اسرائیل اصل میں کتنا ’یہودی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کٹّر مسلمان تو کے تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں یہودی بھی انسان ہیں

سنہ 1948 میں اسرائیلی ریاست کے وجود میں آنے سے پہلے یافا ایک عرب اکثریتی شہر تھا لیکن اب یہاں یہودیوں کی اکثریت ہے اور مسلمانوں اور عیسائیوں کی مجموعی آبادی ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہے۔

یافا کو سنہ 1950 میں دارالحکومت تل ابیب میں شامل کر دیا گیا تھا۔

اگرچہ شہر کے زیادہ تر لوگ سیاسی گفتگو سے دور ہی رہتے ہوئے اسرائیل فلسطین امن مذاکرات پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں، لیکن اگر اصرار کیا جائے کہ وہ اسرائیلی وزیرِاعظم کے اس مطالبے پر کیا کہتے ہیں کہ اسرائیل کو ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے، تو یافا کے لوگوں کی رائے بالکل منقسم ہے۔

یافا کے ساحل کے کنارے ریستوران میں بیٹھی ہوئی جنین نامی یہودی خاتون کا کہنا تھا: ’ میرا خیال ہے کہ بی بی (بنیامین نتن یاہو) کو یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کیونکہ یہ اہم سوال ہے۔ یہ مذہبی جنگ ہے، کوئی زمین کا جھگڑا نہیں۔ کٹّر مسلمان تو تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں کہ یہودی بھی انسان ہیں اور انھیں اس ملک میں رہنے کا حق ہے۔ مغربی دنیا سوچتی ہے کہ اگر یہ سوچ ختم ہو جائے تو بہت اچھا ہوگا، لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ آپ کٹّر مسلمانوں کی اس سوچ کو ختم نہیں کر سکتے۔‘

اسرائیل کے شمالی ساحل پر آباد شہر یافا میں عرب آبادی میں یہودی اور غیر یہودی دونوں شامل ہیں۔

خاتون کے قریب ایک دوسری میز پر بیٹھے ہوئے محمد کو اسرائیلی وزیِر اعظم کے خیالات سے بالکل اتفاق نہیں تھا۔ ان کو خطرہ ہے کہ اسرائیل میں رہنے والے عربوں کی اقلیتی آبادی پر اس کے بُرے اثرات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا: ’ ہر ہفتے ہی ہم ایک نئی خبر سنتے ہیں کہ یہ ایک یہودی ریاست ہے، یہاں سے عرب آبادی کا تبادلہ ہوگا، ہمیں یہاں سے جلاوطن کر دیا جائے گا۔ لیکن ہم ایسی خبروں پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ ہم اپنی سرزمین پر ڈٹے رہیں گے۔‘

محمد کے بقول اسرائیلی وزیرِاعظم جانتے ہیں کہ یہ بات فلسطینی قبول نہیں کر سکتے، لیکن وہ فلسطینیوں پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی پرگامزن ہیں اور ’ساتھ ساتھ وہ دنیا کو یہ دکھانا چاہ رہے ہیں کہ وہ اصل میں یہ سب کچھ امن کی خاطر کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یافا کے لوگوں کی رائے بالکل منقسم ہے کہ اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کیا جائے یا نہیں

اگرچہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین بات چیت کا عمل متزلزل ہے، تاہم امید ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ جلد ہی دونوں فریقوں کو امن معاہدے کا فریم ورک یا خاکہ پیش کرنے جا رہے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مذکورہ خاکے میں غرب اردن سے مرحلہ وار اسرائیلی انخلا کے ساتھ ساتھ وادیِ اردن میں خصوصی سکیورٹی انتظامات کی تجویز شامل ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق اس امریکی خاکے کے مطابق کئی یہودی بستیوں سے مکینوں کو نہیں نکالا جائے گا بلکہ اس کے بدلے میں فلسطینیوں کو اسرئیلی علاقوں کا کچھ حصہ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ تجویز بھی ہے کہ فلسطینی ریاست کو مشرقی بیت المقدس (یروشلم) میں دارالحکومت قائم کرنے دیا جائے گا، تاہم فلسطینی مہاجرین کو اسرائیل واپس جانے کا حق نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ مذکورہ خاکے میں یہ تجویز کیا جائے گا کہ امن مذاکرات کے اختتام پر فلسطینی اسرائیل کو یہودی قوم کی ریاست کے طور پر تسلیم کریں گے۔

واضح رہے کہ وزیِراعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ایک یہودی ریاست کے طور پر تسلیم کیے جانے کی تجویز امن مذاکرات کا بنیادی جزو ہے۔ ان کے مطابق فلسطینیوں کا اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم نہ کرنا تنازعے کی جڑ ہے۔

اسی بارے میں