دبئی میں جنگ زدہ علاقوں کے سونے کی خرید و فروخت کا انکشاف

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میں اس قسم کے راز کو دل میں لے کر جی نہیں سکتا تھا: امجد ریحان

ایک مخبر نے کہا ہے کہ دبئی میں سونے کی ایک بہت بڑی کمپنی نے دنیا کے جنگ زدہ علاقوں سے مارکیٹ میں سونا لانے کو روکنے کے لیے بنائے گئے قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔

جانچ پڑتال کرنے والی کمپنی ارنسٹ انیڈ ینگ کی ایک ٹیم نے امجد ریحان کی سربراہی میں سونے کا کاروبار کرنے والی بین الاقوامی کمپنی کالوتی کا آڈٹ کیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ کمپنی سونے کی خرید و فروخت کے حوالے سے قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کر رہی۔

لیکن جب ٹیم نے یہ بات دبئی میں متعلقہ حکام کو بتائی تو انھوں نے جانچ پڑتال کا طریقۂ کار ہی بدل ڈالا۔

امجد شہزاد کا کہنا ہے کہ طریقۂ کار میں تبدیلی کی وجہ سے جانچ پڑتال کےدوران جو سنگین قسم کی بے قاعدگیاں سامنے آئی تھیں اسے چھپانے کی کوشش کی گئی۔ حکام کے اس قدم سے ارنسٹ اینڈ ینگ نے بھی چشم پوشی کی۔

دبئی کے حکام ارنسٹ اینڈ ینگ اور کالوتی کا کہنا ہے کہ انھوں نے کوئی غلط کا نہیں کیا۔

امجد ریحان نے بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا کہ ’جنگ زدہ علاقوں سے آنے والے سونے کا دبئی اور بین الاقوامی بازار میں داخل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔‘

جس آڈٹ ٹیم نے گذشتہ سال کالوتی کا دورہ کیا تھا، اس نے دبئی ملٹی کموڈیٹی سینٹر (ڈی ایم سی سی) کو اس بے قاعدگیوں کے بارے میں خبردار کیا اور ارنسٹ اینڈ ینگ کے اعلیٰ حکام پر زور دیا کہ وہ دبئی کے دیگر نگران اداروں اور سونا خریدنے والے صارفین کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں۔

گذشتہ مئی میں ڈی ایم سی سی کے وضع کیے گئے اصولوں کے مطابق آڈٹ ٹیم کو جانچ پڑتال کی رپورٹ کو عوامی سطح پر جاری کرنا تھا لیکن نومبر تک یہ شرط ختم ہو کر دی گئی۔

اس وجہ سے امجد ریحان کو دبئی کے حکام اور اپنی کمپنی پر سخت غصہ آیا اور انھوں نے استعفیٰ دے کر اس راز کو افشاں کرنے کا فیصلہ کیا۔

وہ یہ کہانی مہم چلانے والے ایک گروپ گلوبل ویٹنیس کو دیا جنھوں نے بعض کلیدی دستاویزات نیوز نائٹ کو دیں۔ امجد کے افشا کیے گئے رازوں کو گارڈیئن اور الجزیرہ نے بھی نشر کیا ہے۔

امجد نے کہا کہ ’میں اس قسم کے راز کو دل میں لے کر جی نہیں سکتا تھا۔ میں دن کے اختتام پر گھر آ کر اپنے بچوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ کہنے کے قابل نہ ہوتا کہ مجھے اپنے آپ پر فخر ہے۔ میں کبھی خوش نہ رہتا۔‘

امجد ریحان کی سربراہی میں ارنسٹ اینڈ ینگ کی ٹیم نے کالوتی کو سونا خریدنے کے ذرائع کے حوالے سے کئی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

  1. کمپنی نے بغیر کاغذی کارروائی کے تقربیاً 5.2 ارب امریکی ڈالر کی ادائیگیاں کیں جو اس کے کاروبار کے تقربیاً 40 فیصد حصہ بنتا ہے۔

  2. کمپنی نے سونے سے رنگا گیا چار ٹن چاندی درآمد کی جسے کالوتی نے مشرقی کانگو کے جنگ زدہ علاقے سے تعلق رکھنے والے سپلائر کے ساتھ’عام ڈیل‘ قرار دیا۔

تنازعے سے پاک سونا وہ ہوتا ہے جس کی پیداوار سے کسی غیر قانونی مسلح کشیدگی کو فائدہ نہ پہنچا ہو یا یہ غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوا ہو۔

دبئی دنیا میں سونے کے کاروبار کا بہت بڑا مرکز ہے۔ دنیا میں سونے کے کاروبار کا 20 فیصد حصہ دبئی میں طے پاتا ہے۔

سونا زیورات میں استعمال ہوتا ہے اور اس کی اینٹیں بنائی جاتی ہیں، جبکہ سالانہ 300 ٹن سونا الیکٹرانک آلات جیسا کہ کمپیوٹر کی تاروں اور سمارٹ فون وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔

امجد ریحان نے کہا کہ ’ہم نے حکام کو جانچ پڑتال کے دوران سامنے آنے والی سنگین بےقاعدگیوں اور جنگ زدہ علاقوں سے معدنیات کا دبئی کے بازار میں آنے کے خطرے کے بارے میں آگاہ کیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’دبئی کے حکام اس سے خوش نہیں ہوئے اور جب انھیں احساس ہوا کہ ہم اپنی رپورٹ کو تبدیل نہیں کریں گے تو انھوں نے اپنے ہی آڈٹ کے اصولوں کو اس طرح سے تبدیل کر دیا کہ آڈٹ کے دوران سامنے آنے والے نتائج کو عوامی سطح پر جاری نہیں کیا گیا۔‘

ڈی ایم سی سی اس بات کی تردید کرتی ہے کہ اس نے آڈٹ کی رپورٹ کو چھپانے کے لیے اپنے ضابطوں میں تبدیلی کی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے ضابطوں میں تبدیلی اپنے آپ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کے لیے ایک مشیر کے مشورے پر کی۔

اسی بارے میں