لاس ویگس: جواری کا جوا خانے پر شراب پلانے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption لاس ویگس دنیا بھر میں اپنے جوئے خانوں کے لیے مشہور ہے

امریکہ کے شہر لاس ویگس کے ایک کیسینو میں پانچ لاکھ ڈالر ہارنے والے ایک شخص نے جوا خانے پر یہ کہتے ہوئے دعویٰ کر دیا ہے کہ ان پر اس رقم کی ادائیگی لازم نہیں کیونکہ جب وہ یہ رقم ہارے تو شراب کے نشے میں دھت تھے۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہری مارک جونسٹن نے ڈاؤن ٹاؤن گرینڈ نامی کیسینو کے خلاف انھیں اس حالت میں شراب پلانے اور رقم ادھار دینے کا الزام لگایا ہے جب کہ وہ پہلے ہی شراب کے نشے میں تھے۔

52 سالہ مارک 30 جنوری کو اس جوا خانے میں آئے تھے اور 17 گھنٹے تک جوا کھیلتے رہے تھے۔

لاس ویگس امریکی ریاست نیواڈا میں واقع ہے اور ریاستی قوانین کے تحت وہ افراد جو واضح طور پر نشے میں دکھائی دیں انھیں جوا کھیلنے کی اجازت نہیں جا سکتی۔

جوا خانے نے تاحال اس معاملے پر تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم اطلاعات کے مطابق کیسینو کی انتظامیہ بھی مارک جونسٹن سے قرض کی وصولی کے لیے قانونی ذرائع استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مارک کے وکیل شان لٹل نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ یہ ایک ’غیرمعمولی‘ معاملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک شخص اتنا زیادہ نشے میں تھا کہ اپنے تاش کے پتّے بھی صحیح طریقے سے پڑھ نہیں پا رہا تھا اور جوا خانے والے اسے مزید شراب پلاتے رہے اور رقم ادھار دیتے رہے۔

شان لٹل کے مطابق ان کے موکل نے نہ صرف اپنے بینک کو ڈاؤن ٹاؤن گرینڈ کیسینو کو رقم کی ادائیگی کا عمل روکنے کا حکم دیا ہے بلکہ وہ اپنا نام خراب کرنے پر جواخانے سے زرِ تلافی بھی چاہتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نیواڈا کا گیمنگ کمیشن اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔