استحکام کے ترسے مصریوں کو فوج سے امیدیں

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption مصر کے شہر اسوان اور الاقصر سیاحوں میں بہت مشہور ہیں

مصر سیاسی تبدیلیوں کے پرآشوب دور سے گزر رہا ہے۔ صدراتی انتخابات اب قریب تر ہیں اور استحکام کے لیے ترستے ہوئے لوگ فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

اسوان سے الاقصر جانے کے لیے میں 163 نمبر ٹرین میں سوار ہوا۔ ایک گلابی رنگ کا مڑا تڑا کاغذ کا ٹکڑا اس سفر کے دوران میرا ٹکٹ تھا۔ ٹرین کے ڈبے میں پیشاب اور سگریٹ کی بدبو بسی ہوئی تھی۔

ڈبے میں بکھرے گنے کے چھلکوں پر چلتے ہوئے مجھے کھڑکی کے ساتھ ایک خالی نشست ملی۔ اس کھڑکی کا شیشہ تڑخا ہوا تھا، اس کا دہاتی فریم جام تھا اور شیشے پر جمی مٹی کی تہہ کی وجہ سے باہر کا منظر دکھائی نہیں دیتا تھا۔

ڈبے میں مختلف اشیاء مثلا چپس، سگریٹ، پھل، ٹشو اور دھوپ کے چشمے بیچنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ ایک شخص جس نے سر پر ایک کپڑا لپیٹا ہوا تھا ’چائے ۔چائے‘ کی آوازیں لگاتا ہوا آیا اور وہ ایلمونیم کی ایک بڑی سی چائے دانی سے گرما گرم چائے ڈال کر گاہکوں کو دے رہا تھا۔ میں نے اپنے ہم سفروں پر نظر ڈالی، ڈبے کے اگلے حصہ میں قطبی فرقے کے عیسائیوں کا ایک گروہ بیٹھا ہوا تھا۔ ان سب کے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان صلیب کا نشان بنا ہوا تھا اور جب وہ ایک دوسرے کو کھانا دینے کے لیے ہاتھ بڑھاتے تھے تو صلیب کا نشان نظر آتا تھا۔

ان کے پیچھے نوجوان مصریوں کا ایک گروپ تھا جنھوں نے ٹی شرٹیں پہن رکھی تھیں اور جدید فیشن کے انداز میں بال بنائے ہوئے تھے۔ وہ اپنے موبائیلوں فونوں پر موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption الاقصر میں سیاح غباروں میں سیر کرتے ہیں

میرے سامنے والی نشست پر کالی موچھوں والا ایک کسان صاف شفاف سفید رنگ کا عمامہ پہنے بیٹھا تھا۔ پانچ سالہ محمود دوسری طرف اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہوا تھا اور اس کی نیلی ڈانگری سے چوسنی لٹک رہی تھی اور وہ جنوبی مصر کی گرمی سے نڈہال نیند میں جھٹکے کھا رہا تھا۔

محمود کا باپ احمد ایک شرمیلا نوجوان جو اپنی عمر سے کہیں بڑا دکھائی دے رہا تھا پنیر اور روٹی مصر کی روایات کے مطابق اپنے ہمسفروں کو بھی پیش کر رہا تھا۔ میں نے اس کی پیش کش قبول کر لی اور بات چیت شروع ہو گئی۔ احمد اسوان میں اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کرکے واپس جا رہا تھا۔ وہ ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا جو سیاحوں کو غباروں میں فضائی سیر کرانے کا بزنس کرتی تھی لیکن محمود کی پیدائش سے ایک ماہ قبل انھیں سیاحوں کی کمی کے باعث نوکری سے نکال دیاگیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ چھ ماہ سے بے روزگار ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انقلاب سے پہلے وہ کبھی کبھی ایک ہزار مصری پاونڈ بھی کما لیتے تھے لیکن اب ان کے پاس ایک پاونڈ بھی نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ وہ اب اپنے خاندان والوں سے مدد لینے پر مجبور ہیں اور کبھی کبھی انھیں کسی ہوٹل پر کام بھی مل جاتا ہے۔

الاقصر میں اب یہ ہر شخص کی کہانی ہے۔ سنہ دو ہزار گیارہ کے انقلاب کے بعد جب حسنی مبارک کو اقتدار سے علیحدہ کیاگیا سیکیورٹی خدشات کی بنا پر سیاحوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے اور اسوان اور الاقصر جیسے شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریلوے زبوں حالی کا شکار ہے

ان کا کہنا ہے کہ اب حالات بہتر ہوں گے اور بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

اسوان سے روانہ ہونے سے پہلے میں نے فیلڈ مارشل فتح السیسی کے لیے عوامی حمایت کا مظاہرہ دیکھا تھا۔ ایک چائے خانے میں جمال عبدالناصر اور انوار سعادات جیسے مصری قوم کے ہیروں کے ساتھ عبدالفتح السیسی کے پوسٹر آویزاں تھے۔

ایسے ہی ایک پوسٹر پر سیسی کی شکل کا ایک عقاب بنا ہوا تھا جس پر لکھا تھا کہ دنیا کا بہتریں سپاہی۔

مصر کے نئے آئین پر ریفرنڈم کے بعد ان کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ اٹھانوے فیصد لوگوں نے آئین کے حق میں ووٹ دیا گو کہ اس ریفرنڈم میں صرف انتالیس فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔

ایک اخبار یوم الصبح نے اپنی سرخی میں کہا کہ سیسی ہی حل ہیں۔ کئی اخبارات نے کہا ہے کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ الجمہوریہ نے کہا کہ آئین مکمل ہو گیا ہے۔ احمد نے فتح مند جذبات میں کہا کہ فوج نے ملک کا نظام سنبھال لیا ہے اور سب ان سے ڈرتے ہیں۔

میں پوچھا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کی آزادیوں پر کچھ قدغن لگائی جائے۔

انھوں نے کہا نہیں پوری آزادی ہے اگر آپ ٹھیک ہیں اور کوئی گڑ بڑ نہ کریں دوسری صورت میں مسئلہ تو ہو گا۔

ایسے لوگ مجھ نظر نہیں آئے جنہوں نے صرف ڈیڑھ سال قبل محمد مرسی کو صدر منتخب کیا تھا۔ مصر کے لوگ استحکام اور سیکیورٹی کے لیے ترس رہے ہیں اور ایک مضبوط فوجی حکومت کی عوامی سطح پر حمایت موجود ہے۔ لیکن کس قیمت پر۔

احمد کے خیال میں اخوان المسلمین تمام چیزوں پر اپنا قبضہ چاہتی تھی۔ روزگار صرف اپنے حمایوں کے لیے اور کسی کے لیے نہیں۔ اب فوج کا قبضہ ہے اب حالات بہتر ہوں گے۔

اسی بارے میں