’نگرانی سے بچنے کے لیے ہاتھ سے خط لکھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمی کارٹر کی انسانی خدمات کی باعث کئی امریکی اور عالمی رہنما ان سے رابطے میں رہتے تھے

امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کا کہنا ہے کہ وہ امریکی اور غیر ملکی رہنماؤں کو ہاتھ سے لکھے ہوئے خط بھیجا کرتے تھے اور اس کا مقصد برقی آلات کی نگرانی سے بچنے کی کوشش کرنا تھا۔

89 سالہ کارٹر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انہیں اس بارے میں ’ذرا بھی شک نہیں‘ تھا کہ امریکہ میں کی جانے والی ہر ٹیلی فون کال اور ای میل کا نگرانی کی جاتی ہے۔

’ ٹیلی فون نگرانی پروگرام غیر آئینی‘

جمی کارٹر انسانی خدمات کی باعث کئی امریکی اور عالمی رہنما ان سے رابطے میں رہتے تھے۔

انہوں نے سنہ 1981 میں عہدہ صدارت چھوڑا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک انٹرویو میں جمی کارٹر کا کہنا تھا ’میرا نہیں خیال کہ اب اس بارے میں کوئی شبہ باقی رہ گیا ہے کہ این ایس اے یا دوسری ایجنسیاں امریکہ میں موبائل فون سمیت ہر فون کال کو ریکارڈ اور ان کی نگرانی کرتی ہیں۔ اور میرا اندازہ ہے کہ ای میلز کی بھی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میرا خیال ہے کہ میری ٹیلی فون کالز اور ای میلز کی بھی نگرانی کی جارہی ہے۔ لیکن بعض چیزیں ہیں جن کے بارے میں میری خواہش ہے کہ وہ کسی کو بھی معلوم نہ ہوں۔ ‘

انہوں نے نگرانی کے جدید پروگرام کو امریکہ میں بنیادی شہری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کے تین سال قبل انہوں نے اپنے خطوط کو ہاتھوں سے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ یعنی یہ کام انہوں نے این ایس اے کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے نگرانی کے پروگرام کے بارے میں دستاویزات کے انکشاف سے بھی بہت پہلے شروع کر دیا تھا۔

امریکہ کے سابق صدر ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رہنما ہیں۔ اب وہ کارٹر سنٹر کے نام سے ادارہ چلاتے ہیں اور انسانی حقوق اور سیاسی معاملات میں ثالثی کی کوششیں کرتے ہیں۔

انہوں نے سنہ 1994 میں شمالی کوریا کے ساتھ جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے مذاکرات کیے اور حالیہ برسوں میں انہوں نے شامی صدر بشارالاسد سے ملاقات کے لیے شام کا دورہ بھی کیا۔

اسی بارے میں