شام: ضرورت مند بچوں کی تعداد 55 لاکھ ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو وقت سے پہلے کم عمری میں ہی گذر بسر کے لیے کام کرنا شروع کرنا پڑتا ہے جبکہ پیسوں کے لیے لڑکیوں کو شادی پر مجبور کیا جاتا ہے

اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے دوران شام میں ضرورت مند بچوں کی تعداد دوگنی ہوکر 55 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 10 لاکھ بچے ایسے علاقوں میں قید و بند کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں ان کی اور دیگر انسانی ہمدردی کی تنظیموں کی رسائی نہیں ہے۔

رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ شام میں بچوں نے اپنی جانیں اور اپنے اعضاء گنوائے ہیں، یہاں تک کہ وہ بچپن کے تمام عناصر سے محروم ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران شام کی خانہ جنگی میں 10 ہزار سے زیادہ بچے مارے گئے ہیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حقیقی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

’انڈر سیج‘ یعنی محصور نامی یونیسیف کی رپورٹ میں موجود اعداد و شمار شام میں بچوں پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کا اشاریہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انھیں کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے، نہ تو طبی اور نہ ہی نفسیاتی اور انھیں تعلیم تک بالکل رسائی حاصل نہیں ہے

تقریباً 10 لاکھ بچے ان علاقوں میں رہتے ہیں جو یا تو محصور ہیں یا پھر وہاں امدادی تنظیموں کے لیے پہنچنا بہت دشوار ہے جبکہ 30 لاکھ بچوں کی تعلیم مکمل طور سے انتشار کا شکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق اندرون ملک شام میں 30 لاکھ بچے بے گھر ہیں اور ایک سال کے اندر ان کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جبکہ 12 لاکھ بچے دوسرے ملکوں میں پناہ گزین بن کر زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ پہلے یہ تعداد ڈھائی لاکھ سے زیادہ بتائی گئی تھی۔ مجموعی طور پر سوا چار لاکھ بچے پانچ سال سے کم عمر کے ہیں۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو وقت سے پہلے کم عمری میں ہی گذر بسر کے لیے کام کرنا شروع کرنا پڑتا ہے جبکہ پیسوں کے لیے لڑکیوں کو شادی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ 12 سال تک کے لڑکوں کو جنگ میں لڑنے کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 لاکھ بچوں کو صدمے سے نکلنے کے لیے نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق تقریبا 10 لاکھ بچے ایسے علاقوں میں قیدو بند کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں

یونیسیف کی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ اب تک انھیں اپنے کام کو اچھے طور پر کرنے کے لیے جتنی رقم کی ضرورت ہے ان میں سے وہ صرف آٹھ فیصد ہی حاصل کر سکے ہیں۔

یونیسیف کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر انتھونی لیک نے کہا ’اس جنگ ختم ہونا چاہیے تاکہ بچے اپنے گھروں کو واپس آ سکیں اور اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ محفوظ زندگی گذار سکیں۔ شام کے بچوں کے لیے یہ تباہ کن تیسرا سال آخری ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں