لاپتہ طیارے : مسافروں کے لواحقین کی بھوک ہڑتال کی دھمکی

Image caption تلاشی کا پہلے سے پیچیدہ عمل اب مزید مشکل ہوگیا ہے: وزیرِ ٹرانسپورٹ

ملائیشیا کے لاپتہ طیارے میں سوار چینی مسافروں کے لواحقین نے کہا ہے کہ اگر ملائیشیا کی حکومت طیارے کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی تو وہ اجتجاجاً بھوک ہڑتال کریں گے۔

بیجنگ میں اس طیارے پر سوار مسافروں کے لواحقین نے ملائیشین فضائی کمپنی کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا۔

ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ تلاش کا علاقہ محدور کر رہے ہیں اب یہ کام دو اعشاریہ دو چار مربع ناٹیکل میل میں کی جائے گی۔

ملائیشیا فضائی کمپنی کا طیارہ ایم ایچ 370 آٹھ مارچ کو لاپتہ ہو گیا تھا اور اس پر 239 مسافر سوار ہیں۔

چین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کا کہنا ہے ملائیشیا کی حکومت پوری بات نہیں بتا رہی اور ان سے حقائق چھپائے جا رہے ہیں۔

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ سچ جاننا چاہتی ہیں۔

قبل ازیں ملائیشیا کے حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہونے والے طیارے ایم ایچ 370 کے معاون پائلٹ نے فضائی کنٹرول روم کو طیارہ غائب ہونے سے پہلے آخری الفاظ کہے۔

تفتیش کار اس کی تفتیش کر رہے ہیں کہ کہیں طیارہ کا عملہ اسے غائب کرنے میں ملوث تو نہیں۔

لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن جاری ہے جس میں 26 ممالک حصہ لے رہے ہیں۔

ملائیشیا ایئر لائنز کے چیف ایگزیکٹیو احمد جوہری یاحی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں بات سامنے آئی ہے کہ نائب پائلٹ فارق عبدالحمید نے طیارے کے غائب ہونے سے چند لمحوں پہلے آرام سے کہا کہ’ٹھیک ہے، شب بخیر۔‘

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ آخری الفاظ طیارے کا ٹریکنگ ڈیوائس یا پتہ بتانے والا آلہ بند کرنے سے پہلے کہے گئے یا اسے بند کرنے کے بعد میں۔ حکام کو یقین ہے کہ طیارے کے مواصلاتی نظام کو دانستہ طور پر بند کیا گیا تھا۔

پولیس نے طیارے کے کپتان 53 سالہ زہری شاہ اور 27 سالہ فارق کے گھروں کی تلاشی لی ہے۔حکام کے مطابق پولیس کپتان کے گھر سے پرواز جیسی کیفیت پیدا کرنے والی مشین یا فلائٹ سیمولیٹر کو اپنے ہیڈ کوارٹر لے گئی ہے جہاں انھوں نے اس کامعائنہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس زہری احمد شاہ اور معاون پائلٹ فارق عبدالحمید کی معاشرتی زندگی اور نفسیاتی پہلوؤں پر بھی نظر ڈال رہی ہے۔

طیارے کا مواصلاتی نظام دانستہ طور پر خراب کیے جانے اور اس کا راستہ جان بوجھ کر بدلے جانے کی تصدیق کے بعد اب پولیس جہاز کے عملے اور مسافروں کے بارے میں بھی تحقیقات کر رہی ہے۔

تفتیش کار مسافروں، انجنیئیروں اور دیگرزمینی عملے کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ شاید ان میں سے کسی نے پرواز سے پہلے طیارے کے ساتھ رابطہ رکھا ہو۔

ملائیشیا ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 گذشتہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کوالالمپور سے بیجنگ کے سفر کے دوران غائب ہوئی تھی اور اس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔اس لاپتہ طیارے پر 239 افراد سوار تھے جن میں سے بیشتر چینی تھے۔

اس طیارے نے آخری مرتبہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ملائیشیا کے مشرق میں بحیرۂ جنوبی چین کی فضائی حدود میں رابطہ کیا تھا لیکن اس کے غائب ہونے کے سات گھنٹے بعد بھی طیارے سے سیٹیلائٹ کو خودکار طریقے سے سگنل ملتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لاپتہ ہونے والے طیارے پر 153 چینی مسافر سوار تھے

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے سنیچر کو کہا تھا کہ یہ طیارہ قزاقستان اور جنوبی بحر ہند کے درمیان کہیں بھی ہو سکتا ہے اور اتوار سے تلاشی کا عمل بھی وسط ایشیا سے بحرِ ہند تک زمینی اور سمندری علاقے میں پھیلا دیا گیا۔

ملائیشیا نے اس طیارے کی تلاش کے لیے جن ممالک سے مدد مانگی ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے تاہم پاکستانی سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ طیارے کی پاکستانی حدود میں داخلے کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

تلاشی کے عمل میں شریک تحقیق کار ان تمام ممالک سے ریڈار کا ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن پر سے ایم ایچ 370 نامی اس پرواز کے گزرنے کا امکان ہے۔

ملائیشیا کے حکام نے اس سلسلے میں، قزاقستان، ازبکستان، کرغزستان، ترکمانستان، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، چین، برما، لاؤس، ویت نام، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، آسٹریلیا اور فرانس سے رابطہ کیا ہے۔

ادھر ملائیشیا نے وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ تلاشی کا پہلے سے پیچیدہ عمل اب مزید مشکل ہوگیا ہے۔

لاپتہ ہونے والے طیارے پر 153 چینی اور 38 ملائیشین شہریوں کے علاوہ، ایران، امریکہ، کینیڈا، انڈونیشیا، آسٹریلیا، بھارت، فرانس، نیوزی لینڈ، یوکرین، روس، تائیوان اور ہالینڈ کے باشندے سوار تھے۔

اسی بارے میں