امریکہ میں ’ایک کروڑ ڈالر مالیت‘ کے سکے دریافت

Image caption ان سکوں کی دریافت کو امریکی تاریخ میں دریافت ہونے والا سب بڑا مدفون خزانہ قرار دیا جا رہا ہے

امریکی ریاست کیلی فورنیا کے قریب واقع قصبے میں ایک جوڑے کو سونے کے سکوں پر مشتمل ایک خزانہ ملا ہے جس کی مالیت ایک کروڑ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

جس جوڑے کی اراضی سے یہ سکے برآمد ہوئے ہیں ان کا نام نہیں بتایا گیا ہے اور نایاب سکوں کی شناخت کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سکے بہت قیمتی ہیں۔

سکہ شناس ڈیوڈ ہال نے اے پی کو بتایا کہ ان سکوں میں 1847 سے 1894 کے درمیان کے دور سے تعلق رکھنے والے 1427 سکے ہیں جو کبھی بھی استعمال میں نہیں رہے اور بہترین حالت میں ہیں۔

یہ واقعہ گذشتہ اپریل کا ہے جب یہ نامعلوم جوڑا چہل قدمی کے لیے نکلا ہوا تھا اور اسے یہ سکے درخت کے نیچے سے لوہے کے زنگ آلود ڈبوں میں رکھے ہوئے ملے تھے۔

ان سکوں کی دریافت کو امریکی تاریخ میں مدفون خزانے کی سب سے بڑی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔

کرنسی کے لین دین کا کاروبار کرنے والی کمپنی ’کیگنز‘ کے ڈیوڈ مکارتھی اس جوڑے کے مشیر ہیں۔ انھوں نے روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم نے غرقاب بحری جہازوں سے ملنے والا خزانہ دیکھا ہے جس میں ہزاروں سونے کے سکے ملے جن کی مالیت بہت زیادہ تھی مگر اس طرح مدفون خزانے کا کبھی نہیں سنا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ جوڑا کیلی فورنیا کے جس دیہی علاقے میں رہتا ہے جسے گولڈ کنٹری کہا جاتا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے کبھی اس حالت اور مالیت کے سکے شمالی امریکہ میں نہیں دیکھے۔‘

یہ جوڑا کیلی فورنیا کے ایک دیہی علاقے میں رہتا ہے جسے گولڈ کنٹری کہا جاتا ہے کیونکہ 19 ویں صدی میں اس علاقے میں بڑی تعداد میں لوگ سونے کی تلاش میں آئے تھے۔

انھیں یہ سکے اپنی ہی زمین میں سے ملے جسے سیڈل رج کہا جاتا ہے۔ سکوں کا کاروبار کرنے والے افراد نے اس کے بعد اس خزانے کو سیڈل رج ہورڈ کہنا شروع کر دیا ہے۔

یہ اب تک ایک راز ہے کہ یہ سکے یہاں کیسے اور کیوں دفن کیے گئے۔

ڈیوڈ ہال نے ان سکوں کی اصلیت کی سند جاری کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سکوں کی اصل قیمت 27 ہزار ڈالر تک ہے مگر ان میں سے بعض سکے اتنے نایاب ہیں کہ ان کی فی سکہ مالیت دس لاکھ ڈالر تک ہو سکتی ہے۔

اس جوڑے کا ارادہ ہے کہ وہ ان سکوں کو ویب سائٹ ایمازون پر فروخت کریں گے۔

اسی بارے میں