سعودی حکام نے اخوان المسلمین کو دہشتگرد قرار دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ماہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے اپنے فرمان میں کہا تھا کہ بیرونِ ملک جنگ میں حصہ لینے یا ’دہشت گرد گروہوں‘ سے روابط پر کسی بھی شہری کو 20 برس قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے

سعودی عرب کی حکومت نے جماعت اخوان المسلمین کو باضابطہ طور پر دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔

اخوان المسلمین پر پہلے ہی سعودی عرب میں پابندی عائد تھی اور حال ہی میں سعودی عرب نے اس تنظیم کے اہم حامی سمجھے جانے والے خلیجی ملک قطر سے اپنا سفیر بھی واپس بلایا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمین کے قدامت پسند سنّی نظریات سعودی وراثتی بادشاہت کے اصول سے متصادم ہیں۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے ایک بیان میں شام میں لڑنے والے دو باغی گروہوں ’جبتہ النصرہ‘ اور ’دولت اسلامیہ فی العراق و شام‘ کو بھی دہشتگرد قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں شام میں برسرِ پیکار سعودی شہریوں کو لڑائی چھوڑ کر وطن واپس آنے کے لیے 15 دن کی مہلت دی گئی ہے۔

سعودی بادشاہ کی جانب سے گذشتہ ماہ جاری ہونے والے ایک فرمان میں کہا گیا تھا کہ کوئی بھی سعودی شہری کسی غیر ملک میں جاری لڑائی میں حصہ لیتا پایا گیا تو اسے قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس وقت شام میں جاری لڑائی میں سینکڑوں سعودی جنگجو حصہ لے رہے ہیں اور نامہ نگاروں کے مطابق اگرچہ سعودی عرب شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف سنّی العقیدہ باغیوں کی بغاوت کا حامی ہے لیکن سعودی حکام کو خدشہ ہے کہ یہ جنگجو وطن واپسی پر ملکی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ ماہ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے اپنے فرمان میں کہا تھا کہ بیرونِ ملک جنگ میں حصہ لینے یا ’دہشت گرد گروہوں‘ سے روابط پر کسی بھی شہری کو 20 برس قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اس نئے قانون کے تحت ایسی تنظیموں کی حمایت کرنے پر سخت پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔

تاہم حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس قانون پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اسے پرامن سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں