چینیوں اور یہودی میں قدرِ مشترک

پہلی مرتبہ چین جانے والے اکثر لوگوں کی طرح میرا پہلا ردعمل بھی یہی تھا کہ جیسے میں سمندر میں کود پڑا ہوں، اور اس کی تند و تیز طوفانی لہروں کے غلبے سے گھبرا کر ہاتھ پاؤں مار رہا ہوں کہ کب ساحل پہ واپس پہنچوں۔

میرے اس رد عمل کی وجہ محض چین میں آبادی کا ہجوم، اس کے بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے یا یہاں کی فضائی آلودگی کی کثافت نہیں تھی، بلکہ یہاں بہت سی چیزیں مجھے مانوس تو لگیں مگر ایسی بے ہنگم کہ سمجھ نہ آئیں۔ بڑے بڑے اشتہاری بورڈوں پر مانوس مغربی کمپنیوں کے نام اور علامتیں، مگر آپ کچھ بھی نہیں پڑھ سکتے کیونکہ سب کے سب اشتہار چینی زبان میں ہیں۔

بتا نہیں مجھے کیوں بار بار ایسا لگ رہا تھا کہ جنان کے شہر میں واقع شانڈونگ یونیورسٹی میں ماضی قریب میں آ چکا ہوں، مگر کب؟ یہ مجھے بالکل یاد نہیں آ رہا تھا۔

شانڈونگ یونیورسٹی دیکھ کر مجھے در اصل امریکہ کی برکلی میں واقع یونیورسٹی آف کیلی فورنیا یاد آ رہی تھی۔ فرق صرف یہ تھا کہ یہاں طلبہ کی تعداد 35 ہزار کی بجائے 57 ہزار تھی۔ اور دوسرا یہ کہ یہاں ایک کلاس سے دوسری کلاس کو بھاگتے اور اپنی سائیکلیں بھگاتے طلبہ میں جو لگن دکھائی دے رہی تھی وہ کہیں زیادہ تھی۔

یونیورسٹی کے کیمپس کے دل میں قدرے نئی 27 منزلہ عمارت ہے جس پر بہت بڑا گھڑیال نصب ہے۔ علم المذاہب کا شعبہ اسی عمارت میں ہے۔

سچ پوچھیں تو مذہب ہی وہ وجہ تھی جس کے لیے میں شانڈونگ آیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کنفیوشس نے اپنی تعلیمات کو باقاعدہ شکل اڑھائی ہزار سال پہلے دی

میں ایک ریڈیو پروگرام بنا رہا تھا جس کا موضوع بدھ مت اور کنفیوشن ازم کا بیک وقت منظر عام پہ آنا تھا۔ شانڈونگ یونیورسٹی چوفو کے قصبے سے زیادہ دور نہیں جو مشہور چینی مفکر کنفیوشس کا آبائی قصبہ ہے اور ان کے بنائے ہوئے مذہب پر تحقیق کا جدید مرکز بھی۔

یونیورسٹی کے علم المذاہب کے شعبے میں یہودیت کے مطالعے کا سینٹر بھی ہے، جو کہ چین میں اس قسم کا واحد مرکز ہے۔ اس مرکز کا یہاں ہونا ان میں سے ایک عجیب چیز تھی جن کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ برطانوی اور امریکی یونیورسٹیوں میں یہودی مذہب کے مطالعے کے مراکز موجود ہیں لیکن یہ چین میں بھی ہو گا۔ میں دیکھ کر حیران ہوا۔

لیکن اس مرکز کے سربراہ پروفیسر فُو یاؤڈے نے مجھ سے کہا کہ اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ کنفیوشن اور یہودی تہذیب میں بہت قدریں مشترک ہیں۔

پروفیسر فُو نے وضاحت کی: ’کنفیوشن اِزم اور یہودی مذہب، دونوں کی بنیاد اخلاقیات پر ہے۔

’ دونوں ہی ایک انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ تعلق کی اہمیت پر زور دیتے ہیں اور دونوں کی بیناد اس سنہری اصول پر ہے کہ دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا تم اپنے لیے چاہتے ہوں۔‘

یہودیوں کو اپنے مذہب کا پانچواں حکم یہی ہے کہ وہ اپنے ماں اور باپ کی عزت کریں۔ اور کنفوشن اِزم میں والدین کا کیا مقام ہے، یہودی والدین تو صرف اس کا خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔

ہم ساتویں منزل پر پروفیسر فُو کے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور سچ پوچھیں تو مجھے یہ جگہ کسی تعلیمی ادارے کے پروفیسر کا دفتر کم ہی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ کتابوں اور کاغذوں کے انبار جو آپ کو زیادہ تر پروفیسروں کے کمروں میں دکھائی دیتے ہیں، یہاں بالکل مفقود تھے۔

البتہ سرجن کی میز جیسی صاف و شفاف میز پر روجٹ کی شائع کردہ تھیسارس (ہم معنی الفاظ کی ڈکشنری) کا ایک نسخہ پڑا ہوا تھا۔چونکہ پروفیسر فُو ترجمے کا کام کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے تھیسارس ایک مفید کتاب ہے۔ وہ عبرانی زبان کے یہودی مذہب کے مشہور نسخوں کو انگریزی سے چینی زبان میں ترجمہ کر چکے ہیں۔ ان نسخوں میں بینیڈکٹ سپینوزا کی عبرانی زبان کی گرامر کی مشہور کتاب بھی شامل تھی۔

یہ سپینوزا کی کتاب ہی تھی جس میں پنہاں’ رواداری اور سخاوت‘ نے پروفیسر فُو کو متاثر کیا اور ان کا یہودیت کے ساتھ تعلق بنا۔

جہاں تک پروفیسر فُو کا اپنا تعلق ہے تو وہ ایسے وقت میں بڑے ہوئے جب چین میں رواداری اور سخاوت جیسی خوبیاں خاص طور پر عنقا ہو چکی تھیں۔ وہ ایک کسان کے مٹی سے بنے ہوئے گھر میں سنہ 1956 میں پیدا ہوئے۔ یہی وہی وقت ہے جب ماؤزے تُنگ کی ’عظیم جست‘ کے تیاریاں جاری تھیں۔

عظیم جست کے دوران چین میں زراعت میں اشتراکیت متعارف کرانے کی تباہ کُن کوشش کے نتیجے میں ملک کو قحط ملا اور دو کروڑ اور ساڑھے چار کروڑ کے درمیان لوگ موت کی نیند سو گئے۔

پروفیسر فُو نے اس وقت چین میں جاری ’تہذیبی انقلاب‘ کے دنوں میں سکول کی تعلیم مکمل کی۔ ان دنوں یونیورسٹیاں بند تھیں، چنانچہ وہ پانچ سال تک صرف ایک ین یومیہ کی مزدوری پر ایک کارخانے میں کام کرتے رہے۔ آخر پانچ سال بعد انھیں یونیورسٹی جانے کی اجازت مل گئی۔

پروفیسر فُو متاثر کُن شخص کے مالک ہیں اور انھیں یہودی مذہب اور تاریخ پر عبور حاصل ہے، مگر لگتا ہے کہ یہودیت کا ایک عنصر ایسا ہے جو ان کی سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔ یہودی لطیفے۔

چینی لوگ فطرتاّ بہت سنجیدہ ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہنستے نہیں۔ چین میں ایسے کلب موجود ہیں جہاں مسخرے اپنے شو کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی وی کا ایک مزاحیہ چینل بھی ہے۔

میں بھی ایک گھنٹے تک ایک مزاحیہ چینل دیکھتا رہا۔ ہر چیز ویسی ہی تھی جیسی میرے ملک میں ہوتی ہے۔ مائیکروفون پر جیسے مسخرے کھڑے ہوتے ہیں، قہقے لگاتے ہوئے حاضرین۔ مسئلہ صرف ایک تھا کہ شو چینی زبان میں تھا، اس لیے میں نہیں بتا سکتا کہ وہ لطیفے کس کے بارے میں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چین میں بدھ مت کے ماننے والوں کی بڑی تعداد بھی رہتی ہے

پتا نہیں چینی لوگ یہودی لطیفوں کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہودی لطیفے اپنے تلخ طنز کے لیے مشہور ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہودی لطیفوں کی بہترین تعریف انیسویں صدی کے شاعر اور نثرنگار ہنریک ہین نے کی تھی: ’ میں اپنے غم کی داستان سنانے کی کوشش کرتا ہوں، مگر یہ سب لطیفہ بن جاتا ہے۔‘

پروفیسر فُو کے خیال میں مزاح کی کوئی خاص حیثیت نہیں: ’ یہودی ادب کے لیے لطیفے اہم ہیں۔ لیکن جہاں تک یہودی تہذیب کا تعلق ہے، اس کی بنیاد قانون پر ہے، وہ قانون جو خدا نے حضرت موسیٰ کو کوہِ طور پر دیا تھا۔‘

’ میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے،‘ میں نے جواب دیا۔’یہودی تہذیب مخص قانون کا نام نہیں۔ بلکہ اس تہذیب کی تشکیل میں گزشتہ اڑھائی ہزار سال کے دوران جس طرح یہویوں نے اپنے خلاف ہونے والے جبر کا مقابلہ کیا ہے، ان کے تجربات شامل ہیں۔‘

اگر آپ غور کریں تو 2500 پہلے یہ وہی صدی تھی جب کنفوشس اپنی تعلیمات کو شکل دے رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہودیوں میں بھی چینی کھانے بہت مقبول ہیں

اس کا مطلب یہ ہوا کہ والدین کی تکریم اور سنہری اصول کے علاوہ ایک تیسری چیز بھی یہودیت اور کنفیوشس اِزم کو جوڑتی ہے، اور وہ یہ کہ دونوں ایک ہی صدی میں پروان چڑھے۔

میں اور پروفیسر فُو سہ پہر تک اپنی قوموں کی تہذیبی مماثلت کے بارے میں بات کرتے رہے۔

’یہودیوں کو چینی کھانے بہت پسند ہیں،‘ میں نے کہا۔

’چینی دوائیں بھی،‘ پروفیسر فُو نے کہا: ’میں ایسے غیرملکیوں کو جانتا ہوں جو چینی ادویات نہیں لینا چاہتے، لیکن میرے یہودی دوستوں کی اکثریت چینی ادویات لیتی ہے۔‘

پروفیسر کی اس بات سے مجھے ایک اسرائیلی نژاد بدھ مت کے پیروکار یہودی کی کہانی یاد آئی جس نے پچھلے ہی ہفتے بھارت میں میرا علاج کیا تھا۔ چلیں یہ کہانی پھر کبھی سہی۔

اسی بارے میں