غزہ والوں کی زندہ دلی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غزہ کی ساحلی پٹی جو بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع ہے اور شہریوں کے لیے تفریح کے چند محدود مواقع میں سے ایک ہے

کچھ عرصے کے پرامن دور کے بعد اب ایک بار پھر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

تاہم جب صحافی غزہ پہنچتے ہیں اس امید پر کہ حالات میں تناؤ ہو گا اور بے چینی ہو گی تو انہیں واپسی پر حیران کن کہانیاں ملتی ہیں۔

الدیرہ ہوٹل کے کمرہ نمبر 17 ایک مراکشی طرز کا سوئیٹ تھا جس کے ساتھ ایک سٹائلش غسل خانہ تھا جس سے رنگین قالین اور بحیرۂ روم کا دلکش منظر جو اس کے خوبصورت سنہرے ساحل کے سامنے ہے کھڑکی سے دیکھنے کو ملا۔

کم از کم مجھے غزہ میں یہ دیکھنے کی امید نہیں تھی۔

میں تیار ہو کر آیا تھا کہ اگر حالات خراب ہوتے ہیں تو میرے پاس حفاظتی سامان ہو جیسا کہ فلیک جیکٹ اور ہیلمٹ اور اسرائیل کی سرحد کے بعد ایک آرمرڈ پلیٹوں والی کار کے ساتھ ان گلیوں سے گزرا جہاں بلاکوں سے بنی عمارتین نامکمل کھڑی تھیں جنہیں سیمنٹ کی کمی کی وجہ سے نامکمل چھوڑ دیا گیا تھا۔

میں یہاں رپورٹنگ کی غرض سے تو نہیں آیا تھا بلکہ مقامی الوان ریڈیو کے صحافیوں کی تربیت کے لیے آیا ہوا تھا جو ان کے ایک پروگرام کے لیے تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الوان ریڈیو غزہ شہر میں واقع ایک مقامی ریڈیو سٹیشن ہے جس پر مختلف نوعیت کے پروگرام پیش کیے جاتے ہیں

میرا ہوٹل ہی واحد حیران کن چیز نہیں تھی بلکہ الوان کے دفاتر میں دس مسکراتے چہرے بھی تھے جو غزہ میں ایک دفتر کی عمارت کی گیارہویں منزل پر واقع تھے۔

ان میں سے اکثریت خواتین کی تھی جنہوں نے جینز، ٹرینرز اور شوخ رنگ کے سکارف پہنے ہوئے تھے جن کے رنگ سبز، جامنی اور نیلے تھے۔

ان میں سے ایک تغرید تھیں۔ ایک نوجوان ماں جو روزانہ کا سپورٹس شو پیش کرتی ہیں۔ انھوں نے تین مختلف ریڈیو پر صحافی کی حیثیت سے کام کیا ہوا ہے۔

احمد ایک بزنس کے طالب علم ہیں جو کامیڈی شو کی ویڈیو یو ٹیوب پر بنا کر چلاتے ہیں اور رامی جو بہت نرم گو میزبان ہیں۔

مجھے حیرت نہیں ہوئی جب رامی نے مجھے بتایا کہ وہ نجوم پر ایک شو پیش کرتی ہیں۔

وہ سب مجھے یہ ثابت کرنے پر تلے تھے غزہ کا تشخص ایک پر تشدد اور خطرناک جگہ کے طور پر غلط بنا ہوا ہے۔

ہم ہر روز لفٹ کے دروازے پر ملتے تھے اور بجلی کے آنے کا انتظار کرتے۔

روان ایک نوجوان ترجمان نے وضاحت کی کہ کیسے بجلی دن کے صرف آٹھ گھنٹوں کے دوران دستیاب ہوتی ہے اور کام، خریداری اور سب کچھ اسی عرصے کے دوران کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غزہ کی آدھی سے زیادہ آبادی بے روزگار ہے جس کی وجہ غیر یقینی سیاسی صورتحال ہے

بہت سارے کاروباری حضرات کے اپنے جنریٹرز ہیں جیسا کہ حجام جن کی دکان پر اس سے بجلی آتی ہے۔

مجھے توقع تھی کہ میرے ساتھ تربیت حاصل کرنے والے اپنی روزمرہ زندگی کے مسائل پر رپورٹیں بنا کر پیش کریں گے۔ مگر انھوں نے اپنے موبائل فون پر اس بار کے سٹرابری کی فصل، ایک پرانے سامان کی دکان جہاں غریب اور امیر ڈیزائنر کپڑے بارعایت حاصل کرتے ہیں اور ایک بے روزگار انجینئر کی کہانی جو کنیری پالنے والا بن گیا کی کہانی پیش کیں۔

آپ کو اس قسم کی چیزیں تب نظر آتی ہیں جب آدھی سے زیادہ آبادی بے روزگار ہوتی ہے۔

غزہ کے شمال میں واقع ایک مہاجر بستی میں رہنے والے احمد نے بتایا کہ کیسے ان کی بنیادی خواہش ایک اچھی تنخواہ والی ملازمت کی ہے جس کے بغیر ایک جیون ساتھی کا حصول ناممکن ہے۔

وہ اس ریڈیو سٹیشن پر رضاکار کے طور پر کام کر رہے ہیں اور انھوں نے سڑک پر مزاحیہ فلمیں بنانا بند کر دی ہیں کیونکہ وہ پولیس کے بار بار روکنے سے تنگ آ چکا ہے۔

احمد نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس ایک اچھی ملازمت تھی جب وہ ایک نجی غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ کام کر رہے تھے مگر جب تنظیم کا منصوبہ ختم ہوا اس کے ساتھ ہی ملازمت بھی چلی گئی۔

ان کے مطابق غزہ میں آپ ایک ہفتے بہترین ملازمت کے ساتھ ہیں اور دوسرے ہفتے کچھ بھی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption غزہ میں صرف 8 گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے اور اسی دوران لوگ تمام کام نمٹاتے ہیں

میرے لیے بھی یہ ایک موقع تھا جب مجھے غزہ کے بارے میں جاننے کا موقع ملا اور پتا چلا کہ یہ ایک خطرناک جگہ نہیں ہے۔

میں نے آہستہ آہستہ اپنے ترجمان روان اور ساجد کی مدد سے قبر و جوار میں جگہیں دیکھنا شروع کیں۔ قریب ہی واقع آئس کریم کی دکان پر پستے والی آئس کریم کھائی یا ایک پیزے کی دکان پر پیزا کھایا یا پھر ایک دکان سے ساجد نے میرے لیے دُکا لیا جو ایک مرچوں والا روٹی اور زیتون کے تیل کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

جب ہم واپس پیدل اندھیری سڑک پر اپنے ہوٹل میں آ رہے تھے ساجد نے مجھے بتایا کہ شروع میں اس بجلی کی بندش سے انہیں مسئلہ ہوتا تھا مگر اب عادت ہو چکی ہے۔

انھوں نے دو مختلف شو کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے امن عمل کے لیے جاری مذاکرات کے بارے میں تجزیے اور تبصرے سے پرہیز کیا کیونکہ ان کی سامعین اس سے تنگ آ چکے تھے اور وہ تفریح چاہتے تھے۔

سفا کی ٹیم نے اپنے شو الوان ایکسٹرا میں فوٹوگرافی کے بارے میں بات کی اور غزہ میں سینیما نہ ہونے کی بات کی اور سٹرابری کے صحت کے لیے فوائد کو موضوعِ بحث بنایا۔

تغرید کی ٹیم نے بھکاریوں اور 17 برس کے فٹبال کمنٹیٹر کا انٹرویو کیا بلکہ انھوں نے ایک وائلن بجانے والے کو سٹوڈیو میں بلوایا جن کے ساتھ شو کا اختتام ہوا۔

مجھے بہت حیرانی ہوئی اور میں نے ان کی اس کامیابی پر فخر بھی محسوس کیا۔

جب میں واپس آ رہا تھا تو میرے لیے، میری بیوی اور بیٹی کے لیے تحائف مجھے دیے گئے اور ایک ساتھی نسما نے مجھے یہاں تک اس امید پر کہا کہ اگر میں آؤں تو شاید میں اپنے خاندان کو ساتھ لے کر آؤں۔

اسی بارے میں