چیچنیا کے باغی رہنما کی موت واقع ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیو کاز سینٹر کے مطابق علی ابو محمد کو’ کوہ قاف امارات‘ کا نیا امیر مقرر کیا گیا ہے

روس کے اسلامی شدت پسندوں کی ویب سائٹ کے مطابق چیچنیا کے باغیوں کے رہنما ڈکو عماروف کی موت واقع ہو گئی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ طبعی موت مرے یا ہلاک کر دیے گئے۔

کیو کاز سینٹر ویب سائٹ پر دیے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ کوہِ قاف امارات کے امیر ’شہید‘ ہو گئے لیکن ویب سائٹ نے اس کے علاوہ مزید وضاحت نہیں دی اور روسی حکام نے بھی سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی۔

ڈکو عماروف کے گروپ نے ماضی میں روس میں ہونے والے کئی خوفناک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خبر رساں ادارے روائٹرز کے مطابق روس کی سرکاری خبر رساں ادارے آر آئے اے نے روس کے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ وہ ڈکوعمراوف کے ہلاک ہونے کی تصدیق نہیں کریں گے۔

کیو کاز سینٹر ویب سائٹ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ علی ابو محمد کو’ کوہ قاف امارات‘ کا نیا امیر مقرر کیا گیا ہے۔ اس ویب سائٹ کو کوہِ قاف میں روس کے خلاف برسرِ پیکار شدت پسندوں کا حامی سمجھا جاتا ہے۔

بی بی سی کے روسی سروس کے آرتیوم لیز کا کہنا ہے کہ ماضی میں اس ویب سائٹ نے ان شدت پسندوں کے لیے جو طبعی موت مرے اور جو ہلاک ہو گئے دونوں کے لیے ’شہید‘ کا لفظ استعمال کیا ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ ڈکو عماروف طبی موت مرے یا ہلاک کیے گئے۔

گذشتہ چند سالوں کے دوران روس نے ڈکو عماروف کو ہلاک کرنے کے کئی دفعہ دعوے کیے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق عماروف ان روسی دعووں کے بعد اکثر ویڈیو پیغامات ریکارڈ کر کے جاری کرتا تھا۔

’کوہِ قاف امارات‘ کے خود ساختہ امیر روس کو بہت مطلوب باغیوں میں سے ایک ہیں۔

عماروف نے جنوری سنہ 2011 میں ماسکو ایئرپورٹ پر ہونے والے دھماکوں جس میں 36 افراد ہلاک ہوئے تھے اور مارچ سنہ 2010 میں ماسکو کے میٹرو میں ہونے والے خودکش بم حملوں جس میں 39 افراد ہلاک ہوئے تھے، کے احکامات جاری کرنے کےدعوے کیے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ انھوں نے نومبر سنہ 2009 میں ماسکو سے سینٹ پیٹرز برگ جانے والی ریل گاڑی میں ہونے والے دھماکوں کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس واقعے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عماروف نے اپنے ساتھیوں کو حالیہ سوچی المپکس کو بھی نشانہ بنانے کی ہدایت کی تھی۔

روس عرصے سے اسلامی شدپ پسندوں کے خلاف لڑ رہا ہے جو کوہ قاف کے مسلمان آبادی والے جنوبی صوبوں کو علیحدہ کرکے ایک اسلامی ریاست قائم کرنے چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں