روس نے کرائمیا کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کرائمیا کے پارلیمان نے باضابطہ طور رشیئن فیڈریشن کے ساتھ الحاق کے لیے درخواست دی

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے ایک حکم نامے پر دستخط کرکے کرائمیا کو’ایک خودمختار اور آزاد ریاست‘ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

روس کے صدارتی دفتر کے ذرائع نے روس کی طرف سے کرائمیا کو ایک خومختار ریاست تسلیم کرنے کے حوالے سے کہا کہ’یہ حکم نامہ اس دن سے لاگو ہوگا جس دن اس پر دستخط کیے گئے۔‘

یہ حکم نامہ جاری ہونے سے کرائمیا کے لیے روس میں شامل ہونے کے لیے راستہ ہموار ہو گیا۔

روس کی طرف سے یہ اقدام کرائمیا میں اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم کے بعد کیا گیا ہے جس میں حکام کے مطابق تقریباً 97 فیصد ووٹروں نے کرائمیا کے خطے کو یوکرین سے علیحدہ کرکے روس میں شامل ہونے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

حکم نامے کی متن کے مطابق ’کرائمیا میں 16 مارچ سنہ 2014 کو ہونے والے ریفرنڈم میں میں عوامی رائے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے‘ یہ صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا۔

اس سے پہلے کرائمیا کے پارلیمان نے باضابطہ طور پر یوکرین سے علیحیدگی اختیار کی اور رشیئن فیڈریشن کے ساتھ الحاق کے لیے درخواست دی۔

ادھر پیر ہی کو امریکہ اور یورپی یونین نے روس اور یوکرین کے متعدد اہلکاروں کے اثاثوں کو منجمد کرتے ہوئے ان کے سفر کرنے پر بھی پابندی عائد کرنے کا اعلان کر کیا تھا۔

جن لوگوں کو ان پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا ان کے بارے میں خیال ہے کہ انہوں نے اس ریفرینڈم کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکہ اور یورپی یونین کے خیال میں یہ ریفرینڈم غیر قانونی ہے جبکہ روس کا موقف ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتا ہے۔ یوکرین کی حکومت نے بھی اس ریفرنڈم کو ایک ’سرکس پرفارمنس‘ قرار دیتے ہوئے اس کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

یورپی یونین اور امریکہ نے روس اور یوکرین کے حکام کے خلاف پابندیوں کی علیحدہ علیحدہ فہرستیں جاری کیں۔ ان فہرستوں میں کرائمیا کے قائمقام وزیرِاعظم سمیت پارلیمان کے سپیکر و اراکین اور دیگر حکام شامل ہیں۔

امریکہ کے پابندیوں کے فہرست میں روس کے نائب وزیرِ واعظم، روس کے پارلیمان کے ایوانِ بالا کے سربراہ اور یوکرین کے برطرف صدر وکٹور یانوکوچ شامل ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکہ’مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے‘ جس کا انحصار اس پر ہے کہ روس یوکرین میں حالات کو حالات کو خراب کرتا ہے یا معمول پر لانے کی کوشش کرتا ہے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ معملات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین کا کرائمیا علاقہ فروری کے اواخر سے روسی حامی فوجیوں کے قبضے میں ہے۔ ماسکو کا موقف ہے کہ یہ روس حامی فوجی ’سیلف ڈیفنس فورس ہیں اور روس کے براہ راست کنٹرول میں نہیں ہیں۔‘

ادھر پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے عبوری صدر اولیگزینڈر ترچینوو نے ریفرینڈم کو بڑے مذاق سے تعبیر کیا اور کہا کہ اسے نہ تو یوکرین اور نہ مہذب دنیا ہی قبول کرے گی۔

امریکہ اور یورپی یونین نے كرائميا کے ریفرینڈم کو یوکرین اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ عالمی برادری ’تشدد کے خوف‘ تلے کیے گئے ریفرنڈم کو نہیں مانے گی اور روس نے ’خطرناک اور غیر مستحکم کرنے‘ والے اقدامات کیے ہیں۔

اسی بارے میں