یوکرین: بحریہ کے سربراہ نے ’بغاوت‘ کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریئر ایڈمیرل ڈینس بریزوفکی کو سنیچر کے روز ہی یوکرین کی بحریہ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا

یوکرین کے حال ہی میں تعینات کیے گئے بحریہ کے سربراہ نے غیر تسلیم شدہ روس نواز سربراہ کی موجودگی میں کرائمیا سے وفاداری کا حلف اٹھا لیا ہے۔

ریئر ایڈمیرل ڈنیس بریزوفکی کو سنیچر کے روز ہی یوکرین کی بحریہ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا جب یوکرین کی حکومت ممکنہ روسی فوجی کارروائی کے ردِ عمل کی تیاری کر رہی ہے۔

یوکرین کی عبوری حکومت نے ان کے خلاف بغاوت کے الزامات لگائے ہیں۔

ادھر کرائمیا کے دارالحکومت سمفرپول میں دو دھماکوں کی آواز سنی گئی ہے تاہم سرکاری ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

نیٹو کے سربراہ نے روس سے کہا ہے کہ وہ علاقے سے اپنے فوجی نکال لیں۔

اس کے علاوہ امریکی ذرائع کے مطابق وزیرِ خارجہ جان کیری منگل کے روز یوکرین کے بحران کے پیشِ نظر دارالحکومت کیئف کا دورہ کریں گے۔

اس سے قبل یوکرین کے خطے کرائمیا میں روسی فوج کی تعداد میں اضافے کے جواب میں یوکرین نے اپنی فوج کو متحرک کر دیا تھا جبکہ یوکرین کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ملک ’تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔‘

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے روسی فوج کی تعیناتی کو ’یوکرین کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار‘ دیا ہے۔

دریں اثنا نیٹو کا یوکرین کے بحران پر ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ روس کے اقدامات کے باعث یورپ میں امن اور سکیورٹی کو خطرہ ہے۔

یوکرین نے روسی فوج کی تعیناتی کے حوالے سے کئی اقدامات کیے ہیں

  • افواج کو پوری طرح تیار رہنے کے احکامات دے دیے گئے ہیں
  • ریزرو فوج کو متحرک کرنے اور تربیت دینے کے لیے بلا لیا گیا ہے
  • یوکرین کے وزیر خارجہ ملک کی سکیورٹی کی گارنٹی حاصل کرنے کے لیے امریکہ اور برطانیہ کی مدد مانگیں گے
  • ایمرجنسی ہیڈکوارٹر قائم کیا جائے گا
  • اہم تنصیبات بشمول ایٹمی پلانٹس پر سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے
  • فضائی حدود صرف مسافر بردار جہازوں کے لیے کھلی ہے

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کرائمیا کی سرحد پر روسی فوجی خندقیں کھود رہے ہیں۔ کرائمیا میں مسلح افراد نے ابھی بھی کرائمیا کے ہوائی اڈوں اور مواصلاتی مراکز پر قبضہ کر رکھا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شہر میں سخت کشیدگی ہے اور کئی جگہوں پر یوکرین کے فوجی اڈوں پر دونوں افواج آمنے سامنے موجود ہیں۔

کرائمیا کے دارالحکومت سمفروپول کے جنوب میں واقع شہر پیریولنو میں یوکرین کے ایک فوجی اڈے کو روسی فوج نے گھیر رکھا ہے۔

تاہم سواسٹوپول میں یوکرین کے فوجی اڈے کو روس کے حمایتی مسلح افراد نے گھیرے میں لے رکھا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی’حالات کو فوری طور قابو میں لا کر براہِ راست مذکرات شروع‘ کرنے کی بات کی ہے جبکہ نیٹو کے سربراہ آنیرس فو راس موسن نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ’کرائمیا میں حالات کو فوری طور قابو میں لانے کی اشد ضرورت ہے۔‘

یوکرین کے بحران پر غور کے لیے سنیچر کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جبکہ اس معاملے پر نیٹو اور یورپی یونین کے حکام آئندہ چند دنوں میں بات چیت کریں گے۔

واضح رہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے کرائمیا میں فوجی ہلچل جاری ہے جس کے دوران روس نواز مسلح افراد نے صوبائی کابینہ، سرکاری ٹیلی ویژن سینٹر اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ذرائع پر قبضہ کر لیا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں انھوں نے علاقے میں روسی بکتر بندگاڑیوں کی نقل و حرکت بھی دیکھی ہیں۔

اسی بارے میں