شام: یرموک کا پناہ گزین کیمپ

Image caption اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے اب تک تقریباً 65 لاکھ افراد بے گھر جب کہ 25 لاکھ افراد کا مہاجرین کے طور پر اندراج کیا گیا ہے

’خدا کے لیے ہمیں بچا لو، ہم یہاں مر رہے ہیں، ہمیں یہاں سے دور لے چلو۔‘ 60 سالہ وفیقہ نے روتے ہوئے ہوئے کہا۔

وفیقہ کے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے اور وہ اپنے كھردرے ہاتھوں میں اپنے چہرے کو چھپا لیتی ہیں۔

وفیقہ شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع یرموک کے ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں گزشتہ آٹھ ماہ سے پھنسی ہوئی ہیں۔

ان کا درد اب حد سے گزر چکا ہے اور وہ ہر اس شخص کی جانب دوڑ پڑتی ہیں جو انھیں اس حالت سے باہر نکال سکے۔

وفیقہ کے پیچھے سینکڑوں افراد سیکورٹی گھیرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اقوامِ متحدہ کے خوراک تقسیم کرنے کے مرکز تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سکیورٹی اہل کاروں کو انھیں سنبھالنے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑ رہی ہے۔

اتنے میں ایک خاتون چلاتی ہے ’میں یہ سب جھیلتے جھیلتے تھک چکی ہوں۔‘

ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے یہ خاتون ایک سانحہ کو جھیل رہے افراد کی خود ساختہ ترجمان بن گئی ہیں۔

کئی افراد رو رہے ہیں، بزرگ ویل چیئر پر پڑے ہیں، بے حد تھکی نظر آ رہی خواتین اور ہر عمر کے بے بس بچے۔ ان بچوں میں غذائی قلت کی علامات صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔

Image caption وفیقہ شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع یرموک کے ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں گزشتہ آٹھ ماہ سے پھنسی ہوئی ہیں

ایک ماں نے مجھ سے کہا ’ہمیں گھاس پھوس کو مصالحے کے ساتھ ابال كر کھانا پڑا۔‘ ان کی ایک بیٹی مسلسل روئے جا رہی ہے۔

انھوں نے سیاہ رنگ کے جوتے اور ایک کوٹ پہنا ہے جو شاید ان کے بہتر ماضی کی آخری نشانی ہے۔

جذبات کا جوار اتنا مشتعل ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے آفت ابھی ابھی آئی ہے۔

یرموک کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے آپ کسی متاثرہ علاقے میں ہیں۔ مکانوں میں توپ گولوں کے نشان دیکھے جا سکتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر صرف ملبے کا ڈھیر ہیں۔

لیکن یہ ایک انسانی آفت ہے جو ایسے مقابلے سے حاصل ہوتی ہے جس میں کھانے کو جنگ کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے درمیان کام کرنے والی اقوامِ متحدہ کی ریليف اینڈ ورکس ایجنسی انروا کو سب سے پہلے 18 جنوری کو ایک کیمپ میں پہنچنے میں کامیابی ملی۔

شام کے باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان ہوئے ایک معاہدے کے تحت محدود مقدار میں خوراک اور ادویات کی تقسیم کی اجازت دی گئی ہے۔

معاہدے کے مطابق شام کے باغی کیمپ کے باہر چلے جائیں گے اور ان کی جگہ حکومت کے ہمراہ فلسطینی گروپ ان کی جگہ لیں گے۔

ابھی معاہدے کا تفصیلی خاکہ تیار ہو رہا ہے لیکن اقوامِ متحدہ کو لوگوں تک کھانا پہنچانے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے اور کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ کھانے کی تقسیم ہی نہیں ہو پاتی۔

شامی حکومت سے اجازت لینے کے بعد جس دن ہم اقوامِ متحدہ کے ساتھ یرموک پہنچے اس دن کھانے کے صرف 60 پارسل تقسیم کیے گئے. وہاں مرد اور خواتین الگ الگ قطاروں میں سلیقے سے کھڑے تھے۔

ان کے پیچھے تباہ شدہ عمارتوں میں کئی لائنیں لگی تھیں اور لوگ چلا رہے تھے۔ ہزاروں افرادا تو خوراک کی تقسیم کے مرکز تک پہنچ ہی نہیں سکے۔

Image caption اقوامِ متحدہ کو لوگوں تک کھانا پہنچانے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے اور کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ کھانے کی تقسیم ہی نہیں ہو پاتا

انروا کے کمشنر جنرل فلپو گرانڈي بھی شام کے لوگوں کو امید کا پیغام دینے کے لیے یرموک آئے ہیں۔ گرانڈي ان سے کہتے ہیں ’ہم آپ کو نہیں بھولیں گے اور نہ ہی دنیا آپ کو بھولے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ہم ہر شخص تک پہنچنا چاہتے ہیں بشرطیکہ اس جنگ میں شامل افراد ہمیں یہ موقع دیں۔

یرموک میں جہاں امید کی دھندلی کرن نظر آتی ہے تاہم یہ جنگ کے تلخ حقائق کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

اس کیمپ کو سنہ 1948 میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران بےگھر ہونے والی فلسطینی پناہ گزینوں کو بسانے کے لیے قائم کیا گیا تھا لیکن سنہ 2012 کے آخر میں باغی گروہوں کے یہاں آنے سے یہ میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا تھا۔

اس کیمپ میں ایک لاکھ 80 ہزار فلسطینی پناہ گزین رہتے تھے اور یہ شام کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ تھا۔ شام میں لڑائی شروع ہونے کے بعد ہزاروں افراد یہاں سے بھاگ گئے تھے۔

لیکن جب شامی فوج نے گزشتہ سال جولائی میں اس کیمپ کی گھیرا بندی کی تو تقریباً 20 ہزار پناہ گزین وہاں پھنس گئے تھے۔

ان میں سے اب کچھ ہی وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے۔ جب ہم یرموک سے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے تو ہمیں 13 سالہ کا كفاہ ملا جو اپنی دو چھوٹی بہنوں کے ساتھ نکلنے کی تیاری میں تھا۔

اس نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ’یہاں سب کچھ معمول ہے۔‘ لیکن جیسے ہی اس نے بھوک کی بات کی تو وہ اپنے آنسوؤں کو نہیں روک پایا۔ اس نے صرف اتنا کہا ’یہاں کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔‘

جب ہم وہاں سے نکل رہے تھے تو وفیقہ ہم سے بہت دور نہیں تھیں۔ وہ اپنے ایک رشتہ دار کی مدد سے وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہیں۔

روٹی کا ایک ٹکڑا چباتے ہوئے انھوں نے کہا ’میں اس جہنم سے نکل آئی ہوں۔ اب ہمیں گھاس نہیں کھانی پڑے گی۔‘ لیکن پانچ بیٹوں اور چار بیٹیوں کی ماں اور سات پوتے پوتیوں والی وفیقہ کو اب بھی سکون نہیں ملا ہے۔

انھوں نے کہا ’میرے تین بیٹے اب بھی وہاں ہی ہیں۔‘

یرموک اس وسیع جنگ کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے لیکن یہ اس جنگ میں تباہی اور دکھ کی پوری تصویر دکھاتی ہے اور ساتھ ہی چیخ چیخ کر یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ اس کے حل کا راستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں