فنی خرابی یا پائلٹ کی غلطی؟

تصویر کے کاپی رائٹ

ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 کا یوں غائب ہو جانا ابھی تک ایک معمہ ہے۔لیکن اس حادثے کے حوالے سے عام لوگوں میں جو افواہیں گردش کر رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ فضائی حادثوں کے بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں۔

بنیادی سوال یہی ہے کہ ایک مسافر بردار طیارہ کیوں تباہ ہوتا ہے۔ کیا ایسا ہمیشہ فنی خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے یا اس کے پیچھے انسانی غلطی کا ہاتھ ہوتا ہے؟

ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جن کا حادثے کے بعد پہلا خیال یہی ہوتا ہے کہ طیارے کے کسی اہم پرزے نے کام کرنا بند کر دیا ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مکینیکل خرابی سے تباہ ہونے والے طیاروں کی تعداد بہت کم ہے۔

ایک اندازے کے مطابق آج تک ہونے والے تمام مہلک فضائی حادثوں میں سے پچاس فیصد میں بنیادی وجہ پائلٹ کی غلطی تھی۔

انٹرنیشنل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2006 اور 2011 کے درمیانی عرصے میں ہونے والے تباہ کن فضائی حادثوں میں سے بیس فیصد سے زائد ایسے تھے جن میں پائلٹ نے طیارہ اپنی غلطی سے زمین، پانی یا پہاڑوں سے ٹکرا دیا تھا۔

ان حادثوں کی وجہ خراب موسم میں پائلٹ کو صحیح دکھائی نہ دینا، جہاز کی بلندی وغیرہ کو درست طریقے سے نہ دیکھ سکنا یا اسی قسم کی کوئی انسانی غلطی تھی۔ مسافر بردار طیارے بنانے والی مشہور کمپنی بوئنگ کا کہنا ہے کہ مذکورہ حادثوں میں اصل غلطی پائلٹ کی ہی تھی۔

اس قسم کے حادثوں میں تازہ ترین مثال سنہ 2012 میں انڈونیشیا کے پہاڑوں میں سپر جیٹ 100 کا حادثہ ہے۔ یہ طیارہ ایک نمائشی پرواز پر تھا جس میں صحافی اور طیارے کے متوقع خریدار بھی سوار تھے۔ طیارے کے اندر ایسے آلات بھی موجود تھے جو یہ بتاتے ہیں کہ طیارہ میدان کے اوپر سے گزر رہا ہے یا پہاڑوں کے قریب ہے۔ لیکن پائلٹ نے غلطی سے سمجھا کہ یہ نظام خراب ہے، چنانچہ اس نے کمپیوٹر بند کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈونیشیا میں تباہی کا شکار ہونے والے طیارے کا ملبہ

متوقع خریداروں کے ساتھ گفتگو میں پائلٹ یہ بھول گیا کہ وہ پہاڑوں کے بہت قریب آ چکا ہے۔ چند ہی لمحوں میں طیارہ پہاڑ سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا اور اس میں سوار چالیس افراد موت کے منہ میں چلےگئے۔

دوسری مثال ایسٹرن ایئر لائنز کے حادثے کی ہے جب سنہ 1972 میں فلوریڈا میں عملے کے تین افراد جہاز میں لگی ایک بتی کے پیچھے پڑ گئے کہ وہ جل کیوں نہیں رہی۔ اس دوران انھیں پتہ ہی نہیں چلا کہ جہاز اپنے خودکار نظام کے تحت خود ہی اپنی بلندی کم کرتے کرتے زمین کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ عملے کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوا اس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔

اس قسم کا ایک اور حادثہ سنہ 1978 میں ہوا تھا جب یونائیٹڈ ایئر لائنز کا ایک طیارہ امریکی ریاست اوریگون میں گر گیا اور اس میں سوار دس افراد میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا تھا۔

اس حادثے کے بعد مسافر بردار طیاروں کے پائلٹوں کے بارے میں سوچ میں بنیادی تبدیلی لائی گئی اور عملے کے تمام ارکان کو سخت ہدایت دی جانے لگی کہ وہ زمین پر موجود تکنیکی افراد سے بات کرتے ہوئے اپنے پیغامات واضح ترین زبان میں دیں اور طیارے کے اندر بھی آپس میں طیارے کی تبدیل ہوتی ہوئی بلندی اور کسی دوسری غیر معمولی چیز کو دیکھنے پر مسلسل آپس میں گفتگو کرتے رہیں۔

مسافروں کا خیال شاید یہ ہو کہ پائلٹ کی غلطی سے مراد صرف پائلٹ کی اپنی غلطی ہی ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اس میں عملے کے تمام ارکان شامل ہوتے ہیں۔

پائلٹ کی غلطی والے ان حادثات کے علاوہ دنیا میں کئی ایسے فضائی حادثے ہو چکے ہیں جن کی تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ ان میں عملے کی کوئی غلطی نہیں تھی اور یہ حادثے سراسر فنی خرابی کے باعث پیش آئے تھے۔

ایسے حادثوں میں سب سے زیادہ مہلک حادثہ جاپان ایئر لائینز کے طیارے کو سنہ 1985 میں پیش آیا تھا جس میں طیارہ پہاڑ سے جا ٹکرایا تھا اور اس میں سوار پانچ سو بیس افراد مر گئے تھے۔ اس طیارے میں دباؤ کو قائم رکھنے والے ایک آلے کو درست مرمت نہیں کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں پائلٹ کی تمام کوششوں کے باوجود طیارہ پہاڑ سے ٹکرا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنہ 1979 میں امریکن ایئر لائن کے طیارے کو مہلک حادثہ پیش آیا تھا

اگرچہ ماضی میں کئی ایسے فضائی ہو چکے ہیں جن کے بارے میں ہم واضح الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ یہ پائلٹ کی غلطی یا فنی خرابی سے ہوئے، تاہم عموماً فضائی حادثوں میں پائلٹ کی غلطی اور فنی خرابی دونوں موجود ہوتے ہیں۔

سب سے بدترین حادثہ اس وقت ہوا جب 1977 میں ٹینیرف کے رن وے پر دو بوئنگ 747 طیارے آپس میں ٹکرا گئے تھے۔ اس حادثے میں 583 لوگ ہلاک ہوئے۔ اس حادثے کی وجہ شدید دھند اور مواصلات کے نظام کی ناکامی تھی۔

2009 میں یو ایس ایئر لائنزکا طیارہ ایئربس 320 جب نیویارک کے لیےگورڈیا ایئرپورٹ سے روانہ ہوا تو وہ دو پرندوں سے ٹکرایا جس سے اس کے دونوں انجن ناکارہ ہوگئے۔ کپتان نے طیارے کو بغیر کسی جانی نقصان کے دریائے ہڈسن میں اتار لیا۔

ملائیشیا ایئرلائنز کے لاپتہ ہونے والے طیارے جیسا ہی واقعہ 2009 میں ایئرفرانس کے ساتھ پیش آیا۔ ایئر فرانس کی ایئربس اے330 ریو ڈی جنیرو سے پیرس آ رہی تھی کہ طیارہ بحرہ اوقیانوس میں لاپتہ ہوگیا۔ اس طیارے کے ملبے کو ڈھونڈنے میں کئی روز لگے اور ماہرین کو حادثے کی تہہ تک پہنچنے میں تین سال کا عرصہ لگا۔

ایئر فرانس کے طیارے کی تباہی پائلٹ کی غلطی سے ہوئی تھی۔ طیارے کے ا نجن بند ہوگئے تھے جس پر پائلٹ نے جس طرح ردعمل ظاہر کیا وہ طیارے کی تباہی کا باعث بنا۔ بلیک باکس کے ملنے کے بعد جو معلومات سامنے آئیں اس سے ظاہر ہوا کہ طیارے کے عملے کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ سخت طوفان نے طیارے کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا ہو۔ لیکن شدید موسم کی وجہ جب طیارے کا آٹو پائلٹ نظام رک گیا تو پائلٹ نے اس پر جس ردعمل کا اظٌہار کیا وہ طیارے کی تباہی کا اصل وجہ بنی۔

لیکن اب طیارے اور پائلٹ کا تعلق انتہائی بدل چکا ہے۔ اب کمپیوٹروں پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔

1982 میں برٹش ایئرویز کا طیارہ لندن سے آک لینڈ جا رہا تھا جب وہ جکارتہ کے قریب آتش فشاں غبار میں پھنس گیا۔ اس پائلٹ نے جو اس وقت پیغام دیا وہ ایویشن کی دنیا کا ایک تاریخی پیغام بن گیا۔ پائلٹ نے کہا:’ایک چھوٹا سا مسئلہ درپیش ہے۔ طیارے کے چاروں انجن بند ہو گئے ہیں۔ ہم اس صورتحال سے نمٹنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنہ 2009 میں ایئر فرانس کے طیارے کی تباہی اس کے ملبے کی تلاش مشکل سے ہوئی تھی

پائلٹ نے طیارے کو نوز ڈائیو کرائی جس سے طیارے کے تین انجن دوبارہ سٹارٹ ہو گئے۔ پائلٹ نے طیارہ ’مینوئلی‘ اتار لیا۔

پائلٹوں کی بہت تربیت کی جاتی ہے اور طیارے کا مکمل کنٹرول دیے جانے تک ان کو بہت تجربہ حاصل ہو چکا ہوتا ہے لیکن ان سے بھی غلطی سرزد ہو سکتی ہے

پائلٹ اور ایوی ایشن کے موضوع پر کتاب ’طیارے کیوں کریش کرتے ہیں؟ کی مسنفہ سیلویا رنگلی کا کہنا ہے کہ ’جب کچھ غلط ہو جائے تو اس کا الزام پائلٹ پر عائد کر دینا بہت آسان ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ قربانی کا بکرا بنانے کی آسان سی مثال ہے کیونکہ پائلٹ یا تو مر چکا ہوتا ہے یا فارغ ہو جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ درجنوں چیزیں غلط ہو چکی ہوتی ہیں۔‘

مگر اینڈریو بروکس جو شاہی فضائیہ کے سابق پائلٹ ہیں اور پروازوں کے تحفظ کے حوالے سے لکھتے رہتے ہیں کا کہنا ہے کہ آج کل ٹیکنالوجی اتنی بہتر ہے کہ پائلٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے ’ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جو ایک طیارے کو لندن سے بیجنگ تک بغیر پائلٹ کے پرواز کروا سکتی ہے۔ آج کل ٹیکنالوجی بہت کم ہی ناکام ہوتی ہے اور مجھے نہیں یاد کہ ماضی قریب میں کوئی ایسا حادثہ ہوا ہو جس میں انجن فیل ہوئے ہوں یا طیارے کے پر گر گئے ہوں۔‘

ایک مسافر نے اس وقت طیارے کو بحفاظت رن وے پر اتار لیا جب پائلٹ کی موت واقع ہو گئی تھی اور اس مسافر کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں ہوئی تھی۔

بعض ماہرین ’پائلٹ کی غلطی‘ کو ایک مکمل غلط اصطلاح سمجھتے ہیں کہ یہ بالکل ہی غیر فائدہ مند ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ فضائی سفر محفوظ تر ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی سول ایوی ایشن تنظیم کے مطابق 1985 میں جو کہ فضائی سفر کے بدترین سالوں میں سے ایک تھا 1900 سے زیادہ افراد ہوائی جہازوں کے حادثوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے جبکہ 2012 میں نو ایسے مہلک حادثے تھے جن میں 372 افراد کی موت واقع ہوئی۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ہر حادثے کی تحقیقات سے طیاروں کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے کیونکہ پاپالارڈو کے مطابق ’ہوابازی ابھی بھی سیکھنے کے عمل سے گزر رہی ہے اور یہ جاننا اہم ہے کہ کیا ہوا کیونکہ ہمیشہ کئی وجوہات ہوتی ہیں۔‘

اس سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ پائلٹ اور طیارے دونوں کے لیے بہتری کی صورتیں موجود ہیں۔