بی بی سی کی عالمی سروس کا پہلا ’برطانوی دورہ‘

Image caption یہ پروگرام بی بی سی کی عالمی سروس اور برطانیہ کے علاقائی اور قومی ریڈیو سٹیشنوں پر براہِ راست نشر ہوں گے

بی بی سی کی عالمی سروس کے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر پیش کیے جانے والے مباحثے کا پروگرام ’ورلڈ ہیو یوئر سے‘ پہلی مرتبہ برطانیہ میں بی بی سی کے ریڈیو سٹیشنوں اور عالمی سروس کے ساتھ مل کر برطانیہ میں مقیم مختلف کمیونٹیز کی دلچسپی کے موضوعات پر مباحثوں کی سیریز منعقد کر رہا ہے۔

اس سیریز کا آغاز 27 فروری کو کارڈف میں منعقدہ مباحثے سے ہوگا جس کی میزبانی بی بی سی ویلز اور بی بی سی افریقہ مشترکہ طور پر کریں گے۔

اس کے بعد مارچ کے مہینے میں ایسے مزید تین مباحثے پیش کیے جائیں گے جن میں سے پہلا مباحثہ 11 مارچ کو گلاسگو، دوسرا 18 مارچ کو مانچسٹر اور تیسرا 25 مارچ کو لیورپول میں منعقد ہوگا۔

11 مارچ کو ہونے والا مباحثہ بی بی سی سکاٹ لینڈ اور بی بی سی عربی، 18 مارچ کا پروگرام بی بی سی اردو اور بی بی سی مانچسٹر اور 25 مارچ کا پروگرام بی بی سی چائنیز اور بی بی سی مرسی سائیڈ مل کر پیش کریں گے۔

یہ پروگرام بی بی سی کی عالمی سروس اور علاقائی اور قومی ریڈیو سٹیشنوں پر براہِ راست نشر کیے جائیں گے۔

ان تمام مباحثوں کو شامل افراد ان موضوعات پر بحث کریں گے جو بی بی سی کے ریڈیو سٹیشنز اور عالمی سروس کی لینگوئج سروسز نے مل کر منتخب کیے ہیں اور ان مباحثوں کی مدد سے برطانیہ کی مختلف کمیونٹیز کو اپنے سامعین سے جڑنے اور اپنے مسائل اور نقطۂ نظر کو عالمی سامعین تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

بی بی سی ورلڈ سروس لینگویجز کی کنٹرولر للیئن لینڈر نے کہا ہے: ’یہ سیریز عالمی سروس اور اس کی لینگویج سروسز کی اس انوکھی قدر کی مجسم مثال ہے جو وہ برطانیہ میں بی بی سی کے سامعین و ناظرین کو مہیا کرتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ہم اپنی بین الاقوامی مہارت اور بصیرت کو بروئے کار لا کر عالمی اور مقامی صورتِ حال کی تفہیم کی کوشش کریں گے اور ان کے درمیان تقابل و موازنہ کریں گے۔ ہم ذاتی تجربات کو جانچیں گے اور اختلافات پر اظہارِ خیال کریں گے۔ اس سے بی بی سی کو مزید مضبوط اور نمایاں بنانے میں مدد ملے گی۔

انگلش ریجنز کے کنٹرولر ڈیوڈ ہولڈز ورتھ کے مطابق: ’عالمی سروس کے ساتھ کام کر کے ہمیں بی بی سی کے علاقائی سامعین و ناظرین کو عالمی ناظرین و سامعین سے جوڑنے کا ایسا موقع ملے گا جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ مباحثے برطانیہ میں کمیونٹیز سے ہمارے مذاکرے کو تازہ رخ دیں گے، غیر ملکی سامعین سے ہمارے رشتے کو مضبوط بنائیں گے اور یہ دکھائیں گے لوگ چاہے جہاں رہیں، ان کی زندگی میں یہ رابطے کتنے عالمی ہیں۔‘