روسی اقدامات اس کے عدم تحفظ کا مظہر ہیں:اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ non
Image caption روس ایسا طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی کمزوری کی وجہ سے کر رہا ہے: اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے یوکرین کی خود مختاری کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھا تو اسے نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دنیا کے سات ترقی یافتہ صنعتی ممالک کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کے لیے ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں موجود امریکی صدر نے منگل کو یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی روس کی معیشت کے تمام شعبوں پر اثر ڈالنے والے قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان اقدامات کی وجہ سے اگر خود امریکہ اور اس کے اتحادی متاثر ہوتے ہیں تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔

امریکہ روس کی جانب سے کرائمیا کو اپنی حصہ بنائے جانے کے بعد پہلے ہی متعدد روسی شخصیات پر پابندیاں لگا چکا ہے۔

صدر اوباما نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ روس نے یوکرین میں جو کچھ کیا ہے، وہ دراصل اس عدم تحفظ کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا، ’روس ایک علاقائی طاقت ہے۔ وہ اپنے کچھ پڑوسیوں کو دھمکا رہا ہے اور وہ ایسا طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی کمزوری کی وجہ سے کر رہا ہے۔‘

كرائميا میں روسی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’یوکرین ایک ایسا ہی ملک ہے جہاں سوویت یونین کے انتشار کے بعد دہائیوں سے روس کا بہت اثر ہے۔ ہم بھی اپنے پڑوسیوں پر اثر رکھتے ہیں لیکن ہمیں ان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے ان پر حملہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کرائمیا کو روس کا حصہ بنائے جانے سے معاملہ ختم نہیں ہوا ہے اور عالمی برادری نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے تاہم حقیقت ضرور یہ ہے کہ کرائمیا پر کنٹرول روسی فوج کا ہی ہے۔

صدر اوباما نے یوکرین سے ملحقہ سرحد پر روسی فوجیوں کی بھاری موجودگی پر فکرمندی ظاہر کی اور کہا کہ كرائميا کا معاملہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا ’یہ دھمکانے کی کوشش لگتی ہے اور ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ تاہم روس کا یہ قانونی حق ہے کہ وہ اپنی فوج کو اپنی زمین پر تعینات کرے۔‘

خیال رہے کہ دنیا کے سات بڑے صنعتی ممالک روس کی جانب سے کرائمیا کو اپنا حصہ بنائے جانے پر احتجاجاً جون میں وہاں منعقد ہونے والا دنیا کے آٹھ بڑے صنعتی ممالک کی تنظیم جی ایٹ کا اجلاس منسوخ کر چکے ہیں۔

اسی سلسلے میں جرمن چانسلر آنگیلا میرکل بھی کہہ چکی ہیں کہ جی ایٹ کا اب کوئی وجود باقی نہیں رہ گیا ہے اور اس پر روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ جی ایٹ اپنا اثر کھو چکا ہے تو یہ کوئی المیہ نہیں ہے۔

.

اسی بارے میں