’طیارہ غائب ہونے کے پانچ گھنٹے بعد تک سگنل بھیجتا رہا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بحرِ ہند میں لاپتہ طیارے کی تلاش کے عمل میں کارروائی میں ایک امریکی بحری جہاز اور نگرانی کرنے والا ایک طیارہ شریک ہے

بی بی سی کو ملنے والی معلومات کے مطابق یہ ممکن ہے کہ لاپتہ ہونے والا ملائیشین مسافر طیارہ غائب ہونے کے بعد بھی پانچ گھنٹے سے زیادہ عرصے تک محوِ پرواز رہا ہو۔

یہ مانا جا رہا ہے کہ ریڈار سے رابطہ ٹوٹنے کے بہت دیر بعد تک طیارہ ایک سیٹیلائٹ نظام کو خودکار طریقے سے سگنل بھیج رہا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ طیارہ اپنے آخری معلوم مقام سے 1600 کلومیٹر دور تک کا سفر کر سکتا تھا۔

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور سے چینی شہر بیجنگ جانے والا مسافر طیارہ ایم ایچ 370 گذشتہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب پرواز کے بعد غائب ہوگیا تھا اور اس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

اس جہاز پر کل 239 افراد سوار تھے جن میں سے اکثریت چینی باشندے تھے۔

اس طیارے نے آخری مرتبہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ملائیشیا کے مشرق میں بحیرۂ جنوبی چین کے اوپر رابطہ کیا تھا۔

تاہم بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ لندن سے کام کرنے والی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی انمارسیٹ کے سیٹیلائٹ نظام کو اس طیارے سے اس رابطے کے کم از کم پانچ گھنٹے بعد تک خودکار سگنل موصول ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ نے جمعے کو طیارے کی تلاش میں مدد دینے کے لیے بحرِہند میں ٹیمیں بھیجی ہیں

سائنسی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ایموس کا کہنا ہے کہ یہ سگنل صرف اسی صورت میں بھیجے جا سکتے ہیں جب کہ طیارہ صحیح سلامت ہو اور اس کے انجن کام کر رہے ہوں۔

ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے بحرِ ہند میں طیارے کی تلاش کا عمل شروع کرنے کے پیچھے بھی یہی معلومات کارفرما ہو سکتی ہیں۔

امریکہ نے جمعے کو طیارے کی تلاش میں مدد دینے کے لیے بحرِہند میں ٹیمیں بھیجی ہیں اور اس کارروائی میں ایک بحری جہاز اور نگرانی کرنے والا ایک ہوائی جہاز حصہ لے رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے تصدیق کی ہے کہ تلاش کرنے والی امریکی ٹیموں نے ’نئی معلومات‘ کی روشنی میں بحرِہند پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی نام نہ ظاہر کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے کہا تھا کہ لاپتہ ہونے کے پانچ گھنٹے بعد تک طیارے سے سیٹلائٹ پر سگنل آتے رہے، تاہم تفتیش کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معلومات مکمل نہیں ہیں۔

کوالالمپور میں بی بی سی کے جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ طیارے کے تلاش کے دوران کئی دفعہ پہلے بھی غلط معلومات سامنے آئی ہیں تاہم امریکہ نے حالیہ دعوؤں کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

ملائیشیا کی فضائیہ جزیرہ نما کے دونوں جانب کے سمندر میں تلاش کا عمل جاری رکھے ہوئی ہے جبکہ بھارت کی بحریہ اور ساحلی محافظ بھی ملائیشیا کی حکومت کی طرف سے درخواست پر طیارے کی تلاش میں مدد دے رہے ہیں۔

ملائیشیا کے قائم مقام وزیرِ ٹرانسپورٹ حشام الدین حسین نے کہا ہے کہ تلاش کا دائرہ ملک کے مشرق اور مغرب دونوں جانب کے سمندر میں بڑھا دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سیٹیلائٹ سگنل کے بارے میں آنے والی اطلاعات سے آگاہ ہیں لیکن اس وقت تک اس بارے میں کچھ نہیں کہیں گے جب تک ’متعلقہ حکام ان اطلاعات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کر دیتے۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل بدھ کو چینی حکام نے طیارے کے مبینہ ملبے کی تین تصاویر جاری کی تھیں جنھیں بعد میں غلط قرار دیا گیا تھا۔ ان دھندلی تصاویر میں بحیرۂ جنوبی چین میں بڑے حجم کے تین اجسام کو تیرتا دکھایا گیا تھا۔

اسی بارے میں