کرائمیا: ’حرکت کی، تو گولی مار دوں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روسی فوجیوں نے بیلبک کے فوجی اڈے سے یوکرینی فوجیوں کو نکال باہر کیا ہے

یوکرین کے کرائمیا کے علاقے میں واقع بیلبک کا فوجی ہوائی اڈّہ گذشتہ دنوں میں یوکرین کے فوجیوں اور روسی فوج کی وردی پہنے ہوئے فوجیوں کے درمیان تناؤ کے لیے مشہور ہو چکا ہے، اور مغربی ممالک کے صحافیوں نے دونوں اطراف کے فوجیوں کے درمیان جاری مسلح نوک جھک کو فلم بند بھی کر لیا ہے۔

بی بی سی کی روسی سروس کی رپورٹر اولگا اِوشینا کو بھی سیواستوپول کے نواح میں واقع اس فوجی اڈّے پر موجود روسی بولنے والے فوجیوں کے ساتھ نوک جھونک کا تجربہ ہوا۔ اولگا اِوشینانے اپنے تجربات ذیل میں قلم بند کیے ہیں۔

’ خبردار کوئی حرکت نہ کرنا ورنہ گولی مار دوں گا،‘ جھاڑیوں کے پیچھے سے ہم پر کوئی چیخ رہا ہے۔

میں آہستہ آہستہ اپنی گردن گھماتی ہوں تو جھاڑیوں سے مجھے ایک بندوق کی نالی دکھائی دیتی ہے جس پر سائلنسر لگا ہوا ہے اور بندوق میرے سر کا نشانہ لیے ہوئے ہے۔

میں جانتی ہوں کہ فوجی اڈّوں میں صحافیوں کے لیے سہولیات نہیں ہوا کرتیں، نہ تو وہاں کیمرے اور دیگر آلات لگانے کے لیے بجلی کے ساکٹ ہوتے ہیں نہ ہی کوئی بیت الخلا اورصحافیوں کو اپنی رپورٹ تیار کرنے کے لیےگھنٹوں ایک تنگ سڑک پر حد نظر تک پھیلی ہوئی جھاڑیوں کے پاس کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

ابھی چند منٹ ہی پہلے ہمیں لگ رہا تھا کہ اپنے ساتھی صحافیوں کے بڑے جمگھٹے سے چند سو میٹر آ گے جا کر کھڑے ہونے میں خطرے کی کیا بات ہو سکتی ہے۔

’ ساکت ہو جاؤ،‘ بندوق والا فوجی دوبارہ چیخا۔

اور پھر تھوڑے سے فاصلے سے کسی دوسرے فوجی کی گرجدار آواز میں بھی ہمیں ساکت رہنے کی دھمکی ملی۔ ہمیں حیرت ہوئی، کیونکہ لگتا تھا ان مسلح افراد کے پاس کوئی واکی ٹاکی نہیں ہے، لیکن وہ پھر بھی آپس میں بات کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یوکرینی فوجیوں نے دوبارہ فوجی اڈے میں داخل ہونے کی کوشش کی، مگر روسی فوجیوں نے انہیں بھگا دیا

ہم وہیں پر ساکت کھڑے رہے۔ اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کیے رکھے اور ہم نے بلند آواز میں ایک مرتبہ پھر کہا کہ ہم لوگ صحافی ہیں۔

جس فوجی نے ہم پر بندوق تانی ہوئی تھی وہ آہستہ آہستہ جھاڑیوں سے نمودار ہوا۔ وہ روسی فوج کی کیموفلاج وردی پہنے ہوئے تھا لیکن اس کی وردی پر روسی فوج کا نشان نہیں تھا۔

تقریباً ایک منٹ بعد دو اور فوجی بھی دوڑتے ہوئے ہماری جانب آ گئے۔ ان میں سے ایک نے کلاشنکوف اٹھائی ہوئی تھی جبکہ دوسرا دُور مار کرنے والی بندوق اور گرینیڈ لانچر سے مسلح تھا۔

مجھے لگتا ہے کہ یہ لوگ میری کیمرا ٹیم کو اپنے لیے کوئی بڑا خطرہ سجھ بیٹھے ہیں۔ میں نے دل میں سوچا، لیکن فوجیوں کے سامنے خاموشی سے کھڑی رہی۔

بھاری اسلحے سے لدا ہوا فوجی خود تو ہانپ رہا تھا لیکن ہمیں اس نے بڑی شائستگی سے کہا کہ ہمیں ان کے ساتھ آنا پڑے گا۔

ہمیں لگا کہ اس پیشکش سے انکار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔

مشکوک افراد

ہم فوجیوں کے حکم پر ان کے آگے آگے چل رہے ہیں۔ اس دوران ہم دو مورچوں کے پاس سے گزرتے ہیں جن کے اندر بیٹھے ہوئے فوجی ہمیں حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔

تھوڑی دور چلنے کے بعد ہم اینٹوں سے بنی ہوئی ایک خستہ سی عمارت داخل ہوتے ہیں۔ دیواروں میں کہیں کہیں بندوق کی گولیوں کے سوراخ بھی ہیں۔

ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے میں کہتی ہوں: ’ لگتا ہے، یہاں لائے جانے والے ہم پہلے لوگ نہیں ہیں۔ کچھ اور لوگ بھی یہاں موجود ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرین کے لڑاکا طیارے اس فوجی اڈے سے نہیں اُڑ سکتے کیونکہ یہاں روسی فوجیوں کا کنٹرول ہے

میری اس بات پر فوجی مسکراتے ہیں اور اپنے ہتھیار نیچے رکھ دیتے ہیں۔ اور یوں ماحول قدرے ہلکا ہو جاتا ہے۔

’پلیز اپنے کاغذات دکھائیں۔‘

ہم انھیں وہ فلم دکھاتے ہیں جو ہم نے اپنے کیمرے سے ریکارڈ کی ہے اور اپنے صحافتی آلات کا تھیلا کھول کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔

اُس صبح ہم نے زیادہ ریکارڈنگ نہیں کی تھی۔ اور ہم نے جو کچھ فلم بند بھی کیا تھا اس میں بھی کوئی خاص چیز نہیں تھی۔ لیکن اس کے باوجود فوجیوں کا مطالبہ یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ بھی فلمایا ہے اسے تلف کر دیں۔

میں آہستہ سے اپنے تھیلے سے چاکلیٹ اور پانی کی بوتل نکالتی ہوں۔

’سنکرز چاکلیٹ؟‘ ایک فوجی پوچھتا ہے۔ ’ آپ کو یہ امریکی چیزیں نہیں کھانا چاہییں۔ یہ آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔‘

’اگر آپ چاہیں تو آپ بھی میری چاکلیٹ کھا سکتے ہیں،‘ میں پیشکش کرتی ہوں۔

’نہیں نہیں۔ ہم امریکی چیزیں نہیں کھاتے،‘ گرینیڈ لانچر والا فوجی مجھے اپنی اطمینان بھری مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیتا ہے۔

اس دوران ہم ایک ایک کر کے اپنے تھیلے سے چیزیں نکال کے فوجیوں کے سامنے رکھتے جا رہے ہیں۔

ہمارے تھیلے سے نکلنے والی اگلی چیز فرسٹ ایڈ کی کِٹ ہے۔

’امریکی کِٹ،‘ ہینڈ گرینیڈ والے فوجی نے کہا۔ یہ سنتے ہی سارے فوجی یک دم اپنی بندوقیں پھر سے تان لیتے ہیں۔

’ تم دونوں برطانوی جاسوس ہو، تمہاری صحت اور جان جُثے سے یہی لگتا ہے،‘ ایک دوسرا فوجی لقمہ دیتا ہے۔

’آپ میری تعریف کر رہے ہیں یا میری بے عزتی؟‘ میں پوچھتی ہوں۔

تناؤ سے بھری ہوئی خاموشی ایک بار پھر ماحول کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

جسم پر بنے نقش و نگار

وہ فوجی جس نے ابھی ابھی مجھ پر جاسوس ہونے کا الزام لگایا تھا، وہ اپنی نظریں میری آنکھوں پر گاڑ دیتا ہے۔ دوسرے فوجیوں کے ساتھ اس کا رویہ دیکھ کر لگتا یہی ہے کہ باقیوں سے اس کا عہدہ بڑا ہے۔

اس کی کیموفلاج جیکٹ کے نیچے اس نے جو بُنیان پہنی ہوئی ہے، میں اس پر نیلی لکیریں دیکھ سکتی ہوں۔ اس کے بعد مجھے اس کے ہاتھ کی پشت پر بنا ہوا ’ٹیٹُو‘ بھی نظر آ جاتا ہے۔ ’زا ڈی وی ڈی‘ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا تعلق ہوائی جہاز سے چھلانگ لگانے والے پیرا ٹُروپر فوجیوں سے ہے۔

مجھے مخاطب کرتے ہوئے اس نے اپنی بات جاری رکھی: ’تم نے جوتے بھی خاص قسم کے پہن رکھے ہیں۔ عام لوگ اس قسم کے جوتے نہیں پہنتے۔ یہ تو بڑی اعلیٰ کوالٹی کا چمڑا ہے۔‘

’ آپ نے درست کہا۔ یہ بہت اچھے چمڑے کے بنے ہوئے ہیں،‘ میں جواب دیتی ہوں۔ ’ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ جوتے ذرا چھوٹے ناپ کے ہیں۔ یہ آپ کو پورے نہیں آئیں گے۔‘

’کیا تمارے جسم پر بھی ’ٹیٹُو‘ بنے ہوئے ہیں؟‘

’نہیں،‘ میں جواب دیتی ہوں۔

’ تم ایسا کرو کہ اپنے کپڑے اتارو۔ ہم خو دیکھیں گے کہ ٹیٹو بنا ہوا یا نہیں۔‘

’صرف مردوں کے جسم چیک کرو۔ لڑکی کو نہ چھیڑو،‘ ان میں ایک فوجی تحکمانہ انداز میں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے۔

’اولگا تم روسی شہری ہو۔ تم میرے ساتھ آؤ، ہمیں تم سے کوئی بات کرنی ہے۔‘

وہ افسر مجھے میرے ساتھیوں سے ذرا دور لے جا کر بتاتا ہے کہ یہ بات کس قدر اہم ہے کہ ہم تناؤ کے اس ماحول میں کوئی غلط خبر نہ دیں۔ وہ مجھے بتاتا ہے کہ مغربی ممالک کے صحافی کس قدر طرفداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور یہ بات ہر صحافی کے لیے کتنی ضروری ہے کہ وہ اپنا کام دیانت داری سے کرے اور غلط رپورٹنگ سے پرہیز کرے۔

اپنی نصیحتوں کے اختتام پر وہ افسر مجھے کہتا ہے: ’ اور سنو، یہاں دوبارہ مت آنا۔ میں اور تم، ہم دونوں کا تعلق روس سے ہے۔ اور میں نہیں چاہتا کہ میں کسی بھی روسی پر گولی چلاؤں۔‘

ہمیں الوداع کہنے سے پہلے فوجی اپنے موبائل فونز پر ہم سب کی تصاویر اتارتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کے ہماری تصویروں کا موازنہ وہ روسی فوج کے پاس جمع مغربی جاسوسوں کی تصاویر کے ساتھ کریں گے اور جلد ہی پتا چلا لیں گے کہ ہمارے گروپ کا اصل ’مِشن‘ کیا ہے۔

وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ جھاڑیوں کے درمیان کے راستے سے واپس بڑی سڑک تک کیسے جانا ہے۔ وہ ایک مرتبہ پھر خبردار کرتے ہیں کہ ہم لوگ ناک کی سیدھ میں بڑی سڑک کی جانب چلتے رہیں اور اس دوران پلٹ کر پیچھے دیکھنے سے پرہیز کریں۔

ان کے سینیئر افسر نے ایک پھیکی سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا: اولگا ، یاد رکھنا۔ میں اور تم ایک دن پِھر ملیں گے۔ ماسکو میں۔‘

اسی بارے میں