عراق: صدام کے ہم نام ہونے کا کفارہ

Image caption صدام نے ایک سنی عرب حکومت کی قیادت کی اور انہیں شیعہ برادری سمیت ہزاروں لوگوں کے قتل کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے

عراق کے سابق صدر صدام حسین کی گرفتاری سے اب تک ایک دہائی گزر چکی ہے لیکن وہ لوگ کی جن کا نام بدقسمتی سے اس ناپسندیدہ آمر حکمران کے نام پر رکھ دیا گیا تھا، وہ اب بھی لوگوں کے دلوں میں ان کی یاد تازہ کرتے رہتے ہیں۔

کچھ گھنٹوں کے سفر کے بعد ہمیں آخر کار بغداد کے جنوب مشرقی علاقے عزيزيہ میں اندر جانے والے راستے پر روک دیا گیا۔

وہاں موجود ایک پولیس اہلکار ہم سے یہ جاننا چاہ رہے تھے کہ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے صحافیوں کی ٹیم ان کے اس چھوٹے شہر میں کیا کر رہی ہے؟

ابھی پولیس اہلکار ہمارے كاغذات دیکھنے مصرف تھے کہ پاس موجود ایک کار سے ایک شخص باہر نکلا جس نے لمبا سیاہ لباس اور چمڑے کی جیکٹ پہنی تھی۔

اس شخص نے کہا، ’یہ لوگ مجھ سے ملنے آئے ہیں۔‘

پولیس اہلکار نے پوچھا، ’اور آپ کون ہیں؟‘

اس شخص نے جواب دیا، ’میں صدام حسین ہوں۔‘

مجھے پتہ ہے اسے پڑھ کر آپ کیا سوچ رہے ہیں۔ کیا صدام حسین زندہ ہیں اور وہ بھی شیعہ اکثریت والے علاقے میں وہ اس طرح اپنا تعارف کروا رہے ہیں؟

عراق پر تقریباً دو دہائیوں سے زیادہ وقت تک آمر بن کر حکومت کرنے والے صدام حسین کو کیا سال 2006 میں پھانسی نہیں دے دی گئی تھی؟ وہی صدام جنہوں نے ایک سنی عرب حکومت کی قیادت کی اور جنہیں شیعہ برادری سمیت ہزاروں لوگوں کے قتل کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدام حسین کو 2006 میں پھانسی دے دی گئی تھی

درحقیقت یہ دوسرے صدام ہیں۔

انہیں بھی ملک کے ان بے شمار شیعہ سنی کمیونٹی کے لوگوں کی طرح ہی اس نام کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے جن کا نام اصل ملک کے سابق صدر کے اعزاز میں رکھا گیا تھا لیکن اب یہ نام ایک ’ظالم آمر‘ کی یاد دلاتا ہے۔

میری ملاقات شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 35 سال کے صدام حسین علوي سے ہوئی جو جنریٹر آپریٹر کا کام کر کے تھوڑے سے پیسے کما کر گزارہ کرتے ہیں۔

وہ انتہائی ملنسار لگے۔ ہم نے ان سے یہ جاننا چاہا کہ ملک کے سابق صدر کا ہم نام ہونے کی وجہ سے ان کی زندگی میں کس طرح کی تبدیلیاں آئیں۔

1978 میں ان کے دادا نے ان کا نام اس وقت رکھا تھا جب صدام عراق کے صدر نہیں بنے تھے لیکن بہت مقبول ہو رہے تھے۔ تاہم ان کا نام جلد ہی ان کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا۔

اسکول میں ان کے اساتذہ نے انہیں بلند درجے پر رکھنا شروع کر دیا اور وہ یہ امید کرنے لگے کہ نوجوان صدام حسین اپنے ہم نام کے نقشےقدم پر چلتے ہوئے کامیابیاں حاصل کرے گا۔ جب وہ ان کی توقعات پر پورے نہیں اترتے تھے تو انہیں سخت سزا بھی ملتی تھی۔

فوج میں جبری بھرتی کے تحت جب وہ فوج سے منسلک ہوئے تو انہیں یہ امید تھی کہ فوجی اور وہاں موجود افسر ان سے بہتر سلوک کریں گے لیکن اصل میں سب کچھ اس کے برعکس ہوا۔

جب پہلی دفعہ وہ اپنی وردی لینے گئے تو وہاں ڈیوٹی پر مامور افسر نے ان کا نام جاننے کے بعد ان سے بدسلوکی کی اور غصے میں یہ بھی کہا کہ صدر سے ملتا جلتا نام رکھنے کا حوصلہ کر کے انہوں نے ان کے نام کی توہین کرنے کی کوشش کی ہے۔

جب 2003 میں آمر صدام حسین کو معزول کر دیا گیا تب جنریٹر آپریٹر صدام نے سوچا کہ اب ان کے نام سے منسلک بوجھ ختم ہو جائے گا لیکن عراق پر امریکی حملے کے بعد حقیقت اور بھی پیچیدہ ہو گئی۔

سیاسی جماعتوں نے ان کے والد کو فون کر کے ان کا نام تبدیل کرنے کے لیے کہا لیکن ان کے خاندان نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ لوگ اب بھی انہیں سڑک پر دھمكاتے ہیں۔ سرکاری دفاتر کے ملازمین بھی اکثر ان کی کسی درخواست کی سماعت کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

جب انہوں نے سال 2006 میں اپنا نام تبدیل کرنے کی کوشش کی تو حالات اور بدتر ہوگئے۔ نام تبدیل کرنے کے اس کام کے لیے عراق میں یونانی روایت والی نوکر شاہی کو کافی وقت چاہیے تھا اور صدام کو اس کے لیے کافی رقم بھی خرچ کرنی پڑتی۔

عراق کے شمالی اور مغربی سنی اکثریت والے علاقے اور جنوب کے شیعہ فرقے سے متعلق دوسرے بہت سے صدام حسین نے مجھے الگ الگ طرح کی اپنی المناک کہانیاں سنائیں۔

عراق کے ریگستانی صوبے انبار کے ایک سنی شہر رمادی میں کام کرنے والے ایک صحافی صدام نے بتایا کہ ان کے والد کو سرکاری نوکری سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ وہ اپنے اعلیٰ حکام کو اس بات پر یقین نہیں کروا سکے کہ وہ صدام حسین کی بعث پارٹی کے رکن نہیں ہیں۔

انہوں نے اپنے بیٹے کا نام صدام رکھا تھا اس لیے ان کے سینیئر افسران نے یہ دلیل دی کہ ’معزول صدر کے نام کے ساتھ اس سے زیادہ وفاداری کس طرح ظاہر کیا سکتی ہے کہ کوئی اپنے بیٹے کا نام ہی ان کے نام پر رکھ لے۔‘

ایک دوسرے صدام حسین نے مجھے اور بھی خوفناک تجربہ سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں شیعہ شہری فوج نے پکڑ لیا اور ان کے سر کے پیچھے کے حصے میں بندوق تان دی۔ خوش قسمتی سے وہ بندوق چل نہیں پائی اور آخر کار انہیں چھوڑ دیا گیا۔

ایک دوست نے مجھے بتایا کہ بچپن میں بغداد کے ایک اسکول میں ان کی دوستی صدام حسین نام کے ایک طالب علم سے ہوئی۔

کرد بچے اس لڑکے کے ساتھ فٹ بال کھیل رہے ہوتے تھے اور اکثر اُس پر چلاتے تھے: ’نہ صرف ہم بلکہ پورا ملک تم سے نفرت کرتا ہے۔‘

صدام حسین کی حکومت ختم ہوئے ایک دہائی گزر چکی ہے اور لوگ ان کی حکومت کے ختم ہونے پر عوامی طور پر خوشی ظاہر کرتے ہیں۔

اب انہیں تعظیم دینے والے مجسمے، پوسٹر یا کوئی عوامی مقام باقی نہیں رہا، لیکن ان کے ہم نام اب بھی موجود ہیں۔

میں نے جنریٹر آپریٹر صدام سے پوچھا کہ جب لوگ سڑکوں پر ان کے نام پر غصہ ظاہر کرتے ہوئے چلاتے ہیں تو انہیں کیسا لگتا ہے۔

اپنے ایک منزلہ گھر میں والد کے ساتھ بیٹھے ہوئے صدام کہتے ہیں، ’میرے پاس نام کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں، ’یہ صرف ایک نام ہے۔‘ تھوڑا اور زور دے کر کہتے ہیں، ’اس کا کوئی مطلب بھی نہیں ہے۔‘

(پرشانٹ راؤ عراق میں خبر رساں ادارے اے ایف پی کے بیورو چیف ہیں)

اسی بارے میں