یوکرین پر پابندیاں عائد، جھڑپوں میں مزید 21 ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پیغام کے مطابق جنگ بندی کے بعد حکومت اور اپوزیشن لیڈران مذاکرات کریں گے

یوکرین کے صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جمعرات کو سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں مزید 21 مظاہرین ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے یوکرین کے ان حکام پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کیا ہے جو مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے ذمہ دار ہیں۔

یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں کے تحت فوری طور پر اثاثے منجمد کرنا اور ویزے دینے پر پابندی شامل ہیں۔

جمعرات کو دارالحکومت کیئف میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں اکیس مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے جبکہ 67 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے۔

منگل سے شروع ہونے والے پرتشدد کارروائیوں میں اب تک کُل 67 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

یورپی یونین نے بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی صورت میں مظاہرین کے خلاف تشدد کا استعمال جائز نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بدھ کو یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق صدر نے کہا تھا کہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

صدارتی ویب سائٹ کے مطابق صدر اور اپوزیشن لیڈران ’جنگ بندی‘ پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

پیغام کے مطابق جنگ بندی کے بعد حکومت اور اپوزیشن لیڈران مذاکرات کریں گے تاکہ دو روز سے جاری پرتشدد کارروائیاں بند کی جا سکیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا تھا جب سکیورٹی فورسز نے دو روز قبل مظاہرین کو میدان سے ہٹانے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا جس میں کم از کم 26 افراد ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل یوکرین کے صدر نے دارالحکومت کیئف میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد فوج کے سربراہ کرنل جنرل وولودیمر کو برطرف کردیا تھا۔

صدارتی ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ کرنل جنرل وولودیمر کی جگہ ایڈمرل یوری الین کو مسلح افواج کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین میں پولیس نے دارالحکومت کیئف کے میدان میں مہینوں سے ’میدان‘ میں بیٹھےمظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کے لیے ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا ہوا ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مرنے والے کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس دوران سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یوکرین کے صدر یانوکووچ نے احتجاجی مظاہرین کو انسانی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

منگل کی شب اپوزیشن سے ناکام مذاکرات کے بعد یوکرینی صدر نے حزبِ اختلاف کے رہنماؤں سے کہا تھا کہ وہ ’خود کو سخت گیر موقف کی حامل قوتوں سے الگ کر لیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ابھی تنازعے کے خاتمے کے لیے زیادہ تاخیر نہیں ہوئی ہے۔‘

اسی بارے میں