حمص سے مزید چھ سو شہریوں کا انخلا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption باہر آنے والے افراد کمزور اور پریشان دکھائی دیتے تھے

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کے وسطی شہر حمص میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں سے چھ سو سے زیادہ شہریوں کو نکال لیا گیا ہے۔

شامی میڈیا کے مطابق یہ انخلا مارٹر گولوں کے حملوں اور فائرنگ کے باوجود ہوا۔ شامی حزبِ مخالف کے مطابق ان حملوں اور فائرنگ سے متعدد افراد مارے گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور شامی ہلالِ احمر کی ٹیمیں بھی اتوار کو اس علاقے میں امداد پہنچانے میں کامیاب رہیں جس کا حکومتی افواج نے ایک برس سے محاصرہ کر رکھا ہے۔

بی بی سی کے جم میور کا کہنا ہے امدادی سامان لے کر ایک قافلہ اتوار کو اولڈ کوارٹر میں داخل ہوا اور واپسی میں شہریوں کو ساتھ لایا جن میں عورتیں، بچے اور معمر افراد شامل تھے۔

نامہ نگار کے مطابق باہر آنے والے افراد کمزور اور پریشان دکھائی دیتے تھے۔

حمص میں امدادی سامامان لے جانے اور وہاں محصور شہریوں کو نکالنے کے لیے تین روز سے جاری جنگ بندی اتوار کو ختم ہو رہی ہے۔

تاہم حمص کے گورنر طلال البرازی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی مزید تین دن کے لیے بڑھائی جا سکتی ہے تاکہ مزید شہریوں کو باہر جانے کا موقع مل سکے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری آموس نے کہا ہے کہ سنیچر کو شامی شہر حمص میں سامان لے جانے قافلے پر حملے سے اقوامِ متحدہ اور امدادی ادارے ہمت نہیں ہاریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امدادی کارکنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور میں ان کے حوصلے کی داد دیتی ہوں: ویلری آموس

خیال رہے کہ سنیچر کو حمص سے نکلتے وقت اقوامِ متحدہ کے قافلے پر فائرنگ کی گئی تھی۔شامی ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ امدادی قافلے پر حملے سے ان کا ایک ڈرائیور زخمی ہو گیا تھا جبکہ ہلالِ احمر کے سات اور اقوامِ متحدہ کے تقریباً اتنے ہی اہل کار حمص شہر میں کئی گھنٹے محصور رہے۔

ویلری آموس نے اس حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’یہ واقعہ اس خطرات کی یاد دہانی کراتا ہے جو سویلین اور امدادی کارکنوں کو شام میں درپیش ہوتے ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ہر ممکن کوشش کرے گی لیکن ہمیں’سکیورٹی کی گارنٹی چاہیے‘۔

شامی حکام نے باغیوں کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا جبکہ باغیوں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دار شامی صدر بشارالاسد کی حامی فوج ہے۔

ویلری آموس نے اپنے ٹوئٹر صفحے پر کہا ’امدادی قافلے پر حملے سے مجھے شدید مایوسی ہوئی ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ امدادی کارکنوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور میں ان کے حوصلے کی داد دیتی ہوں۔

ویلری آموس نے کہا ’اقوامِ متحدہ اور رفاہی کاموں میں ان کے شریکِ کار ادارے متاثرہ افراد کو امداد پہنچانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘۔

ان کا کہنا تھا ’میں تمام افراد سے اپیل کرتی ہوں کہ امداد کے لیے کیے گئے وقفے کا احترام کرتے ہوئے عام شہریوں اور امدادی سامان کی ترسیل کو یقینی بنائیں‘۔

ہلالِ احمر اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر باغیوں کے علاقوں میں تقربیاً تین ہزار افراد کو خوراک، پانی اور ادویات پہنچا رہی ہے۔

جمعے کو جنگ بندی کے پہلے دن 80 سے زیادہ بچوں، عورتوں اور عمر رسیداہ افراد کو وہاں سے نکالا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں جاری جنگ میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو گئے ہیں۔

چند اندازوں کے مطابق شام میں 20 لاکھ سے زیادہ افراد ملک سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے جب کہ 65 لاکھ افراد ملک کے اندر ہی اپنا گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔

اسی بارے میں