔

تھائی لینڈ کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ پرادورن پتناتبوتر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’مجموعی طور پر صورتحال پرامن ہے اور صبح سے ہمیں کسی پرتشدد واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’ مظاہرین الیکشن کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے پرامن طریقے سے مظاہرے کر رہے ہیں۔‘

ان متنازع انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو صحیح طریقے سے انتخابی مہم چلانے کا موقع نہیں مل سکا اس لیے یہ واضح نہیں کہ ووٹنگ کی شرح کیسی رہے گی۔

ملک کی وزیراعظم ینگ لک شیناوترا نے بھی بینکاک میں اپنی رہائش گاہ کے قریب حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’آج کا دن اہم ہے۔ میں تھائی عوام کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ گھروں سے نکلیں اور جمہوریت کی بقا کے لیے ووٹ دیں۔‘

دارالحکومت بینکاک کے تین اضلاع سمیت ملک کے جنوبی علاقوں میں بھی پولنگ کا عمل متاثر ہوا۔ یہ تمام علاقے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی اپوزیشن کی ڈیموکریٹ پارٹی کا گڑھ ہیں۔

بینکاک میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ کچھ پولنگ مراکز میں مظاہرین نے ووٹ ڈالنے کے خواہشمند افراد کا راستہ روکا اور کچھ جگہ بیلٹ پیپر ہی پولنگ مراکز میں پہنچنے نہیں دیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کچھ پولنگ مراکز میں مظاہرین نے ووٹ ڈالنے کے خواہشمند افراد کا راستہ روکا

ووٹ ڈالنے سے محروم رہنے والے 42 سالہ یوپن پنٹونگ نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حد ہوگئی ہے۔ میں ووٹ ڈالنا چاہتا ہوں۔ مجھے تشدد کی پرواہ نہیں لیکن اگر میں ووٹ نہیں ڈال سکا تو مجھے برا لگے گا۔‘

خیال رہے کہ تھائی لینڈ میں یہ سیاسی بےچینی گذشتہ برس نومبر سے جاری ہے اور وزیرِاعظم ینگ لک شناواترا کے خلاف احتجاج کرنے والوں کا موقف ہے کہ حکومت اصل میں 2006 میں فوج کی جانب سے معزول کیے گئے سابق وزیراعظم اور موجودہ وزیرِاعظم کے بھائی تھاکسین شیناوترا ہی چلا رہے ہیں۔ تھاکسین شیناوترا اس وقت خود ساختہ جلا وطنی کاٹ رہے ہیں۔

حکومت کے مخالفین نے مطالبہ کیا تھا کہ ملکی سیاسی نظام میں تبدیلی آنے تک تمام ریاستی امور غیرمنتخب ’پیپلز کونسل‘ کے حوالے کیے جائیں تاہم وزیرِاعظم نے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کر کے دو فروری کو الیکشن کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں