شام:دولتِ اسلامیہ فی العراق و شام کی قابض علاقوں سے واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی کی سرحد کے ساتھ شام کے علاقے میں مہاجرین کے ایک کیمپ میں گذشتہ ہفتے ایک کار بم دھماکے میں پانچ مہاجرین ہلاک ہوئے تھے

ایک نگران گروپ کے مطابق القاعدہ سے منحرف گروپ دولتِ اسلامیہ فی العراق و شام نے ترکی کی سرحد پر واقع شام کے قابض علاقے سے جمعے کو واپسی اختیار کی ہے۔

ترکی کی سرحد سے تقریباً پانچ کلو میٹر دور اعزاز قصبے میں گذشتہ کئی مہینوں سے باغیوں کی آپس میں لڑائی کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں وہاں پھنسے ہوئے مہاجرین کو امداد پہنچانے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ان مہاجرین نے حلب میں حکومت کی طرف سے بمباری سے بچنے کے لیے وہاں پناہ لی تھی۔

دولتِ اسلامیہ نے تقریباً پانچ مہینے پہلے مخالف باغی گروپ کو شکست دے کر اعزاز پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور اس نے ترکی کے قریب سرحدی چک پوسٹ پر کنٹرول قائم کرنے کے لیے دیگر باغیوں گروپوں کے ساتھ بھی جنگ لڑی تھی۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ شام کے علاقے میں مہاجرین کے کیمپ میں گذشتہ ہفتے ایک کار بم دھماکے میں پانچ مہاجرین ہلاک ہوئے تھے۔

دولتِ اسلامیہ کے اعزاز سے نکلنے کی اطلاع برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے دی ہے۔ ان کہنا ہے کہ باغیوں کے درمیان آپس میں گذشتہ سال سے جاری لڑائی کے دوران اب تک 3300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ باغی گروہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے برسرِ پیکار ہے۔

اسد مخالف سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرّحمٰن نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ اعزاز سے حلب کی طرف پسپا ہوئی ہے کیونکہ اسے اعزاز میں سخت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

باغیوں کے درمیان لڑائی گذشتہ سال علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شروع ہوئی تھی جو اب ملک کے اکثر حصوں تک پھیل چکی ہے۔

سنہ 2011 میں بشارالاسد کی حکومت کے خلاف ایک پرامن احتجاجی مظاہرے کے خلاف حکومت کی طرف کارروائی کے بعد شام میں خانہ جنگی شروع ہو گئی تھی جس میں سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اب تک ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں