یوکرین:بحران کے حل کے لیے امریکی ’امن منصوبہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ نے کرائمیا میں روسی فوج بھیجے جانے کو ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا ہے

وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق امریکی صدر براک اوباما نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا سے اپنی فوج واپس بلا لے اور وہاں ایک نگراں مشن تعینات کر دیا جائے۔

امریکی صدر کی جانب سے روسی صدر ولادی میر پوتن کو یہ تجویز ایسے وقت میں دی گئی ہے جب بظاہر کرائمیا روس کے کنٹرول میں ہے اور امریکہ نے اسے روس کی جارحیت قرار دیا ہے۔

’فوج بھیجنے کی درخواست یانوکووچ نے کی تھی‘

’کرائمیا پر حملے کی روسی دھمکی‘

اسی دوران روسی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے منگل کی شب بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

منگل کو روسی وزارتِ دفاع کے بیان کے مطابق ایک ٹوپول آر ایس 13 ایم میزائل کو مقامی وقت کے مطابق رات دس بج کر دس منٹ پر بحیرۂ کیسپیئن کے قریب واقع کپستن یار تجرباتی رینج سے قزاقستان میں واقع ساری شگن رینج کی جانب داغا گیا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اسے اس تجربے کے بارے میں پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا۔ امریکی محکمۂ دفاع کے ایک افسر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہمیں اس بارے میں ہفتے کے آغاز پر بتایا گیا تھا۔ یہ غیرمتوقع عمل نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روسی حکام کے مطابق میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا

روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس تجربے کا مقاصد ملک کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا اور مذکورہ میزائل نے کامیابی سے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔

بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کے مطابق اگرچہ اس قسم کے تجربات کا منصوبہ بہت پہلے بنایا جاتا ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے روس سے کہا ہے کہ وہ کرائمیا میں موجود اپنے فوجیوں کو خطے میں موجود بحیرۂ اسود کے بحری بیڑے پر واپس بلا لے اور یوکرین میں عالمی مبصرین بھیجے جائیں جو وہاں کے رہائشی روسیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں۔

امریکی صدر کے دفتر کے اہلکار کے مطابق صدر اوباما نے سنیچر کو اپنے روسی ہم منصب سے بات چیت میں انھیں اس منصوبے سے مطلع کیا تھا اور منگل کو انھوں نے اس بارے میں جرمن چانسل انگیلا میرکل سے تفصیلی بات چیت کی ہے۔

روس کی جانب سے تاحال اس تجویز پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے:جان کیری

خیال رہے کہ امریکہ نے منگل کو ہی یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا میں روس کی جانب سے فوج بھیجے جانے کو ’جارحانہ کارروائی‘ قرار دیا تھا۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ روسی صدر کے اس دعوے پر کسی کو یقین نہیں کہ ابھی یوکرین میں روسی فوج نہیں بھیجی گئی اور روس کو کرائمیا میں مداخلت کا کوئی حق نہیں۔

منگل کو یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں ملک کے عبوری صدر اولیکساندر تورچینوف، وزیراعظم اور دیگر اعلیْ حکام سے ملاقات کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی کہا کہ یوکرین نے جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس، كرائميا میں روسی زبان بولنے والے لوگوں کو بچانے کی بات کرتا ہے جو دراصل اس کا ایک بہانہ ہے۔

خیال رہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والے لوگ اگر روس سے مدد مانگیں گے تو ماسکو کو اس پر جواب دینا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کرائمیا میں مسلح افراد اور شہری روسی فوجیوں کی بجائے یوکرین کے فوجی اڈوں کا گھیراؤ کر رہے ہیں: صدر پوتن

اس پر واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ كرائميا میں روس کے فوجیوں کی موجودگی روسی شہریوں کے لیے خدشات کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ ’روس ہمسایہ ملک پر دباؤ ڈالنے کے لیے غیرقانونی طور پر طاقت کا استعمال کر رہا ہے۔‘

اس سے قبل روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا تھا کہ روسی فوجیوں کو ابھی تک یوکرین میں بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے تاہم روس کو مشرقی یوکرین میں شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ذرائع استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے روسی فوجیوں کے کرائمیا میں موجود یوکرینی شہریوں کا محاصرہ کرنے کے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پر روس کی حامی’ذاتی دفاع‘ کی فورسز موجود ہیں۔

روسی صدر نے یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں صدر وکٹر یانوکووچ کو معزول کرنے کے اقدام کو ’غیر آئینی بغاوت اور طاقت کے زور پر اقتدار پر قبضہ‘ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں