اطالوی فوجیوں پر مقدمہ، اٹلی نے بھارت سے سفیر واپس بلا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطالوی سفیر کو مشاروت کے لیے فوراً واپس بلا لیا گیا ہے

اٹلی نے اپنے دو فوجیوں پر مچھیروں کے قتل کے الزام میں بھارت کی جانب سے مقدمہ چلانے کے تنازعے پر بھارت سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔

اٹلی کے وزارتِ خارجہ نے کہا کہ بھارت کی عدالت میں’ایک اور ناقابلِ قبول تاخیر‘ کی وجہ سے ڈینیئل مانسینی فوراً ہوائی جہاز کے ذریعے روم کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

سپریم کورٹ میں اطالوی فوجیوں پر دائر مقدمے کی سماعت منگل کو ہو رہی تھی لیکن اسے موخر کر دیا گیا ہے۔

اٹلی نے پہلے ہی ان فوجیوں پر بھارت کی جانب سے سمندر میں غیرقانونی کارروائیوں کو روکنے کے قانون (ایس یو اے) کے تحت مقدمہ چلائے جانے کے فیصلے پر غصے کا اظہار کیا تھا۔

15 فروری 2012 کو یہ فوجی ایک اطالوی بحری مال بردار جہاز کی سکیورٹی پر مامور تھے جب انہوں نے کو کیرالہ کے ساحل کے قریب ایک چھوٹی کشتی پر فائرنگ کی جس میں دو بھارتی ماہی گیر ہلاک ہوگئے۔

اطالوی فوجیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بھارتی ماہی گیروں کو سمندری قزاق سمجھ کر ان پر گولی چلائی تھی۔

اٹلی کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اٹلی کی حکومت نے دہلی سے اپنے سفیر ڈینیئل مانسینی کو مشورے کے لیے فوری طور پر واپس بلا لیا ہے۔‘

بیان میں ’بھارت کی طرف سے اس معاملے سے صحیح طریقے سے نہ نمٹنے کی‘ مذمت کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق اطالوی حکومت کا بنیادی مقصد اپنے دو فوجیوں کو ملک واپس لانا ہے۔

منگل کو بھارت کی سپریم کورٹ نے اس مقدمے کو اس وقت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دیا جب استغاثہ نے کہا کہ وہ حکومت کی طرف سے اس فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان فوجیوں پر کون سے قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی وزارتِ خارجہ چاہتی ہے کہ ان فوجیوں پر سمندر میں غیرقانونی کارروائیوں کو روکنے کے قانون کے تحت مقدمہ نہ چلائے جائے جبکہ ملکی وزارتِ داخلہ اس سے اختلاف کر رہی ہے۔

بھارتی حکام نے پہلے ایس یو اے کے قانون کی جس شق کے تحت مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا تھا، اس میں زیادہ سے زیادہ پھانسی کی سزا ہو سکتی تھی لیکن بعد میں اس قانون کی ایک مختلف شق کے تحت مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں زیادہ سے زیادہ دس سال کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

بھارت اور اٹلی کے درمیان لمبے عرصے سے جاری سفارتی تنازع فروری سنہ 2012 سے جاری ہے جب پہلی مرتبہ لتوری ماسیمیلانو اور سالواتور گیرونی کو قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

انہیں فروری 2013 کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے چار ہفتوں کے لیے اٹلی جانے کی اجازت دی گئی تھی جس کے بعد اٹلی نے ان کی واپسی سے انکار کر دیا تھا۔

اٹلی کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا تھا لہٰذا فوجیوں پر مقدمہ اٹلی میں چلایا جانا چاہیے، لیکن بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ جس وقت فائرنگ کی گئی، اطالوی جہاز بھارتی سمندری حدود میں تھا، لہٰذا ان پر بھارتی قوانین کے تحت ہی مقدمہ چلے گا۔

دونوں فوجی مارچ 2013 میں واپس دہلی آگئے تھے۔

دونوں فوجی اس وقت ضمانت پر ہیں اور دہلی میں اطالوی سفارت خانے میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں