ترکی: انٹرنیٹ کی نگرانی کا نیا قانون منظور

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption ایک رکنِ پارلیمان نے اس مجوزہ قانون پر بحث کا آغاز وزیرِ اعظم طیب اروغان کے اقدامات کو جنگِ عظیم دوئم میں جرمنی کے سربراہ ہٹلر کے طریقے کار سے موازنہ کر کے کیا

ترکی میں پارلیمان نے ایک ایسے بل کی منظوری دی جس سے حکومت کو انٹرنیٹ پر مواد کو بلاک کرنے کا وسیع تر اختیار حاصل ہوگا۔

اس نئے قانون کے تحت ترکی میں ٹیلی کام کا نگراں ادارہ عدالتی وارنٹ کے بغیر کسی بھی ویب سائٹ کو بند کرنے کا مجاز ہوگا۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ دو سال تک صارفین کی معلومات سٹور کر کے رکھیں اور جب بھی حکام ان کا مطالبہ کریں، وہ ان کے حوالے کی جائیں۔

حزبِ اختلاف نے اس نئے قانون کو آزادئ اظہارِ رائے پر ضرب کے مترادف قرار دیا ہے۔

ترکی میں انٹرنیٹ پہلے ہی محدود ہے اور ہزاروں ویب سائٹوں کو بلاک کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم طیب اروغان کئی بار انٹرنیٹ پر تنقید کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سماجی روابط کی ویب سائٹیں معاشرے کے لیے انتہائی بری ہیں۔

گذشتہ سال حکومت مخالف مظاہروں میں احتجاجی کارکنوں نے ٹوئٹر اور فیس بک کا کافی استعمال کیا تھا۔

نئے قانون کے بارے میں پارلیمان میں کئی گھنٹوں تک بحث جاری رہی۔ ترک پارلیمان میں وزیرِاعظم کی جماعت ’انصاف اور ترقی جماعت‘ 550 میں 319 سیٹوں کے ساتھ برتری رکھتی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق، پاکستان بھی انٹرنیٹ کی آزادی سے متعلق درجہ بندی میں 2012 کے مقابلے میں 2013 میں مزید نیچے چلا گیا ہے۔ امریکی غیر سرکاری تنظیم فریڈم ہاؤس کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ ’انٹرنیٹ پر آزادی 2013‘ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جمہوری طریقے سے اقتدار کی تاریخی منتقلی کے بعد بھی حکومت نے انٹرنیٹ پر سیاسی و سماجی مواد بلاک کرنے کا عمل جاری رکھا ہے جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بظاہر نگرانی ہو رہی ہے۔

فریڈم ہاؤس کی سالانہ رپورٹ 60 ممالک میں کی گئی تحقیق پر مبنی ہے اور پاکستان سے متعلق اس رپورٹ کا باب غیر سرکاری تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن پاکستان اور فریڈم ہاؤس نے مل کر تیار کیا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال انٹرنیٹ کے معروف سرچ انجن گوگل نے کہا تھا کہ رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی دنیا کے مختلف ممالک کی طرف سے گوگل کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے تقریباً اکیس ہزار درخواستیں موصول ہوئیں اور ترکی نے انٹرنیٹ پر شائع مواد ہٹانے کے لیے سب سے زیادہ درخواستیں دیں جو اس ضمن میں سر فہرست ہے۔

اسی بارے میں