جرمنی: یوکرائن بحران، انگیلا میرکل کی امریکہ پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وکٹوریہ نولنڈ اور امریکی سفیر کے درمیان ہونے والی گفتگو جمعرات کو یو ٹیوب پر جاری کی گئی تھی

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ایک امریکی اہل کار کی جانب سے یوکرائن کے بحران کے دوران ثالثی کی کوششوں میں ناکامی کا بیان یورپی یونین کی توہین کے مترادف ہے جسے کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

جرمن حکومت کی خاتون ترجمان کرسٹین ورٹس کا کہنا تھا کہ چانسلر انگیلا میرکل یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کی جانب سے یوکرائن کے بحران کو ختم کرنے والی کوششوں کی مکمل حمایت کرتی ہیں۔

کرسٹین ورٹس کے مطابق چانسلر میرکل نے امریکی اہل کار کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیتھرین ایشٹن یوکرائن کے بحران کے خاتمے کے لیے بہت عمدہ کام کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ وکٹوریہ نولنڈ اور امریکی سفیر کے درمیان ہونے والی گفتگو جمعرات کو یو ٹیوب پر جاری کی گئی تھی۔

ادھر امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولنڈ نے یوکرائن میں امریکی سفیر کے ساتھ گفتگو میں یورپی یونین کے کردار کے بارے میں توہین آمیز تبصرے پر معافی مانگی ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے یوکرائن کے دارالحکومت کیئف میں کہا کہ وہ اس مسئلے پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کریں گی۔

انھوں نے اس انکشاف کو تکنیکی مہارت کا نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آواز کا معیار بہت اچھا تھا۔

ادھر امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وکٹوریہ نولنڈ نے علیحدگی میں یورپی یونین کے اہل کاروں سے معافی مانگی ہے۔

خیال رہے کہ یوکرائن میں امریکی سفیر اور وکٹوریہ نولنڈ کے درمیان ہونے والی گفتگو افشا ہو گئی تھی۔

یورپی یونین اور امریکہ یوکرائن میں مہینوں سے جاری بحران کو ختم کرنے کے لیے بات چیت میں مصروف ہیں۔

یوکرائن میں امریکی سفیر اور وکٹوریہ نولنڈ کی گفتگو افشا ہونے کے بعد امریکہ اور یورپ کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

خِیال رہے کہ یوکرائن میں حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی تھی۔

صدر وکٹر یانوکووچ نے اس وقت کہا تھا کہ انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت کے معاہدے کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یورپی یونین ممالک کے سامان کے لیے یوکرائن کی سرحدیں کھولی جاتیں اور لوگوں کی آمدو رفت میں آسانیاں پیدا ہوتیں۔

انھوں نے کہا کہ تھا وہ اس معاہدے کے لیے روس کے ساتھ اپنی تجارت کی قربانی پیش نہیں کر سکتے کیونکہ روس اس معاہدے کا مخالف ہے۔

اسی بارے میں