’سمندر میں ملبہ دیکھا گیا لیکن تصدیق کرنی مشکل‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ویتنامی فضائیہ کے طیاروں نے سمندر میں دو مقامات پر تیل کی تہہ دیکھنے کی اطلاع دی تھی جو ممکنہ طور پر لاپتہ طیارے کے ایندھن کی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی

ویتنام بحریہ کے ہوائی جہاز نے سمندر میں ملبے کی نشاندہی کی ہے جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ملائیشیا کے مسافر جہاز کا ملبہ ہو سکتا ہے۔

ویتنام بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ جاننا مشکل ہے کہ یہ ملبہ ملائیشیا کی سرکاری فضائی کمپنی ملیشیا ائیر لائنز کا ہے یا نہیں کیونکہ اندھیرا ہو چکا ہے اور اب صبح ہی اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا جا سکے گا۔

اپنے پیاروں کی ’خبر‘ کا انتظار، تصاویر

کوالالمپور سے بیجنگ جاتے ہوئے ملائیشیا ائیر لائنز کے طیارے کو لاپتہ ہوئے اڑتالیس گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا ہیں تاہم کثیر الملکی ٹیم جنوبی ویتنام کے سمندر میں اب بھی اس کی تلاش کر رہی ہے۔

اس سے قبل ویتنامی فضائیہ کے طیاروں نے سمندر میں دو مقامات پر تیل کی تہہ دیکھنے کی اطلاع دی تھی جو ممکنہ طور پر لاپتہ طیارے کے ایندھن کی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ ملک کی سرکاری فضائی کمپنی ملیشیا ائیر لائنز کے لاپتہ ہونے والا مسافر طیارہ فنی خرابی کے باعث واپس مڑا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ طیارے کی تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

طیارے پر 227 مسافروں میں سے 153 افراد چین کے باشندے تھے جبکہ 38 کا تعلق ملائیشیا، سات انڈونیشیا، سات آسٹریلیا، پانچ بھارت سے اور چار کا تعلق امریکہ سے ہے۔

ملائیشیا کی قومی فضائی کمپنی ملائیشیا ایئر لائن کے مطابق اس بوئنگ 777 طیارے پر دو شیرخوار بچوں سمیت 227 مسافر اور عملے کے 12 ارکان سوار تھے۔

وزیرِ ٹرانسپورٹ نے مزید بتایا کہ انسدادِ دہشتگردی کے حکام بھی مسافر فہرست کا جائزہ لے رہے ہیں اور چند لوگوں کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیرِ ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ انسدادِ دہشتگردی کے حکام بھی مسافر فہرست کا جائزہ لے رہے ہیں

اطلاعات ہیں کہ طیارے کے مسافروں کی فہرست میں شامل دو افراد چوری شدہ پاسپورٹوں پر سفر کر رہے تھے۔ پاسپورٹوں کے حقیقی مالکان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ ان میں ایک اٹلی اور ایک آسٹریلیا کا باشندہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے پاسپورٹ تھائی لینڈ میں چوری کیے گئے تھے۔

طیارے کی گمشدگی میں کسی قسم کی دہشت گردی کے امکان پر ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ ’ہم تمام تر امکانات پر غور کر رہے ہیں ابھی اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔ ‘

تلاش کا عمل ملائیشیا اور ویتنام کے درمیان واقع سمندر میں جاری ہے جس میں ویتنام، ملائیشیا، چین اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے حکام تعاون کر رہے ہیں۔

جنوبی چین کے سمندر میں جہاں یہ طیارہ لاپتہ ہوا وہ ایک متنازع سمندری علاقہ ہے۔ تاہم اس وقت تنازعے کو ایک طرف رکھتے ہوئے چین نے دو جہاز علاقے میں بھیجے ہیں۔ فلپائن نے بھی مسافر طیارے کی تلاش کے لیے ائیر فورس کے تین جہاز اور نیوی کے تین بحری گشتی جہاز بھیجے ہیں۔

ملائیشیا ایئر لائن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ایم ایچ 370 نامی پرواز جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب رات دو بج کر 40 منٹ پر کوالالمپور کے ہوائی اڈے سے اڑی تھی اور اسے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے بیجنگ پہنچنا تھا مگر پرواز کے دوران یہ طیارہ لاپتہ ہو گیا تھا۔

اسی بارے میں