سی آئی اے پر الزام: ’کانگرس کی بھی جاسوسی کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈیان فائن سٹائن نے بڑے مؤثر انداز میں سی آئی اے کی غیر جانبداری اور آزدای پر سوال اٹھائے ہیں۔

امریکہ میں سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی نے سرعام یہ الزام عائد کیا ہے کہ سی آئی اے نے کانگرس کے عملے کے زیرِ استعمال کمپیوٹرز تک نامناسب طریقے سے رسائی حاصل کی ہے۔

سینیٹر ڈیان فائن سٹائن نے کہا ہے کہ ’ایسی سرگرمیاں آئینی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔‘

سینیٹ کا ایک پینل سی آیی اے کی جانب سے ایک تحقیقاتی پروگرام اور حراست کے دوران استحصال کے الزامات کی تفتیش کر رہا تھا۔

سی آئی اے کے داخلی نگرانوں کو بھی اس مبینہ ہیکنگ کی تحقیقات کا ذمہ سونپا گیا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی یاد گار ہے کیونکہ سب کچھ بہت عام کر دیا گیا ہے۔

ایک بات انتہائی غیر معمولی ہے کے ایک سینیٹر اور انٹیلیجنس کمیٹی کی رکن اس سطح پر سرعام الزامات عائد کریں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ڈیان فائن سٹائن نے بڑے مؤثر انداز میں سی آئی اے کی غیر جانبداری اور آزدای پر سوال اٹھائے ہیں۔

ڈیان فائن سٹائن نے کہا ’میں اسے اس معاملے کو ہلکا نہیں لے رہی۔‘

انہوں مزید کہا کہ یہ مبینہ کارروائی کر کے سی آئی اے نے وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

تاہم سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

برینن نے کہا ’سچ سے آگے کچھ نہیں ہے۔‘

’اس معاملے کو مناسب انداز میں دیکھا جا رہا ہے، متعلقہ حکام اسے دیکھ رہے ہیں اور حقیقت سامنے آ جائے گی۔‘

سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی نے اپنی تحقیقات کے بعد کہا ہے کہ سی آئی اے نے کمپیوٹرز میں سے تقریباً 900 قریب دستاویزات ختم کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

شمالی ورجینیا کے ایک دفتر میں یہ کمپیوٹرز سینیٹ کی کمیٹی کے ارکان کو سی آئی اے نے ہی مہیا کیے تھے تاکہ سینیٹ کے تفتیش کار انتہائی خفیہ دستاویزات کے لاکھوں صفحات کا جائزہ لیں سکیں۔

سی آئی اے کی جانب استحصال کے الزامات الزامات سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں قید اور تفتیش کے ایک پروگرام کے دوران عائد کیے گئے تھے۔

سینیٹر ڈیان فائن سٹائن کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایجنسی سے مطالبہ کیا کہ وہ نہ صرف معافی مانگے بلکہ تسلیم کرنے کے یہ عمل نامناسب تھا۔ تاہم بقول ان کے انہیں اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اسی بارے میں