یوکرین یورپ کے ساتھ جڑنے پر توجہ دے گا: تورچینوف

اولیکساندر تورچینوف
Image caption امریکہ نے روس کو یوکرین میں کسی قسم کے عسکری مداخلت سے باز رہنے کا کہا ہے

یوکرین کے نئے عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف نے کہا ہے کہ ان کا ملک یورپی یونین کے ساتھ جڑنے پر توجہ دے گا۔

پارلیمان کی طرف سے عبوری صدر مقرر ہونے کے چند گھنٹے بعد اولیکساندر تورچینوف نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمیں یورپی ممالک کے اپنے خاندان میں واپس جانا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ ’مذاکرات‘ کے لیے تیار ہیں۔

سنیچر کو ارکان پارلیمینٹ نے صدر وکٹر یانو کووچ کو کئی دنوں سے جاری عوامی احتجاج کے بعد اقتدار سے ہٹانے اور ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اتوار کو صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد تورچینوف نے ارکان پارلیمنٹ کو حکومتی اتحاد بنانے کے لیے منگل تک کا وقت دیا تھا۔

یورپین یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ وہ پیر کو کیئف کا دورہ کریں گی۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ وہاں یوکرین کے لیے ای یو کی حمایت، سیاسی کشیدگی کے لیے مستقل حل اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات پر بات چیت کریں گی۔‘

تورچینوف نےکہا کہ وہ روس کے ساتھ ’نئے، صاف و شفاف اور پڑوسیوں کی برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں جس میں یوکرین کے یورپ کے ساتھ جڑنے کی خواہش کو مدِنظر رکھا جائے۔‘

سابق وزیرِاعظم یُولیا ٹیماشنکو کے قریبی ساتھی اور ملک کے عبوری صدر تورچینوف نے کہا کہ اتحادی حکومت کا قیام ان کی ’اولین ترجیح‘ ہے۔

روس برطرف صدر وکٹر یانو کووچ کی حمایت کرتا رہا ہے اوروہ کیئف میں آنے والی تبدیلیوں پر خوش نہیں ہے۔ روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ ’حزبِ اختلاف نے کیئف میں اقتدار پر قابض ہو کر غیر مسلح ہونے سے انکار کیا ہے اور تشدد پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔‘

روس نے کیئف سے اپنے سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا ہے۔

برطرف کیے جانے والے صدر یانوکووچ نے پارلیمنٹ کے ان اقدامات کو بدمعاشی اور بغاوت قرار دیا تھا۔

امریکہ نے یوکرین کے پارلیمان کے اقدامات کو قانونی قرار دیتے ہوئے روس کو کسی قسم کی عسکری مداخلت سے باز رہنے کا کہا ہے۔ امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس نے روس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں عسکری مداخلت ’بڑی غلطی‘ ہوگی۔

روس اور امریکہ یوکرین میں حالیہ کشیدگی کے دوران مختلف دھڑوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ امریکہ ای یو کے ساتھ مل کر یوکرین میں حزبِ اختلاف کی حمایت کرتا ہے۔

اس سے پہلے اطلاعات کے مطابق جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے یوکرین کے عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ان پر ملکی یک جہتی کے لیے کام کرنے پر زور دیا تھا۔

انگیلا میرکل کے ترجمان نے کہا کہ چانسلر نے روس کے صدر ولادی میر پوتن سے بھی اتوار کو ٹیلی فون پر بات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے’یوکرین کی سالمیت اور حفاظت پر اتفاق کیا۔‘

یوکرین کا مشرقی حصہ روس کا، جبکہ مغربی حصہ ای یو کا حامی ہے جس کی وجہ سے ملک کے ان دو حصوں کے درمیان خلیج بڑھنے کے خدشے کا اظہار کیا رہا ہے۔

جرمنی اس کشیدگی میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور جرمنی کے بعض ارکانِ پارلیمان نے یوکرین کو جلدی معاشی امداد دینے کا کہا ہے۔

ادھر ملک کے وزارتِ داخلہ کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران 88 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر سابق صدر کے خلاف تھے۔

اسی بارے میں