’روس مسلح تصادم پر اکسانے کی کوشش کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مسلح افراد سمفروپول ائیرپورٹ کے باہر گشت کر رہے ہیں

یوکرین کے عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کرائمیا میں اپنے فوجی تعینات کر کے یوکرین کو ’مسلح تصادم‘ پر اشتعال دلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹی وی پر ایک بیان میں عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف نے کہا کہ روس چاہتا ہے کہ یوکرین کو اشتعال دلایا جائے تاکہ کرائمیا پر قبضہ کیا جا سکے۔

اس سے پہلے یوکرین کی عبوری حکومت کے وزیرِ داخلہ آرسین آوکوف نے روس پر ’مسلح چڑھائی‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ روسی ملٹری فورسز نے کرائمیا میں سیواستوپول ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا ہے۔

تاہم بحیرۂ اسود میں موجود روسی بحری بیڑے نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس واقعے میں روسی فوجی ملوث ہیں۔

یوکرین کے ایک اعلیٰ اہلکار سرگئی کونسٹین نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ 13 ہوائی جہاز سمفروپول کے قریب ایک فوجی اڈے پر اترتے ہیں اور ان جہازوں میں دو ہزار روسی فوجی سوار تھے تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

مسلح افراد، جنھیں آرسین آواکوف نے روسی فوج قرار دیا، بحیرۂ اسود میں روسی بحری بیڑے کے مرکز کے قریب سیواستوپول ایئرپورٹ پر داخل ہوئے ہیں۔

یوکرین کے نائب وزیر داخلہ آرسین آوکوف آرسین آوکوف نے کہا کہ یہ مسلح افراد ایئرپورٹ کے باہر گشت کر رہے تھے اور ان کی مدد کے لیے بکتر بندگاڑیاں بھی موجود تھیں جبکہ یوکرین کی فوج اور سرحدی محافظ ایئرپورٹ کے اندر رہے۔

دوسری جانب یوکرین کے سابق صدر وکٹر یانوکووچ نےملک سے فرار ہونے کے بعد پہلی بار روس میں منظر عام پر آ کر اپنے ملک کے لیے’ جنگ جاری رکھنے‘ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

صدر یانوکوچ مظاہرین کی طرف سے سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرنے کے بعد ملک سے فرار ہو کر روس چلےگئے تھے۔

صدر یانوکوچ نے روس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تختہ الٹا نہیں کیا بلکہ انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیاگیا ہے۔

صدر یانوکوچ نے کہا کہ انہیں کرائمیا میں پیدا ہونے والی گشیدگی کی سمجھ آتی ہے لیکن ان کے خیال میں ملٹری آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ یوکرین متحد رہے۔

یوکرین کے سابق صدر نے کہا ’میں یوکرین کے مستقبل کے لیے دہشت اور خوف کے خلاف جد جہد جاری رکھوں گا۔‘

’میرے پاس ملک میں نئی حکومت کی وضاحت کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تشدد پھیلا رہے ہیں۔ یوکرین کی پارلیمان غیرقانونی ہے۔‘

’اس وقت جو ہو رہا ہے وہ سب غیر قانونی ہے، عدم اختیار، اور دہشت ہے۔ پارلیمان میں ہونے والے فیصلے دباؤ کا نتیجہ ہیں۔‘

انہوں نے یوکرین کے عوام سے معافی مانگی کہ ان کے پاس استحکام قائم رکھنے کے لیے ناکافی قوت تھی جس کی وجہ سے ملک میں ’لاقانونیت‘ کی فضا پیدا ہوئی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ فرار نہیں ہوئے ہیں بلکہ ان کی گاڑی پر گولی چلائی گئی جس کی وجہ سے اپنے اور اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے وہاں سے نکلے ہیں۔

ادھر یوکرین کے نائب وزیر داخلہ آرسین آوکوف نے کہا کہ مسلح افراد ایئرپورٹ کے باہر گشت کر رہے تھے اور ان کی مدد کے لیے بکتر بند گاڑیاں بھی موجود تھیں جبکہ یوکرین کی فوج اور سرحدی محافظ ایئرپورٹ کے اندر رہے۔

انھوں نے کہا کہ ’جو کچھ بھی ہوا میں اسے مسلح حملہ اور قبضہ ہی کہوں گا، جو تمام بین الاقوامی معاہدوں اور روایات کے خلاف ہے۔‘

کرائمیا کے دارالحکومت سمفروپول میں بھی مسلح افراد نے جمعے کی صبح ایئرپورٹ پر قبضہ کر لیا۔ مسلح افراد میں سے بعض روسی جھنڈے لہرا رہے تھے۔

ولادمیر نامی ایک شخص نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ وہ وہاں رضاکارانہ طور پر آئے ہوئے افراد کی مدد کر رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ یہ رضاکار کہاں سے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں کرائمیا کی عوامی ملیشیا کے ساتھ ہوں۔ ہم سادہ رضاکار لوگ ہیں۔‘

’ہم یہاں ایئرپورٹ پر امن و امان قائم کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ہم جہازوں کو مسکرا کر خوش آمدید کہیں گے اور ایئرپورٹ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔‘

روس اور یوکرین کے درمیان سابق صدر وکٹر یانوکووچ کی برطرفی کے بعد تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔

ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار بریج کینڈل کا کہنا ہے کہ کرائمیا یوکرین کے نئے رہنماؤں اور روس کے حامی رہنماؤں کے درمیان کشیدگی کا مرکز بنا ہے۔

جمرات کو روس کے حامی مسلح افراد سمفروپول میں پارلیمنٹ میں داخل ہوئے اور موجودہ کابینہ کو نکال کر نیا وزیرِاعظم مقرر کر دیا۔

دریں اثنا کیئف کو دوسرا بڑا چیلنج روس میں دوبارہ نمودار ہونے کے بعد یانوکووچ کا جمعے کو ایک پریس کانفرنس کرنے کی تیاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بھی وہ یوکرین کے قانونی صدر ہیں۔

خیال رہے کہ یوکرین میں روسی زبان بولنے والے متعدد افراد نے یانوکووچ کی برطرفی اور ملک میں یورپ کی جانب جھکاؤ رکھنے والی انتظامیہ لانے کی مخالفت کی تھی۔

دوسری جانب روس بھی یوکرین میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ناراض ہے، تاہم وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف کا کہنا ہے کہ ان کا ملک یوکرین کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔

سرگے لاوروف نے منگل کو ماسکو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوسرے ممالک یوکرین کی صورتِ حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس یوکرین میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند رہے گا۔

یوکرین میں حکومت مخالف مظاہرے گذشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئے تھے جب صدر یانوکووچ نے یورپی یونین کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے روس کے ساتھ تجارتی معاہدے کو ترجیح دی تھی۔

ان پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں