’صومالیہ کے مچھر جنگجو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’’’’الشباب کو پانچ ہزار جنگجوؤں کے علاوہ ’دیہاڑی دار جنگجوؤں کی خدمات بھی حاصل ہیں

صومالیہ کی حکومت القاعدہ سے منسلک الشباب کے خلاف ایک نیا آپریشن کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار میری ہارپر نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ الشباب کیسے ہر آپریشن کے بعد پہلے سے مضبوط ہو کر سامنے آتی ہے۔

پچھلے ہفتے الشباب کے جنگجوؤں کی طرف سے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے سب محفوظ علاقے ’ویلا صومالیہ‘ پر یلغار نے مجھے زیادہ حیران نہیں کیا۔

میں نے حال ہی میں جب ویلا صومالیہ کا دورہ کیا تو میں حیران رہ گئی کہ اس وہاں سکیورٹی کتنی کمزور ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مجھے بہت سی چیک پوسٹوں سےگزرنا پڑا لیکن میرے ساتھ میری ایک دوست بھی تھی جس کے پاس نہ تو سکیورٹی پاس تھا اور نہ ہی اس کا نام سکیورٹی چیک پوسٹ والوں کے پاس تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہ بغیر کسی مشکل کے ویلا صومالیہ میں پہنچ گئی تھی۔

نہ تو صومالی حکومت کے فوجیوں اور نہ ہی افریقی یونین کے فوجیوں نے اپنی چیک پوسٹوں پر میری اس دوست کی شناخت کے بارے میں کوئی سوال کیا۔

جس روز الشباب نے صومالیہ کے ’طاقت کے مرکز‘ پر حملہ کر 11 لوگوں کو ہلاک کیاگیا میں نے اسی روز الشباب کے ایک اہلکار سے ٹیلیفون پر بات کی۔ الشباب کا یہ اہلکار انتہائی اچھے موڈ میں محسوس ہو رہا تھا اور اس کے لہجے میں کوئی پریشانی نہیں تھی۔

الشباب کے اس اہلکار نے مجھ سے کہا: ’ویلا صومالیہ موغادیشو کا سب سے محفوظ علاقہ ہے اور موغادیشو ملک کا سب سے محفوظ شہر ہے۔ اس کے باوجود ہم صدارتی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

میرا اس ’مرتد‘ صدر کو مشورہ ہے کہ وہ صومالیہ کی حفاظت سے پہلے اپنے گھر اور اپنے عملے کی تو حفاظت کر لے۔‘

پھر الشباب کے یہ اہلکار بتانے لگا کہ :’ کس طرح ’’ہمارے لڑکوں‘‘ نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔ پہلے انہوں نے علاقے کا معائنہ کیا، سکیورٹی کے کمزور پوائنٹس کی نشاندہی کی۔ پھر دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی گاڑی تیار کی اور پھر شیروں کی طرح مرنے کی تیاری کی۔

جب گاڑی نے ایک چیک پوسٹ کو ہٹ کیا تو ہمارے پیادہ نوجوان پانچ چیک پوسٹوں سےگزر کر اپنے ہدف تک پہنچے۔‘

نئے سال کے شروع ہونے کے بعد سے صومالیہ میں الشباب کے حملوں میں تیزی دیکھنےمیں آئی ہے۔ جب نئے سال کے موقعے پر جزیرہ پیلس ہوٹل پر حملہ ہوا تو میں وہاں موجود تھی۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھی تھی جب ہم نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور دھماکہ ہوا۔

الشباب تنظیم نے یہ ایک نیا طریقہ اپنایا ہے۔ پہلے وہ بارود سے بھری ہوئی گاڑی کو چیک پوسٹ سے ٹکراتے ہیں۔ جب سکیورٹی سروسز اور ایمبولینس سروسز وہاں پہنچتی ہیں تو ایک اور دھماکہ ہو جاتا ہے۔

دیہاڑی دار جنگجو

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الشباب کے پاس کتنے جنگجو ہیں۔ کچھ اندازوں کےمطابق اس کے پاس پانچ ہزار جنگجو ہیں۔ اس کےعلاوہ اس کے پاس دیہاڑی کی بنیاد پر کام کرنے والے جنگجو بھی ہیں۔

ماضی میں جب بھی صومالیہ کی حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف کوئی کارروائی کی تو الشباب کے جنگجو خاموشی سے اس شہر سے نکل جاتے ہیں۔ انہوں نے تو اپنی آمدنی کے بڑے مرکز کسمائیو کے شہر کو بھی باآسانی چھوڑ دیا۔ لیکن کسمائیو کے کاروباری حضرات بتاتے ہیں کہ وہ اب بھی الشباب کو بھتہ دیتے ہیں۔

آپ حیران ہوں گے کہ جب ملک ایسے حالات سے گزر رہا ہے جہاں الشباب کے جنگجو نہ صرف رات کو بلکہ دن دہاڑے کارروائیاں کرتے ہیں، وہاں لوگ اس پر زیادہ توجہ دیتے ہیں کہ صدر حسن شیخ محمد اپنا اگلا وزیر کس کو چنیں گے۔

جب میں نے عام صومالی شہریوں سے بات کی اور پوچھا کہ الشباب اپنے حملوں میں تیزی کیوں لے آئی ہے تو بعض کا خیال تھا کہ یہ حکومتی افواج اور افریقن یونین کی افواج کی طرف سے الشباب کے خلاف ہونے مشترکہ آپریشن کی تیاریوں کا ردعمل ہے۔ صومالیہ میں اس وقت افریقن یونین کے 22000 فوجی موجود ہیں۔

جب میں نے اس مجوزہ آپریشن کے حوالے سے الشباب کا موقف جاننے کی کوشش کی تو جواب ملا: ’ہمیں تو کوئی پریشانی نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کے کوئی آثار دیکھے ہیں۔‘

الشباب کے اہلکار نے مجھے بتایا: ’ہم 2007 سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم راہِ راست پر ہیں۔ ہم میں غیرت ہے اور بلکہ مذہب کی راہ پر موت کو گلے لگانا اچھا ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’مرتد‘ صدر اپنے گھر کی تو حفاظت کر لے: الشباب اہلکار

اگر الشباب کے خلاف نیا آپریشن شروع ہوتا ہے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ الشباب کے جنگجو پہلے کی طرح اس شہر یا قصبے کو چھوڑ جائیں گے اور کچھ جنگجو اپنا بھیس بدل لیں گے۔

لیکن وہ مچھروں کی طرح رات کو کارروائیاں شروع کر دیں گے۔

مچھروں کی طرح وہ کاٹیں گے اور انہیں ختم کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو گا۔