یوکرین: سابق صدر یانوکووچ کے وارنٹ گرفتاری

یانوکووچ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برطرف کیے جانے والے صدر یانوکووچ نے پارلیمنٹ کے اقدامات کو بدمعاشی اور بغاوت قرار دیا تھا

یوکرین میں عبوری حکومت کے وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے برطرف صدر یانوکووچ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں۔

آرسین آواکوف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر لکھا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر پُرامن شہریوں کے قتل کے باعث برطرف صدر یانوکووچ اور دیگر افسران کے خلاف فوجداری مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔‘

ملک کے عبوری وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں یہ بھی لکھا ہے کہ یانوکووچ کو اتوار کے روز بلاکلاوا کے جزیرہ نما کرائمیا میں دیکھا گیا تھا تاہم اس کے بعد وہ اپنے معاون کے ہمراہ نامعلوم مقام پر چلے گئے۔

یوکرین میں کئی ماہ تک جاری رہنے والے عوامی احتجاج کے بعد سنیچر کو پارلیمنٹ کے اراکین نے صدر یانوکووچ کے مواخذے کے لیے ووٹ ڈالا تھا۔

خِیال رہے کہ یوکرین میں حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی تھی۔

یوکرین میں ان پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس ے پہلے یوکرین کے نئے عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف نے واضح کیا کہ ان کا ملک یورپی یونین کے ساتھ جڑنے پر توجہ دے گا۔

پارلیمان کی طرف سے عبوری صدر مقرر ہونے کے چند گھنٹے بعد اولیکساندر تورچینوف نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمیں یورپی ممالک کے اپنے خاندان میں واپس جانا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ ’مذاکرات‘ کے لیے تیار ہیں۔

یورپین یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن بھی پیر کو کیئف کا دورہ کرنے والی ہیں۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ وہاں یوکرین کے لیے ای یو کی حمایت، سیاسی کشیدگی کے لیے مستقل حل اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات پر بات چیت کریں گی۔

سابق وزیرِاعظم یُولیا ٹیماشنکو کے قریبی ساتھی اور ملک کے عبوری صدر تورچینوف نے کہا کہ اتحادی حکومت کا قیام ان کی ’اولین ترجیح‘ ہے۔

روس برطرف صدر وکٹر یانو کووچ کی حمایت کرتا رہا ہے اور وہ کیئف میں آنے والی تبدیلیوں پر خوش نہیں ہے۔ روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ ’حزبِ اختلاف نے کیئف میں اقتدار پر قابض ہو کر غیر مسلح ہونے سے انکار کیا ہے اور تشدد پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔‘

برطرف کیے جانے والے صدر یانوکووچ نے پارلیمنٹ کے اقدامات کو بدمعاشی اور بغاوت قرار دیا تھا۔

امریکہ نے یوکرین کے پارلیمان کے اقدامات کو قانونی قرار دیتے ہوئے روس کو کسی قسم کی عسکری مداخلت سے باز رہنے کا کہا ہے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس نے روس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں عسکری مداخلت ’بڑی غلطی‘ ہوگی۔

روس اور امریکہ یوکرین میں حالیہ کشیدگی کے دوران مختلف دھڑوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ امریکہ ای یو کے ساتھ مل کر یوکرین میں حزبِ اختلاف کی حمایت کرتا ہے۔

یوکرین کا مشرقی حصہ روس کا، جبکہ مغربی حصہ ای یو کا حامی ہے جس کی وجہ سے ملک کے ان دو حصوں کے درمیان خلیج بڑھنے کے خدشے کا اظہار کیا رہا ہے۔

جرمنی اس کشیدگی میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور جرمنی کے بعض ارکانِ پارلیمان نے یوکرین کو جلدی معاشی امداد دینے کا کہا ہے۔

ادھر ملک کے وزارتِ داخلہ کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران 88 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے زیادہ تر سابق صدر کے خلاف تھے۔

اسی بارے میں