صدارتی انتخاب میں شرکت کے لیے السیسی فوجی قیادت سے مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ c
Image caption عبدالفتاح السیسی کو اگست 2012 میں مصر کا وزیرِ دفاع اور فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا

مصر کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسی نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انھوں نے اس فیصلے کا اعلان بدھ کو سرکاری ٹی وی پر کیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ان کی مقبولیت اور مقابلے میں کسی اہم امیدوار کے نہ ہونے کی وجہ سے صدارتی الیکشن میں السیسی کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں۔

فیلڈ مارشل السیسی نے جولائی 2013 میں عوامی مظاہروں کے بعد ملک کے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

بدھ کو اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ مصر کو ’دہشتگردوں سے خطرہ ہے‘ اور وہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کر دیں گے۔

مصر کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز میں انھوں نے کہا تھا کہ مصری عوام کی اکثریت چاہتی ہے کہ وہ صدر کا الیکشن لڑیں اور وہ ان مطالبوں سے پہلو تہی نہیں کر سکتے۔

عبدالفتاح السیسی کے مخالف انھیں ملک میں بڑے پیمانے پر حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے لیے ذمہ دار گردانتے ہیں اور انھیں خدشہ ہے کہ السیسی کے صدر بننے کی صورت میں ملک سے حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے صرف تین برس بعد ایک اور مطلق العنان حکومت قائم ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدارتی الیکشن میں السیسی کی کامیابی کے قوی امکانات ہیں

مصر میں صدارتی انتخاب کے لیے نامزدگی کا عمل اتوار سے شروع ہونے والا ہے تاہم حکومت نے تاحال الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

صدارتی انتخاب میں السیسی کا مقابلہ بائیں بازو کے سیاست دان حمدین صباحی سے متوقع ہے جو 2012 کے صدارتی انتخاب میں تیسرے نمبر پر رہے تھے۔ ان دونوں کے علاوہ تاحال کسی شخص نے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا خیال ظاہر نہیں کیا ہے۔

عبدالفتاح السیسی کی جگہ مصری فوج کی سربراہی اور وزیرِ دفاع کا عہدہ اب جنرل صدقی صبحی کو سونپے جانے کا امکان ہے جو کہ اس وقت مصر کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف ہیں۔

مصر کے معزول صدر اخوان المسلمین کے محمد مرسی نے عبدالفتاح السیسی کو اگست 2012 میں ملک کا وزیرِ دفاع اور فوج کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

تاہم صدر مرسی سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر عوامی مظاہروں کے بعد فیلڈ مارشل السیسی نے انھیں الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ عوامی خواہش کا احترام کریں ورنہ فوجی مداخلت کے لیے تیار رہیں۔

محمد مرسی کے مستعفی ہونے سے انکار پر عبدالفتاح السیسی نے ملک کا آئین معطل کرتے ہوئے ملک میں عبوری حکومت قائم کر دی تھی۔

اسی بارے میں