نام میں ’ستان‘ سے سیاح اور سرمایہ کار نہیں آتے

قزاکستان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قزاکستان میں پہلے بھی مقامات کے نام تبدیل کیے گئے ہیں

قزاقستان کے صدر نور سلطان نذربایوو نے ملک کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک کے نام کے آخر میں آنے والا ’ستان‘ سرمایہ کاروں اور سیاحوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

قزاقستان کے صدر نور سلطان نذربایوو نے ملک کے لیے نیا نام ’قزاک ایلی‘ یا ’قزاک نیشن‘ تجویز کیا ہے۔

یوریشین نیٹ نامی ویب سائٹ کے مطابق دانشوروں کی ایک تقریب میں صدر نے کہا کہ ’ غیر ملکی منگولیا میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جس کی آبادی محض بیس لاکھ ہے۔ اور اس کے نام میں ’ستان‘ کا لاحقہ بھی نہیں ہے۔‘

وسائل سے بھرپور یہ ملک پہلے بھی نام کی تبدیلی کے کئی مراحل سے گذر چکا ہے۔

سنہ 1993 میں اس کا دارالحکومت ’المااتے‘ تبدیل ہو کر ’الماتی‘ بنا۔ اس کے چار سال بعد ملک کا دارالحکومت تبدیل ہو کر ملک کے دوسرے حصے میں ’اکمولا‘ منتقل کر دیا گیا۔

اور آگے چل کر سنہ 1998 میں اس شہر کا نام بدل کا ’آستانہ‘ رکھ دیا گیا۔

تاہم صدر نذربایوو نے کہا ہے کہ قزاقستان کے نام میں تبدیلی کی توقع بہت جلد نہ کی جائے۔

سنہ 1991 میں سویت یونین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ملک کے سربراہ نذربایوو نے واضح کیا کہ ایسی کوئی بھی تبدیلی عوام سے رائے لینے کے بعد ہی کی جائے گی۔

اسی بارے میں