چین اپنی ملکیت کے دعووں کی وضاحت کرے: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چینی جہاز جنوبی بحیرۂ چین کی متنازع حدود میں گشت کر رہا ہے

امریکہ کے ایک سینیئر سفارت کار نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ جنوبی بحیرۂ چین میں اپنی دعویداری کی وضاحت کرے یا پھر اسے بین الاقوامی قوانین کے مطابق بنائے۔

امریکہ کے مشرقی ایشیا کے لیے نائب سیکریٹری خارجہ ڈینیئل رسل نے بیجنگ کے ’نائن ڈیش لائن‘ جس میں ان کے دعووں کی تفصیل بتائی گئی ہے، تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’چین کے طرزِ عمل سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

چین کی ’نائن ڈیش لائن‘ اس کے جنوبی صوبہ ہنان کے جنوب اور مشرق تک سینکڑوں میل کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے۔ جنوری میں صوبہ ہنان نے ایک نیا قانون بنایا تھا جس کے تحت غیر ملکی جہازوں کو مچھلی کے شکار کے لیے صوبے کے پانی، بشمول وہ متنازع سمندری علاقے جن پر چین کا دعویٰ ہے، داخل ہونے کے لیے ان سے اجازت لینے پڑے گی۔

فلپائن نے ان قوانین پر خدشات کا اظہار کیا ہے جبکہ ویت نام اور تائیوان نے ان قوانین کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

امریکی نائب سیکریٹری خارجہ ڈینیئل رسل نے کہا کہ ’جنوبی بحیرۂ چین میں چین کے رویے پر خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اس سے لگتا ہے کہ وہ پڑوسیوں کے اعتراضات کے باوجود اس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چین کی طرف سے سمندری حقوق کے دعوے جس کی دعویداری زمین کی بنیاد پر نہ ہوں، بین الاقوامی قوانین کے مطابق نہیں ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چین اپنےدعووں کی وضاحت کرے یا انھیں بین الاقوامی قوانین کے مطابق کر کے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔‘

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں علاقائی تنازعات میں کسی کی حمایت نہیں کرتا۔ تاہم رسل نے کہا کہ فلپائن اس مسئلے کے پرامن کے لیے اپنے تنازعے کو اقوامِ متحدہ لے جانے کی حق رکھتا ہے۔

مشرقی بحیرۂ چین میں چین کی طرف سے نئی دفاعی فضائی حد بندی کے تعین کی وجہ سے پہلے ہی سے خطے میں تناؤ ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی بحیرۂ چین میں مختلف ممالک کی طرف سے دعووں کی وجہ سے کشیدگی کی تازہ لہر کا خدشہ ہے۔

اس خطے میں چین، فلپائن، برونائی، ملیشیا، ویت نام اور تائیوان متنازع جزائر پر ملکیت کے دعویدار ہیں۔

اسی بارے میں