’یوکرین کی فوج مکمل جنگی الرٹ پر ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’ملک کے جوہری بجلی گھر، ہوائی اڈوں اور دوسری اسٹریٹیجک تنصیبات پر سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔‘

یوکرین کے عبوری صدر اولیکسانڈر ٹرچی نوف نے کہا ہے کہ ملک کی مسلح افواج کو انتہائی چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور روس کی طرف سے کسی بھی فوجی مداخلت سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

صدر ٹرچی نوف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک کے جوہری بجلی گھر، ہوائی اڈوں اور دوسری اسٹریٹیجک تنصیبات پر سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے جبکہ قومی سلامتی اور دفاع کی کونسل نے کسی بھی فوجی جارحیت سے نمٹنے کے لیے ایک تفصیلی منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔

ادھر یوکرین کے بحران پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس جاری ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں یہ دوسرا ہنگامی اجلاس ہے جس میں یوکرین کے علاقے کرائمیا کی صورتحال پر غور ہو رہا ہے۔

یوکرین کا الزام ہے کہ روس نے کرائمیا میں اپنے فوجی بھیجے رکھے ہیں اور وہ اس علاقے میں اشتعال پھیلا رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے سلامتی کونسل کے اس ہنگامی اجلاس میں مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اقوام متحدہ اور یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے بین الاقوامی مبصرین کو یوکرین بھیجا جائے تاکہ وہ وہاں کے حالات پر نظر رکھ سکیں۔

اس سے قبل روسی پارلیمان کے ایوانِ بالا نےصدر ولادمیر پوتن کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ یوکرین میں روسی فوج بھیج دیں تاہم صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر پوتن نے ابھی تک اس سلسلے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

صدر پوتن نے ایوان بالا سے یہ درخواست اس بحث کے بعد کی تھی جس میں ڈُوما کے دونوں ایوانوں کے اراکین نے کرائمیا کے جزیرہ نما میں بگڑتی صورتحال میں ’استحکام‘ پیدا کرنے کی کوششوں پر بحث کی۔

یوکرین کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ماسکو ان کے ملک میں فوجی مداخلت نہیں کرے گا کیونکہ ایسا اقدام جنگ کے زمرے میں آئے گا۔

اس سے قبل یوکرین کے وزیر دفاع کہہ چکے ہیں کہ روس اپنے چھ ہزار کے قریب فوجی پہلے ہی کرائمیا میں تعینات کر چکا ہے۔ کیئف میں حکومت کا الزام ہے کہ روس دانستہ طور پر لڑائی چھیڑنا چاہتا ہے۔

کریملن کے ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ صدر پوتن نے ایوان بالا سے یہ درخواست ’یوکرین میں غیر معمولی صوتحال اور روسی شہریوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات‘ کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی۔

روس کے آئین کے مطابق فوجوں کی تعیناتی کے لیے صدر کے لیے لازم ہے کہ وہ ایوان بالا سے منظوری حاصل کرے۔ کریملن کے مطابق صدر پوتن نے ایوان بالا سے کہا ہے کہ ’جب تک (یوکرین) میں سیاسی صورتحال معمول پر نہیں آ جاتی‘ انھیں وہاں فوجیں بھیجنے کا اختیار دیا جائے۔

یاد رہے کہ کریمیا کے علاقے میں اکثریت روسی بولنے والے لوگوں کی ہے اور روس کا بحیرہ اسود کے لیے مختص بحری بیڑا اسی علاقے میں تعینات ہے۔

صدر پوتن کی ایوان بالا میں درخواست سے پہلے کریمیا کے نومنتخب روس نواز رہنما صدر پوتن سے اپیل کر چکے ہیں کہ جزیرہ نما میں امن قائم رکھنے کے لیے روس اُن کی مدد کرے۔ اس اپیل کے متعلق کریملن کا کہنا تھا کہ اسے ’نظر انداز‘ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے کریمیا میں فوجی ہلچل جاری ہے جس میں روس نواز مسلح افراد نے صوبائی کابینہ، سرکاری ٹیلی ویژن سینٹر اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ذرائع پر قبضہ کر لیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں کے دوران انھوں نے علاقے میں روسی بکتر بندگاڑیوں کی نقل و حمل بھی دیکھی ہیں۔

اسی بارے میں