بغداد: بم دھماکوں میں 30 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراق میں شدت پسندی کے واقعات میں گذشتہ ایک سال سے اضافہ ہوا ہے

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق بغداد کے علاقے صدر سٹی میں پرانے موٹرسائیکلوں کی مارکیٹ میں ہونے والے دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہوئے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق بم ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا اور اس کے پھٹنے کے نتیجے میں 45 افراد زخمی ہو گئے۔

صدر سٹی کے علاقے میں ایک منی بس میں دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے۔

جمعرات کو ہونے والے بم حملوں کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ملک میں القاعدہ سے منسلک سنی جنگجو شیعہ حکومت کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عراق میں گذشتہ ایک سال کے دوران فرقہ وارانہ فسادات میں شدید تیزی دیکھی گئی ہے۔

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ صرف جنوری کے مہینے میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ گذشتہ چھ سالوں میں کسی ایک ماہ میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق عراق میں سال 2007 کے بعد سال 2013 میں سب سے زیادہ پرتشدد واقعات پیش آئے اور ان واقعات میں 8868 افراد مارے گئے۔

عراقی حکام ملک میں ایک سال کے دوران ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد میں اضافے کا الزام القاعدہ اور دولتِ اسلامیہ پر عائد کرتے ہیں۔

عراق میں گذشتہ برس دسمبر میں دولتِ اسلامیہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کے صوبہ انبار کے شہر فلوجہ کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں