سواستکا: ہِٹلر نے کِیا بدنام

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اپنی قدیم اور جدید شکل میں سواستکا برطانیہ میں بہت مقبول علامت ہے

سواستکا۔۔۔

اس ایک لفظ اور اس سے منسلک نشان میں بہت کچھ پوشیدہ ہے۔

ایک ارب سے زیادہ ہندوؤں کے لیے اس لفظ کا مطلب ’اچھائی‘ اور اچھی قسمت ہے، جبکہ دوسرے لوگوں کو صلیب اور اس کے مُڑے ہوئے سِروں سے بنا ہوا یہ نشان ہٹلر کی نازی حکومت اور اس کی پالیسیوں کی یاد دلاتا ہے۔ لیکن اپنی نازی نسبت کے باوجود سواستکا کی علامت آپ کو انگلینڈ میں ہر جگہ نظر آئے گی۔

ایسا کیونکر ہوا؟

سواستکا دراصل سنسکرت زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ’اچھائی‘ کے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس لفظ اور اس سے منسلک علامت کو آج کل بالکل مختلف اور منفی معنوں میں لیا جاتا ہے۔

اس علامت سے لوگ اس قدر خائف ہیں کہ ایک شخص نے اپنی مقامی حکومت سے مطالبہ کر دیا تھا کہ برطانیہ کی ایسکس کاؤنٹی کونسل کی عمارت پر سنہ 1930 میں کندہ کیا جانے والا سواستکا مٹایا جائے۔ کئی دیگر مقامی لوگوں نے بھی اس مطالبے کی تائید کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایسکس کاؤنٹی کونسل کی عمارت پر سواستکا ہٹلر کے منظر عام پر آنے سے پہلے کا کندہ ہے

اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی ممالک میں سواستکا کے بارے میں سوچ کس قدر بدل چکی ہے اور لوگ نازی جرمنی کے حوالے کی وجہ سے اس نشان کے کتنے خلاف ہو چکے ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اڈولف ہٹلر اور نازی پارٹی نے اپنے لیے اس نشان کا انتخاب کِیا کیوں؟

نازی پارٹی نے سواستکا کو سنہ 1920 میں باقاعدہ طور پر اپنایا۔ انھوں نے اس کو ’ہاکن کروز‘ کا نام دیا جس کا مطلب ہے ’مڑے ہوئے سِروں والی صلیب‘۔

لندن کی یونیورسٹی آف آرٹس سے منسلک ڈاکٹر میلکم کوِن کہتے ہیں کہ نازی پارٹی کی اس نشان کو منتخب کرنے کے وجہ یہ تھی کہ یہ نشان تاریخی طور پر فاتح آریاؤں کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ بیسویں صدی کے اوائل کے کچھ دانشوروں کا خیال تھا کہ آریا نسل کے لوگوں نے کئی صدیاں پہلے ہندوستان کو فتح کر کے وہاں اپنی دھاک بٹھائی تھی۔ ان دانشوروں کا کہنا تھا کہ جن آریاؤں نے ابتدائی طور پر انڈیا کو زیر تسلط کیا وہ دراصل سفید فام لوگ تھے جن کے آباؤ اجداد کا تعلق جرمن نسل سے تھا۔

ڈاکٹر میلکم کوِن کہتے ہیں کہ ’ہٹلر نے اصل میں یہ کِیا کہ قدیم جرمنی کے پرچم پر ایک فاتح قوم کے سواستکا کے نشان کو چسپاں کر کے اسے اپنی جماعت کا پرچم بنا دیا۔اور یوں انھوں نے جرمنی کو ایک نئی شناخت دی، ایک ایسی قوم کی شناخت جس کا نصب العین دنیا کو فتح کرنا اور دوسرے ممالک کو اپنے زیر تسلط کرنا ہے۔

’یوں نازیوں نے خود اپنی ایک نئی تاریخ گڑھ لی اور چند ہی دہائیوں میں سواستکا کو اس کے اصل معانی سے الگ کر کے اسے نئے معنی دے دیے۔

لیکن حقیقت یہی ہے کہ سواستکا کی تاریخ ہٹلر اور نازی پارٹی سے صدیوں پرانی ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے ہندو مت کے مطالعے کے شعبے سے منسلک ڈاکٹر جسیکا فریزئر نے بی بی سی کو بتایا کہ سواستکا کے آثار چین، منگولیا، قدیم امریکہ سمیت برطانیہ کے جزیروں پر جا بجا ملے ہیں۔

’سواستکا کے اصل معنی کیا ہیں۔ میرا خیال ہے یہ ایک معمہ ہی رہے گا۔ شاید مختلف تہذیبوں میں اس نشان کے مقبول ہونے کی وجہ اس کی مخصوص دلچسپ ساخت سے زیادہ نہ ہو۔‘

یا شاید قدیم زمانے میں اس نشان کے مذہبی یا فلکیاتی علم کے حوالے سے کوئی معنی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس بات کا امکان نہیں رہا کہ آئندہ یہ نشان کسی عوامی عمارت پر کندہ کیا جائے

جہاں تک برطانیہ میں بے شمار مقامات پر سواستکا کے نشانات پائے جانے کا تعلق ہے، تو ان کا آغاز اٹھارہویں صدی میں ہوا اور برطانیہ میں سواستکا انڈیا سے آیا۔ مشہور مصنف رُڈیارڈ کِپلنگ چونکہ انڈیا سے بہت متاثر تھے، اس لیے ان کی تمام کتابوں کی جلدوں پر سواستکا بنا ہوا ہوتا تھا۔

آکسفرڈ یونیورسٹی کے ہندو مت کے مطالعے کے مرکز کے ڈائریکٹر شانُوکا رِشی داس کا کہنا ہے کہ مغربی لوگوں کی اکثریت کو سواستکا دیکھتے ہی نازی جرمنی کی یاد آ جاتی ہے۔ لیکن آپ کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ سواستکا کی روایت نازی جرمنی سے صدیوں پرانی ہے اور نازیوں نے اس نشان کا غلط استعمال کر کے اس کی شہرت کو خراب کر دیا ہے۔ ہندؤوں کے لیے یہ نشان مذہبی اہمیت رکھتا ہے، اسی لیے برطانیہ میں جن دو پہلی عمارتوں میں اس کے آثار ملتے ہیں، وہ دونوں عمارتیں لارڈ کرشنا کی پوجا کے لیے مختص رہی ہیں۔‘

لگتا یہی کہ مستقبل میں بھی ہندو عبادت گاہوں وغیرہ میں تو لوگ سواستکا بناتے رہیں گے، لیکن نازی پارٹی نے اس نشان کو جو منفی معنی پہنا دیے ہیں ، اس کے بعد اس بات کا امکان نہیں رہا کہ آئندہ یہ نشان کسی عوامی عمارت پر کندہ کیا جائے۔

اسی بارے میں