نائجیریا: بوکوحرام کا حملہ، درجنوں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بوکو حرام نائجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے 2009 سے حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے

نائجیریا میں عینی شاہدین کے مطابق شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے جنگجوؤں نے ایک گاؤں پر حملہ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے نائجیریا کے ایک گاؤں میں مردوں کے ایک گروپ کو گرفتار کر کے گولیاں مار دیں۔

نائجیریا کے حکام کو شبہ ہے کہ اس حملے میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام ملوث ہے۔

یہ واقعہ نائجیریا کی ریاست بورنو میں واقعہ پیش آیا، جہاں کہ سینیٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ تازہ حملے میں 106 افراد ہلاک ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ کم سے کم 100 شدت پسندوں نے فوج کی مداخلت کے بغیر سنیچر کی شام گاؤں پر حملہ کیا۔

بورنو کے سینیٹر کے مطابق اس علاقے سے فوج کے چلے جانے کے بعد گذشتہ ہفتے نو سپاہیوں کو ایک جھڑپ میں ہلاک کیا گیا تھا۔

گاؤں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ چند آدمیوں کو گولیاں ماری گئیں جب کہ دیگر کے گلے کاٹ دیے گئے۔

نائجیریا کے گاؤں کے ایک رہائشی ابو بکر عثمان نے خبر رساں ایجنسی روئیٹرز کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں گلیوں میں پڑی ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خوف کے باعث ہم لاشوں کو دفنائے بغیر وہاں سے بھاگ گئے۔

دیگر عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور اتوار کی صبح ٹرکوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر آئے۔ انھوں نے آدمیوں سے کہا کہ وہ گاؤں میں اکٹھے ہو جائیں جس کے بعد انھیں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

نائجیریا میں رواں ہفتے ہونے والے ایک حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کا الزام بھی بوکو حرام پر عائد کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد بورنو کے گورنر قاشم شتیما نے بوکو حرام کے شدت پسندوں سے لڑنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی تھی۔

بوکو حرام نائجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے 2009 سے حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جن میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں