امریکہ سے روس جانے والی پروازوں پر مائع مواد ممنوع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگرد دورانِ پرواز دھماکہ خیز مواد تیار کر کے بم بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں

امریکی حکومت نے روس جانے والی تمام پروازوں پر جہاز میں مسافروں کے ’کیری آن‘ سامان میں مائع مواد کو ممنوع قرار دیا ہے۔

امریکہ کی داخلی سلامتی کے محکمے کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا ہے جب روس میں بحیرۂ اسود کے تفریحی مقام سوچی میں سرمائی اولمپکس منعقد ہو رہے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل امریکہ نے روس کے لیے براہِ راست پروازیں چلانے والی فضائی کمپنیوں کو ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب میں دھماکہ خیز مواد چھپا کر طیارے پر لے جانے کے امکانات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

ادھر روس نے گذشتہ ماہ اپنی اندرونی پروازوں میں ہر قسم کے مائع مواد اور ٹوتھ پیسٹ یا جیل لے جانے پر پابندی لگائی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد دورانِ پرواز دھماکہ خیز مواد تیار کر کے بم بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

سوچی میں موسمِ سرما کے اولمپکس کھیلوں کا باقاعدہ آغاز جمعے سے ہونا ہے لیکن کچھ کھیلوں کے ابتدائی مقابلے شروع ہو چکے ہیں۔

جمعرات کو امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ ان کھیلوں پر ممکنہ دہشت گردی کے واقعات کو دنیا بھر میں روکنے میں روسی مفاد شامل ہے۔

انہوں نے ٹی وی چینل این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکنہ کوشش کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سوچی میں ان اولمپک مقابلوں کے موقعے پر سکیورٹی کے سخت ترین اقدامات کیے گئے ہیں

نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ دھماکہ خیز مواد سمگل کرنے کے لیے ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوبیں استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے طیارے میں یا پھر اولمپکس کے مقام پر پہنچ کر بم تیار کیا جا سکتا ہے۔

داخلی سلامتی کے امریکی محکمے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’وہ تنبیہی نقطۂ نظر سے باقاعدگی سے داخلی اور خارجی ساتھیوں سے متعلقہ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔‘

گذشتہ ماہ ولگوگراد میں دو خودکش حملوں اور قفقاز سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے بعد سوچی میں سرمائی اولمپکس کی سکیورٹی کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا تھا۔

امریکہ نے اپنے دو جنگی بحری جہازوں کو بحیرۂ اسود میں تیار حالت میں رکھا ہوا ہے تاکہ کسی ہنگامی حالت میں ان سے مدد لی جا سکے۔

تاہم ان کھیلوں کے حوالے سے سکیورٹی ہی واحد مسئلہ نہیں رہی ہے۔ گذشتہ سال روس منظور کیے جانے والے ہم جنس پرستی مخالف قوانین بھی بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے سوچی میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے ایک اجلاس میں اپنے افتتاحی خطاب میں بھی اس کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کھیل میں وہ منفرد صلاحیت ہے کہ وہ لوگوں کو متحد کر دے۔‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہم جنس پرستوں کے خلاف ہونے والے حملوں کے خلاف اپنی آواز اٹھانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہم جنس پرستوں کی گرفتاری اور ان کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی مخالفت کرنی چاہیے۔

اسی بارے میں