ملائیشیا:گمشدہ مسافروں کے لواحقین کا’احتجاج‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملائیشیا ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 370 کو لاپتہ ہوئے بارہ دن گزر چکے ہیں

ملائیشیا میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ دیگر ممالک کی جانب سے فراہم کردہ سیٹیلائٹ اور ریڈار ڈیٹا کی مدد سے لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کا دائرہ محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ادھر قائم مقام وزیرِ ٹرانسپورٹ نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ لاپتہ ہونے والا ملائیشین مسافر طیارہ مالدیپ میں دیکھا گیا تھا۔

ملائیشین ایئر لائنز کی پرواز ایم ایچ 370 آٹھ مارچ کو کوالالمپور سے بیجنگ کے سفر کے دوران غائب ہوئی تھی اور اس کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

اس طیارے کی تلاش کے لیے زیرِ تفتیش علاقہ اس وقت تقریباً آسٹریلیا کے رقبے جتنا بڑا ہو چکا ہے اور تلاشی مہم میں 25 ممالک حصہ لے رہے ہیں۔ طیارے کی تلاش وسط ایشیا میں قزاقستان سے لے کر جنوب میں بحرِ ہند تک جاری ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ تلاش کا اصل مرکز جنوبی بحرِ ہند کا علاقہ ہے۔

بدھ کو کوالالمپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشین وزیر حشام الدین حسین نے بتایا ہے کہ بحرِ ہند کے جزیرے مالدیپ میں ملائیشین طیارہ دیکھے جانے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ اس جزیرے کے کچھ رہائشیوں نے اطلاعات کے مطابق ایک جمبو جیٹ کو نچلی پرواز کرتے دیکھا تھا۔

حشام الدین حسین نے یہ بھی بتایا کہ حکام نے گمشدہ طیارے کے تمام مسافروں اور عملے کے بارے میں تحقیقات کی ہیں لیکن تاحال انھیں کوئی قابلِ ذکر معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں روس اور یوکرین کے علاوہ دیگر تمام ممالک سے مسافروں کے بارے میں معلومات مل گئی ہیں۔ اس طیارے پر دو یوکرینی اور ایک روسی شہری سوار تھا۔‘

حشام حسین نے یہ بھی بتایا کہ طیارے کے پائلٹ کی رہائش گاہ سے ملنے والے ’فلائٹ سیمولیٹر‘ سے کچھ ڈیٹا حذف کیا گیا تھا تاہم انھوں نے وضاحت نہیں کی کہ یہ تحقیقات کے سلسلے میں اہم نکتہ ہے یا نہیں۔

ملائیشیا ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 370 کو لاپتہ ہوئے بارہ دن گزر چکے ہیں اور اس کے مسافروں کے لواحقین کی پریشانی اور بےچینی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

اسی بےچینی کا مظاہرہ بدھ کو کوالالمپور کے میڈیا سنٹر میں اس وقت دیکھنے کو ملا جب صحافیوں سے شکایت کرنے والے چینی مسافروں کے رشتہ داروں کو زبردستی نکال دیا گیا۔

منگل کو ایم ایچ 370 کے مسافروں کے چند لواحقین نے حکام کی جانب سے جلد درست معلومات نہ ملنے کی صورت میں بھوک ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی تھی

ملائیشین حکام نے کہا ہے کہ وہ چین میں طیارے کے بارے میں معلومات کے منتظر خاندانوں سے رابطوں کے لیے ایک ٹیم بیجنگ بھیجیں گے۔ اس لاپتہ طیارے پر سوار 239 افراد میں سے بیشتر چینی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption منگل کو ایم ایچ 370 کے مسافروں کے چند لواحقین نے حکام کی جانب سے جلد درست معلومات نہ ملنے کی صورت میں بھوک ہڑتال پر جانے کی دھمکی دی تھی

ملائیشین ایئر لائن کے لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے چین نے نئے علاقوں میں کوششیں شروع کی ہیں جبکہ تھائی حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کے بعد بھی تھائی لینڈ کے ریڈار پر طیارے کی ٹریکنگ کی گئی ہو۔

چین نے تلاشی علاقے کا دائرہ ایک مرتبہ پھر وسیع کرتے ہوئے خلیجِ بنگال کے جنوب مشرقی حصے اور انڈونیشیا کے مغرب میں نو بحری جہاز بھیجے ہیں۔

ملائیشیا نے اس طیارے کی تلاش کے لیے جن ممالک سے مدد مانگی ہے ان میں پاکستان بھی شامل ہے تاہم پاکستانی سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ طیارے کی پاکستانی حدود میں داخلے کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

اس طیارے نے آخری مرتبہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے ملائیشیا کے مشرق میں بحیرۂ جنوبی چین کی فضائی حدود میں رابطہ کیا تھا لیکن اس کے غائب ہونے کے سات گھنٹے بعد بھی طیارے سے سیٹیلائٹ کو خودکار طریقے سے سگنل ملتے رہے۔

ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے سنیچر کو کہا تھا کہ یہ طیارہ قزاقستان اور جنوبی بحر ہند کے درمیان کہیں بھی ہو سکتا ہے اور اتوار سے تلاشی کا عمل بھی وسط ایشیا سے بحرِ ہند تک زمینی اور سمندری علاقے میں پھیلا دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ملائیشیا کے حکام نے کہا کہ لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کے مواصلاتی نظام کو جان بوجھ کر ناکارہ بنایا گيا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ طیارے کے پائلٹوں اور عملہ کے بارے میں جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں