امریکی فوج کی تعداد کو کم کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دوسری جنگ عظیم سے پہلے امریکی فوجیوں کی تعداد دو لاکھ 67 ہزار تھی

امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل نے ملک کی فوج کی تعداد میں کمی کا منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت فوج کی تعداد کو دوسری جنگ عظیم سے پہلے کی تعداد پر لایا جائے گا۔

وزیر دفاع چک ہیگل نے دفاعی بجٹ کے خدوخال بیان کرتے ہوئے کہا کہ حاضر سروس فوجیوں کی تعداد کو موجودہ تعداد پانچ لاکھ 20 ہزار سے کم کر کے چار لاکھ 40 ہزار سے لے کر ساڑھے چار لاکھ کے درمیان لایا جائے گا۔

اس کے علاوہ سرد جنگ کے دور کے فضائیہ کے بیڑے، جاسوس طیارے یو ٹی اور اے ٹین جنگی جہازوں کو بھی ریٹائر کر دیا جائے گا۔

فوجیوں کی تعداد میں کمی اور دیگر اقدامات کے منصوبے کی کانگریس سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔

ملک سے باہر دو مہنگی جنگوں کے بعد امریکی فوج پر بجٹ میں کمی کے سلسلے میں دباؤ ہے۔

وزیر دفاع چک ہیگل نے پیر کو پینٹاگون میں منصوبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وقت حقیقت کا ہے۔ یہ بجٹ ہمارے مالی چیلنجوں کے حجم کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے۔ ہمیں آگے مشکل فیصلے کرنے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے جس میں ہم رہ رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملک سے باہر دو مہنگی جنگوں کے بعد امریکی فوج پر بجٹ میں کمی کے سلسلے میں دباؤ ہے

افغانستان میں رواں سال امریکہ کے جنگی مشن کے خاتمے کے بعد توقع ہے کہ فوجیوں کی تعداد کو کم کر کے چار لاکھ 90 ہزار تک لایا جائے گا۔

امریکی وزیر دفاع نے امریکہ کی جنگی قوت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب جب ہم استحکام کی طویل کارروائیوں کے لیے فوج کی تعداد مقرر نہیں کر رہے تو موجودہ فوج ہماری دفاعی حکمت علمی کے ضروریات سے زیادہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 2017 تک ملک میں کئی فوجی اڈوں کو بند کرنے کا منصوبہ ہے۔ حالیہ سالوں میں اس طرح کے کئی منصوبوں کو کانگریس مسترد کر چکی ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے فوجیوں کی تنخواہ اور دیگر مراعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے رہائش کے معاوضے میں کمی، تنخواہوں میں اضافے میں کمی اور طبی سہولیات میں اضافے کی تجاویز بھی دی ہیں۔

دفاعی بجٹ میں کمی کے منصوبے کا اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب اوباما انتظامیہ رواں سال نومبر میں وسط مدتی صدارتی انتخاب کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

دوسری جنگ عظیم سے پہلے امریکی فوجیوں کی تعداد دو لاکھ 67 ہزار تھی۔ 1952 میں کوریا کی جنگ اور 1968 میں ویت نام کی جنگ کے دوران فوجیوں کی تعداد 16 لاکھ کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی تھی۔

2001 میں نائن الیون کے حملوں سے پہلے امریکی فوجیوں کی تعداد چار لاکھ 82 ہزار تھی اور سال 2010 میں یہ تک تعداد پانچ لاکھ 66 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

اسی بارے میں