شام کے قلعہ الحصن پر لگے جنگ کے زخم

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption قلعے پر کنٹرول سنبھالنے کے بعد شامی فوج اسے دیکھ رہا ہے

شام میں سرکاری فوج نے لبنان کی سرحد کے قریب واقع صلیبی دور کے تاریخی قلعے الحصن کو باغیوں سے آزاد کروا لیا ہے۔

فوج کے ایک افسر نے بتایا کہ لڑائی کے دوران 93 باغیوں کو ہلاک کیا گیا اس دوران ایک قریبی دیہات کو بھاری نقصان پہنچا۔

جمعے کو یونیسکو کی جانب سے ورثہ قرار دیے جانے والے اس قلعے میں صحافیوں کو جانے کی اجازت دی گئی۔

ایک پہاڑی کی چوٹی پر بنائے گئے اس قلعے میں بمباری سے ہونے والے نقصانات واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس میں سے کتنا نقصان قلعے کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کی گئی سرکاری فورسز کی کارروائی کی وجہ سے ہوا ہے۔

یہ قلعہ پچھلے دو برسوں سے باغیوں کے قبضے میں تھا۔ یہ گذشتہ تین برس سے شام میں جاری خانہ جنگی کے باعث خطرے سے دوچار کئی تاریخی مقامات میں سے ایک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption آٹھ سال قبل جب بی بی سی کی ٹیم یہاں دستاویزی فلم بنانے گئی تو یہ قلعہ ایسا دکھائی دیتا تھا
تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption قلعے کے بیرونی حصے آج بھی صحیح سلامت ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption لیکن قلعے کے اندر ملبہ بکھرا دکھائی دیتا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ان ستونوں کے گنبد کبھی سلامت تھے اور صحن میں ملبہ نہیں تھا
تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption گرے ہوئے ستون اور آتشزدگی کے نشانات بھی یہاں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption قلعے کے قریب ہی واقع ایک جدید عمارت کو پہنچنے والا نقصان قلعے میں ہونے والے لڑائی کی شدت ظاہر کرتا ہے