چھ بھارتی بازار ’بدنام‘ بازاروں کی فہرست میں شامل

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں چین نقلی سامان اور سافٹ ویئرز کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے

امریکہ کی جانب سے جاری کی جانے والی دنیا بھر میں جعلی اور نقلی اشیا اور سافٹ ویئرز کی فروخت کے لیے ’بدنام ترین‘ بازاروں کی تازہ فہرست سے جہاں دو پاکستانی بازاوں کے نام خارج کر دیے گئے ہیں وہیں اس میں بھارت کے چھ بازاروں کے نام شامل ہیں۔

امریکی تجارت کے نمائندہ دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والی ’نوٹوریئس مارکیٹس لسٹ‘دنیا بھر کے ان بازاروں کا احاطہ کرتی ہے جہاں ہونے والی خریدوفروخت جملہ حقوق کی خلاف ورزی کی وجہ سے امریکی کاروبار اور کارکنوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس رپورٹ میں عام بازاروں کے علاوہ آن لائن خریدوفروخت کا احاطہ بھی کیا گیا ہے اور اس کے مطابق دنیا بھر میں جعلی سامان کے سب سے زیادہ بڑے بازار چین میں ہیں۔

بھارت اور چین کے علاوہ فہرست میں شامل دیگر ممالک میں انڈونیشیا، تھائی لینڈ، یوکرین، میکسیکو، کولمبیا، ایکواڈور اور پیراگوئے شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں نئی دہلی، ممبئی اور حیدرآباد کے دو، دو بازار نقلی اشیا کی فروخت کے بڑے مراکز ہیں۔

ان بازاروں میں دارالحکومت نئی دہلی کی غفار مارکیٹ اور نہرو پلیس مارکیٹ، ممبئی کی منیش مارکیٹ اور لیمنگٹن روڈ کے علاوہ حیدرآباد کے چنّئی ٹریڈ سینٹر اور ہانگ کانگ بازار کا نام بھی شامل ہے۔

امریکہ کی طرف سے یہ فہرست گزشتہ تین سال سے جاری ہوتی رہی ہے لیکن اس میں اب تک صرف نہرو پلیس کا نام ہی ہوتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان بازاروں میں پائریٹیڈ یا جعلی کمپیوٹر سافٹ ویئر، فلموں اور موسیقی کی سی ڈیز اور آفس آلات کی فروخت کھلے عام ہوتی ہے۔

غفار مارکیٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں جعلی برانڈڈ کپڑے، جوتے، کاسمیٹکس، الیکٹرانک اور دیگر اشیاء فروخت ہوتی ہیں اور یہ سارا سامان درآمد کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہاں کے دکاندار عام طور پر پولیس کے چھاپوں کے دوران غیر قانونی سامان چھپانے میں کامیاب رہتے ہیں اور پولیس کے جاتے ہی یہ سامان واپس دکانوں کے کاؤنٹر پر پہنچ جاتا ہے۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے کے مطابق یہ فہرست ایسے وقت میں جاری ہوئی ہے جب امریکہ اور بھارت کے تجارتی تعلقات کافی کشیدہ ہیں اور یہ بحث جاری ہے کہ امریکہ بھارت کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کر سکتا ہے جو بین الاقوامی تجارت قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ان بازاروں کا نام بھی شامل ہے جہاں کی حکومتوں نے قانونی کارروائی کر کے ان پر پابندی لگا دی ہے۔

تازہ رپورٹ میں پاکستانی شہروں لاہور اور کراچی کے اردو بازاروں کو بدنام بازاروں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے اور رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام نے وہاں نقلی کتابیں فروخت کرنے والوں کے خلاف کئی بار کارروائی کی ہے۔

اس فہرست میں پائیریٹ بے سمیت ان 23 ویب سائٹس کا بھی ذکر ہے جن کے ذریعہ جعلی اشیاء کی فروخت ہوتی ہے یا جن سے پائریٹیڈ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کیے جاتے ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق امریکہ کے نمائندہ برائے تجارت مائیکل فورمین نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’جن بازاروں کی نشاندہی کی گئی ہے وہ امریکی کارکنوں کے کام اور ان کی بنائی گئی اشیا کی وقعت اور قیمت کم کرنے کے ذمہ دار ہیں اور ان بازاروں میں فروخت ہونے والی کچھ چیزیں جن میں ادویات سے لے کر گاڑیوں کے پرزے بھی شامل ہیں، صارفین کی صحت اور تحفظ کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہیں‘۔

مائیکل فورمین کا کہنا تھا کہ جن ممالک میں یہ بازار واقع ہیں امریکہ ان سے امید کرتا ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں۔

اسی بارے میں