آخر طیارہ گیا کہاں؟

تصویر کے کاپی رائٹ

ملائیشیا ایئرلائنز کے طیارے کو گُم ہوئےگیارہ دن بیت چکے ہیں۔ گلی محلے سے لیکر سوشل میڈیا تک ہر کسی کا اپنا مفروضہ ہے کہ جہاز کہاں ہو سکتا ہے۔ ذیل میں کچھ سابقہ پائلٹ اور ایو یشن کی دنیا کے ماہرین گمشدہ طیارے کے بارے میں پیش کی جانے والی تھیوریز یا مفروضوں کا جائزہ لیا ہے۔

ملائیشیا کی حکومت کہتی ہے کہ طیارے کا رخ جان بوجھ کر موڑا گیا اور جس مقام پر اس کا رابطہ زمینی عملے سے منقطع ہوا (یا کیا گیا) اس مقام سے آگے طیارے کو شمال یا جنوب کی طرف موڑ لیا گیا تھا۔ ملائیشیا کے سول ایوی ایشن کے ادارے کا کہنا ہے کہ فوجی ریڈار پر آخری مرتبہ دیکھے جانے کے چھ گھنٹے بعد تک طیارے کے سگنل کے نشان ملے ہیں۔ فوجی ریڈار نے طیارے کو آخری مرتبہ ملاکہ کی بحری پٹی کے اوپر پرواز کرتے ہوئے ریکارڈ کیا تھا۔

1: طیارہ جزائر انڈمان پر اتارا گیا

لگتا ہے کہ اپنی سمت تبدیل کرنے کے بعد طیارہ انڈیا کے انڈمان اور نکوبار کے جزائر کی جانب جا رہا تھا۔یہ جزائر تھائی لینڈ اور برما کے درمیان واقع ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان جزائر کا احاطہ کرنے والے فوجی ریڈار شاید اس وقت بند تھے کیونکہ اس خطے میں کسی فوجی کارروائی کے خطرات کم ہی ہوتے ہیں۔

جزیرے کے ایک اخبار ’انڈمان کرانیکل‘ کے مدیر نے اس مفروضے کو مسترد کر دیا ہے کہ طیارہ اس جزیرے پر اترا ہے۔سی این این سے بات کرتے ہوئے مدیر کا کہنا تھا کہ جزیرے پر کُل چار ایئر سٹرپ یا طیاروں کے لینڈ کرنے کی جگہیں ہیں، اور اگر طیارہ ان میں کسی بھی ایئر سٹرپ پر اترتا تو ہمیں پتہ لگ جاتا کہ طیارہ اس جزیرے پر اترا ہے۔

لیکن یہ جزائر کافی ویران ہیں اور انڈمان اور نکوبار کے جزائر 570 جزیروں پر مشتمل ہیں۔ان میں صرف 36 پر لوگ آباد ہیں۔ بوئنگ 777 کے سابق پائلٹ سٹیو بزدگان کا کہنا ہے کہ اگر جہاز کو چھُپانا ہی مقصود تھا تو پھر ان جزائر سے اچھی جگہ کوئی اور نہیں ہو سکتی کیونکہ آپ کسی کو خبر ہوئے بغیر یہاں طیارہ اتار سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اتنے چھوٹے جزیرے پر اتنا بڑا طیارہ اتارنا آسان نہیں، لیکن اگر آپ کو 1500 میٹر کی پٹی مل جاتی ہے تو یہ طیارہ اتارنے کے لیے کافی ہو گی۔

’ اگرچہ کتابوں میں آپ ایسے جزیرے پر طیارہ اتار سکتے ہیں، لیکن اسے عملی جامہ پہنانا اتنا آسان بھی نہیں۔ اتنے زیادہ بھاری جہاز کو یہاں اتارنے سے اس کے پہیے ریت میں دھنس سکتے ہیں اور جہاز کا نچلا حصہ تباہ ہو سکتا ہے۔ ’اگر میں کسی ایسی جگہ طیارہ اتاروں، تو میں جہاز کے پہیے نہ کھولوں، بلکہ اسے پیٹ کے بل ریت پر اتاروں۔ لیکن اس قسم کی لینڈنگ سے جہاز کے پر تباہ ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے، اور پروں میں بھرے ہوئے ایندھن سے طیارے کو آسانی سے آگ لگ سکتی ہے۔ اور ان سب کے باوجود، میں اگر طیارہ اتارنے میں کامیاب ہو بھی جاؤں تو اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ میں جزیرے سے دوبارہ طیارہ اڑا کے کسی دوسری جگہ جا سکتا ہوں۔‘

2: طیارہ قزاقستان چلا گیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ

جس شمالی علاقے میں طیارے کی تلاش جاری ہے، قزاقسان اس علاقے کا آخری مقام ہے۔ اسی لیے یہ مفروضہ بھی پیش کیا جا رہا کہ طیارہ قزاقستان چلا گیا ہے۔ ’جہاز تباہ کیوں ہوتے ہیں‘ کی مصنفہ اور ہلکے طیاروں کی پائلٹ سِلویا رگلی کہتی ہیں کہ کسی جزیرے کے مقابلے میں گمشدہ طیارے کے صحرا میں اتارے جانے کے امکانات یقینابہت زیادہ ہیں۔ ’اگر ایسا ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طیارے کو قزاقستان کے کسی دور دراز صحرائی علاقے میں اتارا گیا ہے۔

ملائیشیا کی حکومت نے ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ طیارے پر کس قسم کا سامان موجود تھا یا اس پر کوئی ارب پتی شخص بھی سوار تھا یا نہیں۔ کیونکہ اگر طیارے کو ہائی جیک کیا گیا ہے تو ان معلومات کی غیر موجودگی میں ہم ہائی جیکرز کا طیارہ اغوا کرنے کا مقصد نہیں جان سکتے۔

قزاقستان کے سول ایسی ایشن کے سربراہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو جو بیان جاری کیا ہے اس میں ادارے کا کہنا ہے کہ اگر طیارہ ان کے ملک میں اتارہ جاتا تو ادارے کو پتہ لگ جاتا۔

اس مفروضے میں اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر طیارے کو قزاقستان لے جایا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ طیارہ انڈیا، پاکستان اور افغانستان کی فضائی حدود سے گُزرا ہے۔ یہ تینوں ممالک فوجی تیاری کے لحاظ سے عموماً ہائی الرٹ پر ہوتے ہیں، اس لیے اس بات کا امکان موجود نہیں کہ طیارہ ان تینوں ممالک کے فوجی ریڈاروں سے بچ کر قزاقستان پہنچ گیا ہو۔

3: طیارہ جنوب کی جانب گیا

تصویر کے کاپی رائٹ

طیارے سے موصول ہونے والے آخری سگنلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشیا کے ریڈار کے نظام سے نکل جانے کے پانچ چھ گھنٹے بعد تک بھی طیارہ کام کر رہا تھا۔ اس بنیاد پر برٹش ایوی ایشن اتھارٹی کے سکیورٹی کے سابق سربراہ نارمن شینکس کی تجویز یہ ہے کہ طیارے کی تلاش کا کام نشان زدہ علاقوں کی آخری حدود سے کیا جانا چاہیے اور پھر ہمیں تلاش کرتے کرتے اس مقام تک آنا چاہیے جہاں سے طیارے نے آخری سگنل دیا تھا۔

چونکہ ابھی تک طیارہ کا کوئی نشان نہیں مل رہا، اس لیے نارمن شینکس کے خیال میں طیارہ شمال کی جانب گیا ہی نہیں، بلکہ اسے شروع سے ہی جنوب کی طرف لے جایا گیا ہے جہاں اس کے ریڈار کی زد میں آنے کے امکانات کم ہیں۔

جنوب میں جانے کی صورت میں طیارے کے پاس بحیرہ ہند سے لیکر آسٹریلیا تک کا علاقہ موجود ہے اور اسے اتنے وسیع علاقے میں کہیں بھی اتارا جا سکتا ہے۔

4 - چین کا صحرائے تکلہ مکان

سوشل میڈیا پر یہ بات بھی ہو رہی ہے کہ طیارے کو چین کے علیحدگی پسند مسلمانوں نے اغوا کیا ہے۔ اس مفروضے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ طیارے میں سوار 239 میں سے 153 افراد کا تعلق چین سے تھا۔ اس مفروضے میں جس ممکنہ مقام کا نام لیا جا رہا ہے وہ چین کا تکلہ مکان کا صحرا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

لیکن اس مفروضے کا مسئلہ یہ ہے کہ طیارے کو اس صحرا تک جانے کے لیے کئی گھنٹوں تک ریڈار سے بچنا ضروری تھا، جس کا انکان نہ ہونے کے برابر ہے۔

5۔ آگ یا دیگر کسی خرابی کی وجہ سے اس نے جزیرہ لنگکاوی کی طرف پرواز کی

ایوی ایشن پر بلاگ لکھنے والے کرس گڈ فیلو کے خیال میں ٹرانسپونڈر بند ہوجانے اور رابطہ ٹوٹنے کی وجہ آگ بھی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طیارے کا اپنے مقررہ راستے سے ہٹ کر بائیں جانب مڑنا کسی محفوظ مقام کی جانب پہنچنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔

’اس پائلٹ نے تمام درست اقدامات کیے۔ اسے دورانِ پرواز کسی بڑے واقعے کا سامنا کرنا پڑا اور اس نے فوراً واپس مڑ کر نزدیک ترین محفوظ ہوائی اڈے کا رخ کیا۔ اس کا مقصد جہاز کو کسی شہر میں گرنے یا بلند پہاڑوں سے ٹکرانے سے بچانا تھا۔‘

’درحقیقت وہ براہِ راست لنگکاوی میں پلاؤ کی ہوائی پٹی جانا چاہتا تھا اور اس تیرہ ہزار فٹ کی پٹی پر اترنے کا راستہ سمندر پر سے ہے۔ وہ کوالالمپور کی جانب نہیں گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ راستے میں آٹھ ہزار فٹ کے پہاڑ ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ لنگکاوی کی جانب جانے والا راستہ آسان اور فاصلہ کم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

اس خیال کے مطابق طیارہ لنگکاوی تک نہ پہنچ پایا اور سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔

لیکن کرس گڈ فیلو کے اس نظریے کو چیلینج کیا گیا ہے۔ اگر ہنگامی حالت کی وجہ سے جہاز نے راستہ بدلا تو ایسا مینوئل کنٹرول کے تحت کیا جانا چاہیے تھا لیکن نیویارک ٹائمز کے مطابق طیارے نے راستہ کمپیوٹر پر دی جانے والی کمانڈ کے تحت بدلا جس کے لیے طیارے کے کپتان اور فرسٹ آفیسر کے درمیان موجود کی بورڈ پر سات سے آٹھ حروف ٹائپ کیے گئے۔

امریکی اخبار کے مطابق اسی وجہ سے تحقیق کاروں کے اس خیال کو تقویت پہنچی کہ جہاز کا رخ جان بوجھ کر موڑا گیا اور اس میں بدنیتی شامل تھی۔

6۔ طیارہ پاکستان میں ہے

میڈیا کی دنیا کے ایک بڑے نام روپرٹ مردوخ نے ٹویٹ کی کہ ’دنیا 777 کے غائب ہونے سے پریشان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ تباہ نہ ہوا ہو بلکہ چوری کر لیا گیا ہو اور شاید بن لادن کی طرح شمالی پاکستان میں چھپا دیا گیا ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان میں سول ایوی ایشن کے حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔ ہوابازی کے لیے وزیراعظم کے مشیر شجاعت عظیم نے کہا ہے کہ ’پاکستان کی سول ایوی ایشن کے ریڈار پر یہ طیارہ کبھی دکھائی نہیں دیا تو وہ کسیے پاکستان میں کہیں پوشیدہ ہو سکتا ہے؟‘

قزاقستان والے نظریے کی طرح یہ خیال بھی ناممکن ہی لگتا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کی فضائی حدود بیشتر اوقات فوجی ریڈار کی زد میں رہتی ہیں اور شمالی پاکستان کے علاقے پر سیٹیلائٹس اور ڈرون نظر رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ سوچنا کہ ایک طیارہ بغیر کسی کی نظر میں آئے وہاں پہنچ گیا بہت ہی مشکل ہے۔

7۔ طیارہ کسی دوسرے طیارے کے ریڈار کے سائے میں چھپ گیا

ایوی ایشن بلاگر کیتھ لیجروڈ کا کہنا ہے کہ لاپتہ طیارہ سنگاپور ایئرلائنز کی پرواز 68 کے ریڈار کے سائے میں چھپ گیا تھا۔ سنگاپور ائیرلائنز کی پرواز بھی اسی علاقے میں تھی جہاں ملائیشیئن ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 تھی۔

کیتھ کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے ایس آئی اے 68 کے فضائی راستے کا معائنہ کیا تو واضح ہوا کہ ایم ایچ 370 پندرہ منٹ تک اس کے بالکل پیچھے اڑتی رہی۔‘ ان کے خیال میں سنگاپور ایئرلائنز کے طیارے نے لاپتہ طیارے کو ریڈار سے اوجھل کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ان کے مطابق ’میرا خیال ہے کہ ایم ایچ 370 افغانستان اور بھارت کی فضائی حدود میں ایس آئی اے 68 کے سائے میں اڑتی رہی اور اس کا ٹرانسپونڈر بند ہونے کی وجہ سے ایس آئی اے 68 اس کی موجودگی سے بےخبر رہی اور جب وہ بھارت کی فضائی حدود میں داخل ہوئے ہوں گے تو ریڈار پر صرف ایس آئی اے 68 کے ٹرانسپونڈر سے ملنے والی معلومات ہی دکھائی دے رہی ہوں گی۔‘

کیتھ کے خیال میں سنگاپور ایئرلائنز کی پرواز تو سپین جا رہی تھی لیکن ملائیشین طیارہ اسی راستے پر چل کر سنکیانگ، کرغزستان تا ترکمانستان میں آسانی سے اتر سکتا تھا۔‘

8 - طیارے میں کشمکش۔

بزدیگان کا کہنا ہے کہ جس بلندی پر طیارہ پرواز کرتا رہا وہ بھی ایک معمہ ہے۔ ایک وقت میں وہ اپنی مقررہ اونچائی سے کہیں اوپر 45000 فٹ پر پرواز کر رہا تھا تو کبھی وہ انتہائی نچلی پرواز پر تھا۔ بلندی میں یہ تبدیلی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ طیارے میں کشمکش ہو رہی تھی۔

نائن الیون حملوں کے بعد سے طیاروں میں کاک پٹ کے دروازے مزید محفوظ بنائے گئے ہیں لیکن اب بھی ان دروازوں سے اندر رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ بزدیگان کے مطابق پائلٹ ہائی جیکنگ سے بچنے کے لیے جارحانہ انداز میں طیارہ اڑا سکتے ہیں۔

9 - ہوا کا دباؤ کم کر کے مسافروں کو مار دیا گیا

رائل ایئر فورس کے سابق نیویگیٹر شین مفٹ کا کہنا ہے کہ ایک اور مفروضہ جو طیارے کے لاپتہ ہونے کے بارے میں گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ جہاز کو پینتالیس ہزار فٹ کی بلندی پر لے جایا گیا ہو تا کہ مسافر جلد ہلاک ہو جائیں۔ مسافروں کو ہلاک کرنے کا مقصد یہ ہو سکتا ہے جب جہاز بلندی سے واپس نیچے آئے تو مسافر اپنے موبائل فون استعمال نہ کرسکیں۔ بوئنگ ٹرپل سیون کے لیے پینتالیس ہزار فٹ پر پرواز کرنا اپنی معمولی بلندی سے اوپر چلے جانا ہے۔ مفٹ کے مطابق اتنی بلندی پر اگر کیبن کا پریشر ختم کر دیا جائے تو آکسیجن ماسک خود بخود گر پڑیں گے لیکن بارہ سے پندرہ منٹ میں ان کی آکسیجن ختم ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح کاربن مون آکسائڈ اثر کرتی ہے بالکل اسی طرح پریشر کم ہونے سے مسافر بے ہوش ہونے کے بعد مر جائیں گے۔ لیکن اس طرح کی صورت حال میں جو کوئی جہاز کو کنٹرول کر رہا ہو گا وہ بھی ہلاک ہو جائے گا تاوقتکہ کہ اس کے پاس آکسیجن حاصل کرنے کا کوئی اور ذریعہ ہو۔

10 - طیارے کو دہشتگردی کے لیے دوبارہ اڑایا جائے گا

ایک اور ذرا بعید از قیاس مضروضہ یہ ہے کہ جہاز کو دہشت گردوں نے گیارہ ستمبر کی طرز پر حملہ کرنے کے لیے اغوا کر لیا ہو۔ جہاز کو کسی جگہ بحفاظت اتار لیا گیا ہو اور اس کو چھپا دیا گیا ہو تا کہ بعد میں اس میں ایندھن بھر کر اور نیا ٹرانسپونڈر لگا کر کسی شہر پر حملہ کیا جا سکے۔ مفٹ کے مطابق یہ بہت مشکل ہے کہ جہاز کو بحفاظت کسی جگہ اتار لیا جائے پھر اس کو چھپا دیا جائے اور اس میں دوبارہ ایندھن بھر کر اڑا لیا جائے۔ لیکن اس امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک ایسے مرحلے پر ہیں جہاں مشکل سے مشکل بات کو رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ تمام ممکنات کو پہلے ہی دیکھا لیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کیا جہاز میں نیا ٹرانسپونڈر لگایا جا سکتا ہے تاکہ اس کو بالکل مختلف شناخت دی جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ کہیں گے کہ جہاں یہ مکمن ہے کہ جہاز کو خفیہ طور پر کہیں اتار لیا جائے وہیں یہ ضروری نہیں کہ وہ اس حالت میں بھی ہو کہ اسے دوبارہ اڑا لیا جائے۔

اسی بارے میں