اسامہ بن لادن کے داماد پر امریکہ میں مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کویتی شہری ابو غیث اسامہ بن لادن کی سب سے بڑی بیٹی فاطمہ کے شوہر ہیں

امریکہ میں ایک وکیلِ استغاثہ کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کے داماد نے ’اپنے الفاظ کی قاتلانہ طاقت‘ سے دوسروں کو 9/11 کے حملوں کے بعد امریکہ کے خلاف اکسایا۔

یہ بات انہوں نے اسامہ بن لادن کے داماد اور ایک وقت میں القاعدہ کے ترجمان سلمان ابو غیث کے مقدمے کے دوران کہی ہے۔

47 سالہ ابو غیث نے اس الزام سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ وہ کویتی شہری ہیں اور انہیں گذشتہ سال ترکی سے نیو یارک لایا گیا تھا۔

وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر 2001 کو نیویارک میں ہونے والے حملوں کے بعد ملزم اسامہ بن لادن کے ہمراہ ویڈیوز میں نظر آئے اور انہوں نے یہودیوں، عیسائیوں اور امریکیوں کے خلاف جہاد کے لیے کہا۔

اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی نکولس لیون نے کہا کہ ابو غیث شعلہ بیان مقرر ہیں اور 9/11 کے حملوں سے پہلے انہوں نے حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

انہوں نے کہا ابو غیث تنظیم کی ویڈیوز اس وقت بنا رہے تھے جب ’ہماری عمارتیں جل رہی تھیں۔‘

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے تک ملزم نے القاعدہ کو مضبوط بنانے کے لیے تقاریر کیں۔

کویتی شہری ابو غیث اسامہ بن لادن کی سب سے بڑی بیٹی فاطمہ کے شوہر ہیں۔ وہ القاعدہ کے اعلیٰ ترین رکن ہیں جس پر امریکہ میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

2013 میں انہیں ترکی سے ملک بدر کیے جانے کے بعد اردن میں امریکی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

بدھ کے روز وکلائے صفائی نے استغاثہ کے ابتدائی بیان پر تنقید کی تھی۔ وکیلِ صفائی سٹینلی کوہن نے کہا کہ ’خواتین و حضرات۔۔۔ آپ نے ابھی ایک فلم دیکھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی حقیقی شواہد موجود نہیں ہیں۔ یہاں شواہد کی جگہ خوف کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

وکیلِ صفائی نے عدالت سے کہا کہ ابو غیث نے جو کچھ کہا ہے اس میں سے بہت کچھ صرف بیوقوفانہ ہے۔

انہوں نے عدالت سے کہا کہ وہ کھلا ذہن رکھے اور یہ مقدمہ نہ تو 11 ستمبر کے بارے میں ہے اور نہ ہی ان کے موکل اسامہ بن لادن ہیں۔

اوباما انتظامیہ کے سلمان ابو غیث کو سویلین عدالت میں پیش کرنے کے فیصلے پر رپبلکن پارٹی نے شدید تنقید کی ہے۔

اسی بارے میں