یوکرین کا بحران مصنوعی ہے: روسی وزیرِ خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس نے یہ بھی کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں لگائی گئیں تو وہ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا

روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین کا بحران ’مصنوعی‘ ہے اور اسے خطے کی سیاست کے تناظر میں پیدا کیا گیا ہے۔

انھوں نے روس کے یوکرین کی عبوری حکومت سے رابطوں کی تصدیق کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ کیئف دائیں بازو کے قدامت پسندوں کے زیرِ اثر ہے۔

سرگے لاوروف نے کہا کہ روس یوکرین کے معاملے پر مغربی ممالک سے مزید بات چیت کے لیے تیار ہے بشرطیکہ یہ بات چیت ’ایمانداری اور کسی ساتھی سے ہونے والی بات چیت جیسی ہو۔‘

ادھر یوکرین کے عبوری وزیرِ خارجہ آندرئ ڈیشچیتسیا نے کہا ہے کہ وہ روس کے بات چیت پر رضامند ہونے کے لیے پرامید ہیں۔

سنیچر کو کیئف میں انھوں نے کہا کہ ’ہم نے روسیوں سے بیٹھ کر بات نہیں کی ہے لیکن ہم انہیں اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’روس کی پوزیشن حتمی نہیں ہے۔ وہ ان تجاویز کو قبول کر رہے ہیں اور اس پر غور کر رہے ہیں، اس لیے کچھ امید موجود ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس یوکرین کے معاملے پر مغربی ممالک سے مزید بات چیت کے لیے تیار ہے:سرگے لاوروف

تاہم انھوں نے یوکرینی حکومت کی تجاویز کے بارے میں تفصیلات نہیں دیں۔.

اس سے قبل جمعے کو روس نے امریکہ سے کہا تھا کہ وہ یوکرین کے مسئلے کی وجہ سے جلدبازی میں ایسے فیصلے کرنے سے گریز کرے جن سے امریکہ اور روس کے باہمی تعلقات متاثر ہو سکتے ہوں۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے یہ بات اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے فون پر گفتگو کے دوران کہی۔

سرگے لاوروف نے جان کیری کو متنبہ کیا کہ روس کے کرائمیا میں اقدامات کی وجہ سے اگر اس پابندیاں لگائی گئیں تو ان کے نتائج پابندیاں لگانے والوں کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

روس نے یہ بھی کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں لگائی گئیں تو وہ بھی خاموش نہیں بیٹھے گا۔

روسی فوج نے یوکرین کے روس نواز صدر کی معزولی کے بعد سے نیم خودمختار جزیرہ نما کرائمیا کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔ امریکہ نے اسے روس کی ’جارحیت‘ قرار دیا ہے اور فوج واپس نہ بلانے پر روس کو سفارتی و اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

کرائمیا کی پارلیمان نے روس سے الحاق کے لیے علاقے میں 16 مارچ کو ریفرینڈم منعقد کروانے کا اعلان بھی کیا ہے تاہم یوکرین، امریکہ اور یورپی ممالک نے اس عمل کو عالمی قانون کی خلاف ورزی اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں